سب سےبڑاوَسیلہ!

ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے

اس سے بڑھ کر تِری سَمْت اور وَسِیلہ کیا ہے([i])

الفاظ ومعانی : سَمْت : جانب ، طرف۔ وَسیلہ : ذریعہ ، واسطہ۔

شرح : اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت   رحمۃ اللّٰہ علیہ   ربّ تعالیٰ کی بارگاہِ بے نیاز میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللّٰہ! ہم رسولُ اللّٰہ   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے اُمّتی اور غلام ہیں ، اور وہ تیرے محبوب اور پیارے نبی ہیں۔ تو اِس طرح ہم بھی تیرے ہوئے (یعنی جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے واسطے سے ہم بھی تیری رحمت کے اُمیدوار ہوئے)۔ تیری بارگاہِ عالی کا قُرب (Nearness) پانے کےلئے اِس سے بڑھ کرعُمدہ اور شاندار وَسیلہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ رسولِ اکرم   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   تو حضرتِ آدم   علیہ السَّلام  ، بلکہ سارے عالَم (All World) کے لئے عظیم ترین وَسیلہ ہیں۔

سُبْحٰنَ اللہ!امامِ عشق و محبت ، اعلیٰ حضرت   رحمۃ اللّٰہ علیہ   نے مذکورہ شعر میں منطقی اَنداز اختیار کرتے ہوئے اِنتہائی آسان پیرائے میں اِس حقیقت (Reality) کو سمجھایا ہے کہ ربُّ العٰلمین کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین ہی کی ذات سب سے بڑا اور مضبوط وَسیلہ ہے۔

علمِ مَنطق میں کسی دعوے کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دو معلوم اور تسلیم شُدہ اَقوال کو مخصوص ترتیب کے ساتھ بطورِ مقدَّمہ ملایا جاتا ہے ، پہلے مقدَّمے کو صُغریٰ اور دوسرے کوکُبریٰ کا نام دیا جاتا ہے۔ پھر اِن کے ذریعے ایک نتیجہ (Result) حاصل کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر یوں کہا جائے کہ (1)زید عطاری ہے اور (2)ہر عطاری قادری ہے۔ تو اِن دونوں باتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ زید قادری (بھی) ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت   رحمۃ اللّٰہ علیہ   نے علمِ مَنطق کا استِعمال کرتے ہوئے مذکورہ شعر کے ایک ہی مِصْرعے میں صُغریٰ ، کُبریٰ اور نتیجہ کو ذکرفرماکر اَربابِ علم و فَن کو حیران کردیا ہے۔

مذکورہ شعرمیں مَنطق کا استعمال ملاحظہ ہو :

دو مقدّمے : (صُغریٰ) : ہم ہیں اُن کے (یعنی رسولِ کریم   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے)۔ (کُبریٰ) : وہ (یعنی رسولِ کریم   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ) ہیں تیرے۔ نتیجہ : تو ہوئے ہم تیرے۔

خالق و مخلوق کے درمیان وَسیلہ : یہ حقیقت ہے کہ اَنبیا و مُرسلین   علیہمُ السَّلام   اللّٰہ پاک اور اُس کے بندوں کے درمیان واسِطہ اور وَسیلہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ امام قاضی عِیاض مالکی   رحمۃ اللّٰہ علیہ   اِرشاد فرماتے ہیں : فَالْاَنْبِیَاءُ وَالرُّسُلُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ وَسَائِطُ بَیْنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَبَیْنَ خَلْقِہٖ یعنی انبیاو رُسُل   علیہمُ السَّلام   اللّٰہ پاک اور اُس کی مخلوق کے درمیان واسِطہ و وَسیلہ ہیں۔ (الشفاء ، 2 / 95)

حضرتِ آدم   علیہ السَّلام   اور عالَم کا وَسیلہ : جب حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک   رحمۃ اللّٰہ علیہ   سے خلیفہ ابوجعفرمنصور نے دریافْت کیا کہ میں (سرکار   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے روضۂ اَقدس پر حاضری کے موقَع پر) قِبلے کی طرف مُنہ کرکے دُعا مانگوں یا سرورِ ذیشان   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی طرف رُخ رکھوں؟ تو سیِّدُنا امام مالِک   رحمۃ اللّٰہ علیہ   نے اِرشاد فرمایا : وَلِمَ تَصْرِفُ وَجْھَکَ عَنْہُ فَھُوَ وَسِیْلَتُکَ وَ وَسِیْلَۃُ اَبِیْکَ آدَمَ   علیہ السَّلام   اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی یَومَ الْقِیَامَۃِ یعنی رسولِ کریم   صلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے تم کیونکر منہ پھیرسکتے ہو؟ حالانکہ وہ تو بروزِ قیامت اللّٰہ پاک کے ہاں تمہارے اور تمہارے والد حضرتِ آدم   علیہ السَّلام   کے لئے وَسیلہ ہیں۔ (شرح الشفاء للقاری ، 2 / 72)

سب کی ہے تم تک رَسائی         بارگَہ تک تم رَسا ہو

(حدائقِ بخشش ، ص342)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*مُدَرِّس جامعۃالمدینہ ،  فیضانِ اولیا ، کراچی



([i])   یہ شعر اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان “ حدائقِ بخشش (ص171 ، مطبوعہ مکتبۃُ المدینہ) “ سے لیا گیا ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code