مخلوقِ خدا کے خیرخواہ

اللہ پاک کے آخِری نبی، محمدِ عَرَبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے دنیا میں ظُلْم و سِتَم اور ناانصافی عام تھی۔ جانور تو کیا انسان بھی اپنے کثیر حقوق سے محروم تھے۔ غلام، یتیم، عورتیں اور نَومَولُود بیٹیاں ظالموں کے ظلم کا تختۂ مشق تھیں۔ رحمتِ دوجہاں صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تشریف لاکر دنیا کو حقیقی انسانیّت کا دَرْس دیا، یتیموں، غلاموں، عورتوں، بچّوں، جانوروں الغرض جمیع مخلوقات کی اصل خیرخواہی فرمائی۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روشن تعلیمات نے ظلم و ستم کو ختم کیا اور امن و سکون سے مُعاشرے کو سَرسَبز و شاداب اور پُررونق بنا دیا۔ آئیے! آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی کے چند پہلوؤں کا تذکرہ پڑھ کر دِلوں کی تسکین کا سامان کرتے ہیں: (1)میدانِ جنگ میں بھی انسانیت کی تعلیم نبیِّ رحمت، خیرخواہِ انسانیت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیان کردہ  قوانین صرف مسلمانوں کےلئے  ہی خاص نہیں بلکہ آپ نے غیرمسلموں  کی جان و مال اور عزّت و آبرو کے تحفظ کیلئے  بھی جو حقوق بیان فرمائے ہیں ان کی نظیر کائنات میں کہیں نہیں ملتی۔ غیرمسلم جب جنگ لڑتے تو ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھتے، لیکن رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جنگ میں بوڑھوں، عورتوں، بچّوں، غیرمسُلَّح افراد اور جانوروں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ درخت اور فصلیں خراب کرنے سے منع فرمایا نیز بچّوں، بوڑھوں اور عورتوں کے تحفّظ کی خاطر رات کے وقت حملہ کرنے سے منع کیا۔(2)یتیموں کے حق میں خیرخواہی قبلِ اسلام یتیموں کے حقوق دبانا اور ان پر ظُلم ڈھانا بھی عام تھا، یہ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کی ہستی ہے جس نے یتیموں کے حق ادا کرنے، کَفالت کرنےاور ان کی وراثت ان کے سمجھدار ہونے پر انہیں سونپنے کا حکم دیا۔ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تو ان یتیموں کو بھی سینے سے لگانے اور ان کے سَروں پر دستِ شفقت پھیرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ  جنہیں ہمارے معاشرے میں بیگانے تو کیا اپنے بھی منہ لگانے کو تیار نہیں ہوتے چنانچہ ارشاد فرمایا: جس نے رِضائے الٰہی کیلئے یتیم کے سَر پر ہاتھ رکھا تواس کیلئے ہر بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرا نیکیاں ہیں۔(مسندِ احمد،ج8،ص300،حدیث:22347) (3)عورتوں کے حق میں خیرخواہی نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد سے پہلے یہ صِنْفِ نازک زمانۂ جاہلیت کی وحشیانہ رُسومات کا شکار تھی آپ نے شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے اِسے ظلم و جبر کے بھنور سے نکال کر عزّت کا تاج پہنایا  اور اپنے قول و عمل سے بیٹی ہو یا بہن، بیوی ہو یا ماں ہر ایک کے حقوق بیان فرماکر انہیں  مُعاشرے میں اہم مقام عطا فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی بیٹیوں اور اَزواج ِ مُطہّرات سے شفقت و محبت کا برتاؤ کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خَیْرُکُـمْ خَیْرُکُـمْ لِنِسَائِہٖ وَلِبَنَاتِہٖ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں اور بیٹیوں کے ساتھ اچھا ہو۔(شعب الایمان،ج 6،ص415، حدیث:8720) نیز والدین کو شفقت بھری نظر سے باربار  دیکھنے پر مقبول حج کی بشارت اور بہن کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے پر جنّت میں اپنی رَفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔(شعب الایمان،ج 6،ص186،حدیث: 7856، مسنداحمد،ج 4،ص313، حدیث: 12594) (4)بوڑھوں کے حق میں خیر خواہی رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کا یہ طُرّۂ امتِیاز ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  عمر رسیدہ افراد کو بوجھ سمجھ کر ”اولڈ ہاؤس(Old House) میں پہنچانے کے بجائے ان کی قدر و منزلت بتاتے ہوئے انہیں قابلِ عزّت اور ان کی معیت کو باعثِ بَرَکت قرار دیا ہے جیساکہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے اور جو ہمارے چھوٹوں پر رَحْم نہ کرے  اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔(معجمِ کبیر،ج8،ص227،حدیث:7895) (5)جانوروں کے حق میں خیر خواہی اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت جانور بھی ہیں۔ ان کے گوشت دودھ اور بالوں وغیرہ سے کثیر فوائد کے ساتھ ساتھ یہ مال برداری اور سواری کے کام آتے ہیں جبکہ ان کی خرید و فروخت کسبِ رداری اتھ ساتھ فوائد ان کی ان کسککحلال کا ذریعہ بھی ہے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے اور کسی بھی طرح سے انہیں اذیّت دینے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ جانور کے منہ پر مارنے، بھوکا پیاسا ذَبْح کرنے سے بھی ممانعت فرمائی، بلکہ ذَبْح کے وقت بھی تیزدھار چُھری استعمال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔

جو کچھ بیان ہوا یہ حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کا مختصر حصّہ ہے، بہرحال رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انسان کو اس کا اصل مقام دلوایا مگر صَد افسوس کہ بعض نادان اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر انسانیت کے نام پر حیوانیت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ فیضان اولیا وعلماالمدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی                                        


Share