ذہنی دباؤ

ہم سب ہی کبھی نہ کبھی اُداسی اور بیزاری کی کیفیات سے دو چار ہوتے ہیں ،  لیکن اگر یہ اُداسی و بیزاری ایک سے دو ہفتے میں ٹھیک نہ ہو اور ہماری زندگی کے معمولات میں فرق پڑنا شروع ہو جائے تو اسے ذہنی دباؤ (Depression) کہا جاتا ہے۔

وُجوہات : (1)بعض دفعہ کُچھ معاملاتِ زندگی جو تکلیف دہ واقعات پر مُشتمل ہوتے ہیں مثلاً کسی قریبی عزیز کا اِنتقال (Death) ، طلاق(Divorce)ہو جانا ، نوکری(job) وغیرہ ختم ہو جانے کے کچھ عرصے بعد اُداسی یا مایُوسی رہنا (2)جسمانی بیماریاں مثلاً کینسر ، دل کی بیماریاں(Heart Diseases) یا ایسی تکلیف جو لمبے عرصے سے چل رہی ہو جیسے جوڑوں یا سانس کی بیماریاں (3)بعض لوگوں کو ڈِپریشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، اس کی وجہ شخصیّت بھی ہوتی ہے ، کبھی بچپن کے حالات و تَجْرِبات بھی ہوتے ہیں (4)خواتین میں مَردوں کی نسبت ڈپریشن کےزیادہ اِمکانات(chances) ہوتے ہیں۔

علامات : ضروری نہیں کہ ہر مریض میں یہ تمام علامات (Symptoms) ہوں ، لیکن اگرکسی مریض میں ان میں سے کوئی سی کم اَز کم چار علامات ہوں تو وہ ڈپریشن کا شِکار ہے : (1)اُداس اور اَفْسُرْدَہ رہنا (2)جن چیزوں میں پہلے دلچسپی ہو اُن میں دل نہ لگنا (3)جسمانی تَھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرنا (4)روزمَرَّہ کے کاموں میں توجّہ نہ دے پانا (5)اپنے آپ کو دوسروں سے کمترسمجھنا یا خود اعتمادی کا کم ہوجانا (6)اپنے آپ کو فُضول اور ناکارہ سمجھنااور ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے خود کو اِلزام دیتے رہنا (7)مستقبل(future)سے مایوس ہو جانا (8)نیند خراب ہونا (9)بھوک نہ لگنا (10)خود کشی (Suicide) کے خیالات آنا یا خودکشی کی کوشش کرنا۔

علاج : بعض دفعہ اتنا شدید ڈپریشن ہو جاتا ہے کہ علاج کے بغیر ٹھیک نہیں ہوتا ، جیسے اور بیماریوں کے مریض ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں ، اسی طرح یہ مریض بھی مدد کے مستحق ہیں نہ کہ مذاق اُڑانے اور تنقید کرنےکے۔

اگر آپ کسی اچھے ماہرِ اَمراضِ دماغ (Cycatrist) سے رابطہ کریں گے تو کُچھ عرصے کے لئے اَدوِیات بہت مددگار ثابت ہوں گی اس کے علاوہ چند تجاویز یہ ہیں : (1) اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جذباتی کیفیت کو راز نہ بنائیں  یعنی   اگر آپ نے کوئی بُری خبر سُنی یا کُچھ بُرا ہوا تو اِسے قریبی ، قابلِ اعتماد  دوست سے شیئر (share) کر لیں (2)بار بار دُہرانے ، رو لینے اور اپنے اندر کی کیفیت (situation) جو آپ غم کی وجہ سے محسوس کر رہے ہیں شیئر کرنے اور اس کے بارے میں بات کرنے سے دل کا بُوجھ ہلکا ہوجاتا ہے (3)جسمانی کام ، چہل قدمی / وَرْزِش (exercise) کرنے سے صحت اور نیند بہتر ہوجائے گی ، مصروف رہیں چاہے گھر کے کام کاج میں (4)اچھی کتابوں کا مُطالعہ کریں([1]) (5)اچھا کھانا کھائیں ، تازہ پھلوں اور سبزیوں سے وٹامنز کی کمی پوری ہوجاتی ہے (6)شراب نوشی سے دُور رہیں (کہ یہ حرام ہے) ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب پینے سے ڈپریشن کم ہوجاتا ہے ، لیکن حقیقت میں شراب نوشی سے ڈپریشن کی شدّت  زیادہ ہو جاتی ہے (7)اگر آپ کو اپنے ڈپریشن کی وجہ معلوم ہے تو اس کو لکھئےاور پھر خود غور کیجئے کہ اسے کیسے حل کیا جا سکتا ہے ، یعنی علاج بھی لکھیں (8)مایوس نہ ہوں ، اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ جن حالات سے آپ گُزر رہے ہیں ان سے اور لوگ بھی گُزر چکے ہیں ، اس سے آپ کا ڈپریشن ختم یا کم ہو جائے گا چاہے آپ کوفوراً اس کا احساس نہ ہو۔

اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے ہمیں ڈپریشن اور دیگر اَمراض سے محفوظ فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اپنا رُخ کامیابی کے سورج کی طرف کیجئے

ناکامی کے سارے سائےپیچھے رہ جائیں گے

ڈپریشن  کا روحانی علاج : فجر کی دو سنّتوں اور ظہر ، مغرب و عِشا کے فرضوں کے بعد والی دو سنتّوں میں  سُورۂ فاتحہ کے بعد قراٰنِ کریم کی آخری چھ سورتیں اس طرح پڑھئے ، پہلی رکعت میں سُورۂ کافِرُون ، سُورۂ نَصْر اور سُورۂ لَہَب اور دوسری رکعت میں سُورۂ اِخلاص ، سُورۂ فَلَقْ اور سُورۂ ناس۔ ہر سُورت کی اِبتدا میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھئے (مدّتِ علاج : تا حُصولِ شفا)۔ (مینڈک سوار بچھو ، ص27ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*سندھ گورنمنٹ ہاسپٹل ، کراچی

 

 



([1])   امیرِ اہل ِسنّت   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے رَسائل “ غصّے کا علاج ، خود کشی کا علاج ، وسوسے اور ان کا علاج “ کا مطالعہ کرنا مفید رہے گا۔

Share

Articles

Comments


Security Code