DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ghafir Ayat 78 Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳩ
اٰیاتہا 85

Tarteeb e Nuzool:(60) Tarteeb e Tilawat:(40) Mushtamil e Para:(24) Total Aayaat:(85)
Total Ruku:(9) Total Words:(1345) Total Letters:(5040)
78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠(۷۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کے احوال تم سے بیان فرمائے اور کسی کے احوال تم سے نہ بیان فرمائے اور کسی رسول کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے پھر جب اللہ کا حکم آئے گاتو سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور باطل والوں کو وہاں خسارہ ہوگا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک ہم نے آپ کی بِعثَت سے پہلے بہت سے رسول مختلف امتوں  کی طرف بھیجے اور ان میں  سے کسی کے احوال آپ سے اس قرآن میں  صراحت کے ساتھ بیان فرمائے اور کسی کے احوال قرآنِ مجید میں  تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان نہ فرمائے ۔اِن تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے نشانی اور معجزات عطا فرمائے، اس کے باوجود ان کی قوموں  نے ان سے جھگڑا کیا اور انہیں  جھٹلایا اور اس پر ان حضرات نے صبر کیا ۔گزشتہ رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا ہے کہ جس طرح کے واقعات قوم کی طرف سے آپ کو پیش آرہے ہیں  اور جیسی ایذائیں  آپ کوپہنچ رہی ہیں  پہلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ بھی یہی حالات گزر چکے ہیں  اور جیسے انہوں  نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر فرمائیں ۔( خازن ، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۷۸، ۴ / ۷۸، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۱۰۶۶، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۷۸، ۸ / ۲۱۷، ملتقطاً)

{وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ: اور کسی رسول کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے۔} یعنی کفار کے من مانے معجزے کا ظاہر نہ ہونا ایسی چیز نہیں  کہ جس کی وجہ سے نبوت پراعتراض کیا جا سکے کیونکہ کسی رسول کیلئے یہ ممکن نہیں  کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی اور معجزہ لے آئے ،لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کافروں  کے مطالبے کے مطابق آپ کا معجزات نہ دکھاناقابلِ اعتراض نہیں  ۔پھر وعید بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب کفار پر عذاب نازل کرنے کے بارے میں  اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گاتو اللہ تعالیٰ کے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی تکذیب کرنے والوں  کے درمیان سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اورجب اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا تو اللہ تعالیٰ کی آیتوں  میں  ناحق جھگڑنے اور من چاہے معجزات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے نبوت پر اعتراض کرنے والوں  کو خسارہ ہوگا۔( تفسیرکبیر ، المؤمن ، تحت الآیۃ : ۷۸، ۹ / ۵۳۳ ، ابو سعود، المؤمن، تحت الآیۃ: ۷۸، ۴ / ۴۹۹، خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۷۸، ۴ / ۷۸-۷۹، ملتقطاً)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links