دنیا چاند پر پہنچ گئی اور مولانا حضرات؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کو ریفارمیشن(یعنی اصلاح) کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے ، انسان فضا کو مسخر کرچکا ہے لیکن اسلام کے ماننے والے وہی چودہ سو سال پرانی کتابیں بخاری ، مسلم ، ترمذی اور اسی زمانے کی تعلیمات لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آج اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق کرنے کیلئے ہمیں اسلام کا کوئی ماڈل ورژن چاہیے۔ اس سے ملتے جلتے دیگر جملے بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ آئیے ذرا اس کا گہرائی میں جاکر تجزیہ کریں۔ عرض یہ ہے کہ یہ جملہ تو بڑا مشہور ہےاور اکثر لوگوں نے سنا ہی ہوتا ہے کہ دنیا تو چاند پر چلی گئی ہے لیکن بات یہ ہے کہ بھائی صاحب ، آپ بھی چلے جائیں ، آپ کو چاند پر جانے سے کس نے منع کیا ہے؟ دین نے تو منع نہیں کیا ۔ ہاں فضول وقت ضائع کرنے کیلئے نہ جائیں بلکہ کسی کام کیلئے جائیے گا۔ لوگ چاند پر چلے گئے یا مشینوں کو مریخ پر بھیج دیا یا بہت سے دوسرے کام کرلیے تو اس کا دین کی پرانی تعلیمات سے کیا تعلق ہے؟ ہر کوئی اپنی فیلڈ میں کام کرتا ہے ، چاند پر جانا یا مریخ پر گاڑی بھیجنا سائنسدانوں کا کام ہے ، انہوں نے کردیا ، اب اسے دین کی تعلیمات کے خلاف استعمال کرنے کا کیا تُک بنتا ہے؟ اگر اس جملے کو ایسے ہی سوچے سمجھے بغیر بے موقع استعمال کرنا ہے تو آئیے ہم آپ کو کچھ اور مواقع بھی بتادیتے ہیں۔ ایک موقع تو یہ ہے کہ  صحافی خبریں جمع کرتے ، کالمز لکھتے ، تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں ، اب انہیں بھی جا کر کہنا شروع کردو کہ یار تم عجیب لوگ ہو ، دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور تم ابھی خبریں جمع کررہے ہو ، تمہیں کالم لکھنے سے فرصت نہیں ہے ، چھوڑو ان کاموں کو اور بس چاند چاند کھیلو۔

یونہی جو غریب بے چارہ موچی ہو ، جوتے گانٹھ کر روزی کماتا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہو ، اسے بھی جاکر یہ فلسفہ جھاڑنا  شروع کردو کہ بھائی  دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور تم ابھی جوتے ہی گانٹھ رہے ہو ، چلو تم بھی چاند پر چلو۔ بس یہ نہ ہو کہ وہ بندہ آگے سے کہہ دے کہ جناب ٹھیک ہے ، میں اپنا روزگار چھوڑتا ہوں ، آپ مجھے بھی چاند پر لے جائیں۔ اسی طرح جو لوگ اسکول کالجز میں تعلیم و شہریت یعنی ایجوکیشن  یا سوشل اکنامکس یا جغرافیہ پڑھاتے ہیں ، انہیں بھی جاکر کہنا شروع کردو کہ جناب ، یہ تم جغرافیہ والے کیاپڑھا رہے ہوکہ کون سا سمندر کہاں پر ہے ، کون سا دریا کہاں سے نکلتا ، گزرتا اور ختم ہوتا ہے ، ان سمندروں ، دریاؤں نے ادھر ہی رہنا ہے ، انہیں چھوڑو ، دنیا چاند پر پہنچی ہوئی ہے اور تم ابھی دریا ہی ماپتے پھر رہے ہو۔ شہریت والوں سے کہیں کہ تم ابھی ریاست کی تعریف ہی متعین کرنے میں لگے ہو کہ فلاں نے ریاست کی یہ تعریف کی ہے اور فلاں نے یہ۔ کن کاموں میں پڑے ہوئے ہو ، دنیا تو چاند پر پہنچی ہوئی ہے۔ بلکہ کچھ آگے چلیے ، ایک آدمی کی مثلاً شادی ہورہی ہو اور یہ چاند والے فلاسفر وہاں پہنچ جائیں کہ بھئی کمال ہے ، تم شادی کے پرانے چکروں میں پڑے ہوئے ہوحالانکہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے۔ وہ شادی والا پہلے تو آپ کا منہ دیکھے گا اور پھر پوچھے گا کہ جناب کون سے پاگل خانے سے مفرور ہیں۔ وہ یہی کہے گا کہ اگردنیا چاند پر پہنچ گئی تو میں کیا کروں؟ میری شادی میں کیوں کباب میں ہڈی بن رہے ہو۔

اوپر کی باتیں بظاہر مذاق لگیں گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحافی کی خبریں جمع کرنے ، موچی کے جوتے گانٹھنے ، جغرافیہ دان کے سمندر و دریا کی باتیں کرنے ، شہریت والوں کی ریاست سے متعلق گفتگوکرنے اور دولہا کی شادی سے چاند پر جانے کی بات جتنی بے جوڑ اور احمقانہ ہے ، اس سے ہزار گُنا زیادہ اِس فضول جملے کو دین کی تعلیمات سے جوڑنا احمقانہ اور باطل ہے۔ حقیقت میں تو اس کا جواب وہی ہے جو قرآنِ پاک نے ویسے ہی ایسے لوگوں کے جواب میں سکھایا ہوا ہے   وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا  کہ جب جاہل آدمی ان سے فضول ، بیہودہ ، باطل اور احمقانہ بات کرتا ہے تو ایمان والے ان سے کہتے ہیں کہ تمہیں سلام یعنی جان چھوڑو۔   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بات یہ ہے کہ جب سامنے والی کی بات کا سر پیر ہی نہ ہو ، تو وہاں کیا جواب دیا جائے۔ عقل و دانش اور فہم و شعورسے کام لیا جائے تو یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ  دنیابہت وسیع ہے اور انسانی زندگی کے ہزاروں پہلو ہیں۔ ایک انسان ہی کی زندگی کی ہزاروں ضروریات ہوتی ہیں ، اسے  لکھنے کیلئے قلم ، دور رابطے کیلئے موبائل فون ، بیٹھنے کیلئے کرسی ، لیٹنے کیلئے بیڈ ، چارپائی ، گرمی دور کرنے کیلئے اے سی یا فین ، سردی بھگانے کیلئے ہیٹراور دیگر ضروریات کےلئے نجانے کیا کیا چاہیے۔ یہ سب جسمانی ضروریات ہیں ، ان کے علاوہ روحانی و قلبی سکون کےلئے بہت کچھ چاہیے ، خاندان اور معاشرے میں زندگی گزارنی ہے تو اس کے اپنے تقاضے ہیں اور اربوں انسانوں پر مشتمل دنیا کے متعلق غور کریں گے تو زندگی کے بے شمار رنگ اور حاجتوں سے واسطہ پڑے گا اور مختلف لوگوں کو مختلف شعبے اپنا کر کام کرنا ہوگا۔ اب اگر کوئی سائنس کا مارا اور چاند چاند کا وظیفہ کرنے والا ہر جگہ یہی سوال جواب کرتا رہے  کہ ساری دنیا چاند پر پہنچی ہوئی ہے اور تم کون سے کاموں میں لگے ہوئے ہو؛ تو ایسے کو یہی سمجھایا جائے گا کہ جناب ، ہر بندہ اپنی فیلڈ اور دائرہ کارہی میں کام کرتا ہے ، کوئی بھی شخص سارے کام نہیں کرسکتا۔ اسلامی تعلیمات اور چاند پر جانے کی بات بے جوڑ ہے۔ چاند پر جانا یا اس کے لئے ریسرچ اور تیاری کرنا یادیگر سائنسی ایجادات سائنس کا موضوع ہے ، اسلام کا نہیں۔

دینِ اسلام کا موضو ع ہے کہ انسان صحیح انسان کیسے بنے؟ اس کا مقصد ِ زندگی کیا ہے؟ وہ اپنے اخلاقی ، روحانی معاملات کو کیسے درست کرے؟ ایک انسان کا دوسرے انسانوں سے اور سب سے بڑھ کر اپنے پیدا کرنے والے سے کیسا تعلق ہونا چاہیے؟ اس کے خالق ومالک کے احکام کیا ہیں اور بندے کو کس طرح ان احکام پر عمل کرنا ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے زندگی کے عام معاملات کے متعلق سماجی علوم (social sciences) والے  بات کرتے ہیں یا علم ِ شہریت( civics) والے  ریاست کے اورعوام کے باہمی تعلقات پر کلام کرتے ہیں کہ ریاست اور شہریوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں۔ سماجی علوم اور شہریت کو کسی بھی سائنسی ترقی کا نام لے کر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی یہ کہنا شروع کردے کہ سائنس کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم ابھی خاندان ، معاشرہ ، ریاست ، رعایا کے بارے میں گپیں مارنے میں لگے ہوئے ہو۔ جیسے یہ بات سراسر فضول اور غلط ہے ، ایسے ہی بلکہ اس سے لاکھوں گُنا زیادہ یہ بات باطل ہے کہ سائنسی ترقی وغیرہ کا نام لے کر خدا کے نازل کردہ احکام ، اسلامی تعلیمات اور اس کے متعلق تحقیق و جستجو اور تعلیم و تعلّم کو فضول کہا جائے ۔

بندوق ، توپ ، میزائل بنانا تو سائنس کا کام ہے لیکن اس اسلحے کو ظلم کےلئے استعمال نہ کرنا ، سائنس نہیں بتائے گی بلکہ اسلام بتائے گا۔ کیمرہ بنانا سائنس کا کام ہے لیکن اس کیمرے سے کسی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنا حرام ہے ؛یہ بتانا اسلام کا کام ہے۔ امانت و خیانت ، دیانت و بددیانتی ، اخلاق و بداخلاقی ، عدل و ظلم ، احسان و غصب ، محبت و نفرت ، دوستی و عداوت ، عفو و انتقام ، احساسِ ذمہ داری و کام چوری ، شفقت و شدت ، سخاوت و بخل ، عاجزی و تکبر ، صبر و بے صبری ، شکر و ناشکری ، قناعت و حرص ، ضبط ِ نفس و بے لگامی ، سعادت و شقاوت ، بےغرضی و غرض مندی ، خصائل و رذائل اور اس طرح کے بیسیوں اوصاف و عادت و اخلاق کا بیان سائنس نہیں کرے گی بلکہ اسلام ہی سمجھائے گا۔ کیا زندگی میں بلب ، موبائل ، اےسی ، کار ، جہاز اور چاند پر جانے کی تو اہمیت ہے لیکن اچھا انسان بننے کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر دیسی لبرل یہی سمجھتے ہیں تو یہ سمجھ اور ایسی سائنس انہی کو مبارک ہو اور اگر اچھا انسان بننا بھی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور یقیناً قطعاً ہے تو یہ اسلام ہی بتاسکتا ہے کیونکہ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اور اس خالق نے اچھا بندہ بننے کا جو طریقہ بیان کیا ہے ، اسے ’’اسلام‘‘ کہتے ہیں اور اسی کی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code