DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ghafir Ayat 44 Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳩ
اٰیاتہا 85

Tarteeb e Nuzool:(60) Tarteeb e Tilawat:(40) Mushtamil e Para:(24) Total Aayaat:(85)
Total Ruku:(9) Total Words:(1345) Total Letters:(5040)
44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْؕ-وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(۴۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ، اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں ، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ: تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں  تم سے کہہ رہا ہوں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مردِ مومن نے کہا: میری باتیں  ابھی تمہارے دل پر نہیں  لگتیں  لیکن عنقریب جب تم پر عذاب نازل ہو گا تو اس وقت تم میری نصیحتیں  یاد کرو گے مگراس وقت کا یاد کرنا کچھ کام نہ دے گا ۔ یہ سن کر ان لوگوں  نے اس مومن کو دھمکی دی کہ اگر تم ہمارے دین کی مخالفت کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ برے طریقے سے پیش آئیں  گے ۔اس کے جواب میں  اس نے کہا: میں  اپنا معاملہ اللہ  تعالیٰ کو سونپتا ہوں ، بیشک اللہ تعالیٰ بندوں  کو دیکھتا ہے اور ان کے اعمال اوراحوال کو جانتا ہے (لہٰذا مجھے تمہارا کوئی ڈر نہیں )۔( خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۴۴، ۴ / ۷۳، ملخصاً)

میرا مالک نہیں  ،میرا اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی عمل کرتے وقت یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ اللہ  تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے تمام اَعمال اور اَحوال سے با خبر ہے،یہاں  اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  بعض لوگوں  کے ساتھ صحرا کی طرف نکلے ،وہاں  انہوں  نے کھانا پکایا ،جب کھانا تیار ہو گیا تو وہاں  انہوں  نے ایک چرواہے کو دیکھا جو بکریاں  چرا رہا تھا،انہوں  نے اسے کھانے کی دعوت دی تو چرواہے نے کہا:آپ کھائیں  کیونکہ میں  نے روزہ رکھا ہوا ہے۔لوگوں  نے اسے آزمانے کے طور پر کہا:اس جیسے شدید گرم دن میں  تم نے کیسے روزہ رکھا ہوا ہے؟اس نے کہا:جہنم کی گرمی اس سے زیادہ شدید ہے۔لوگ اس کی بات سن کر حیران ہوئے اور اس سے کہا:ان بکریوں  میں  سے ایک بکری ہمیں  بیچ دو،ہم تمہیں  اس کی قیمت بھی دیں  گے اور اس کے گوشت میں  سے حصہ بھی دیں  گے۔اس نے کہا:یہ بکریاں  میری نہیں  بلکہ میرے سردار اور میرے مالک کی ہیں  تو پھر میں  اسے کیسے بیچ سکتا ہوں ۔لوگوں  نے اس سے کہا:تم اپنے مالک سے یہ کہنا دینا کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے یا وہ گم ہو گئی ہے ۔اس چرواہے نے کہا:(اگر میرا مالک مجھے نہیں  دیکھ رہا تو پھر)اللہ تعالیٰ کہاں  ہے (یعنی جب وہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر میں  جھوٹی بات کیسے کہہ سکتا ہوں ) لوگ اس کے کلام سے بہت حیران ہوئے ،پھر جب وہ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے بکریوں  سمیت اس چرواہے کو خرید کر آزاد کر دیا اور وہ بکریاں  اسے تحفے میں  دیدیں ۔( روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۴۴، ۸ / ۱۸۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنا حقیقی خوف نصیب فرمائے اور ہر حال میں  اپنی نافرمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links