غیراللہ سے مدد مانگنا/ مزار پر چادر چڑھانے کی مَنّت

(1)مزار پر چادر چڑھانے کی مَنّت

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے ولیُّ اللہ کے مزارپرچادر چڑھانے کی منّت مانی ہو تو کیا اسے پورا کرنا واجب ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

کسی بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے  کی منّت کوئی شَرْعی منّت نہیں کہ اس کی جنس سےکوئی واجبِ شرعی نہیں لہٰذا اس کا پورا کرنا واجب نہیں،البتّہ بزرگانِ دین کے مزارات پر چادر ڈالنا بقصدِ تبرّک مستحسن و بہتر ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

محمد ہاشم خان العطاری المدنی

(2)میت کو سرد خانہ میں رکھنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کبھی کوئی قریبی عزیز باہر کے ملک میں ہوتا ہے تو اس کو میت کا چہرہ دکھانے کے انتظار میں میّت کو سرد خانے میں رکھا جاتا ہےاوربعض اوقات لاوارث لاش سردخانے میں رکھی جاتی ہے یا مقتول کی لاش رکھی جاتی ہے،ان تمام صورتوں میں میت کو سرد خانے میں رکھنا کیسا ہے؟

نوٹ:لاوارث لاش اور مقتول کے متعلق معلومات یہ ہیں کہ اگر لاوارث لاش کو بغیر سردخانے میں رکھے دفن کردیا جائے تو اس پر کوئی گرفت نہیں ہوتی بلکہ دفن کرسکتے ہیں یونہی مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوتا ہے وہ چاہیں تو سردخانے میں رکھے بغیر دفن کردیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال میں مذکورکسی صورت میں میت کوسردخانے میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ جس چیز سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے اس چیز سے مردہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور جس طرح زندہ کو بلاوجہِ شَرْعی تکلیف دینا جائز نہیں ہے اسی طرح مردہ کوبھی بلاوجہِ شرعی تکلیف دینا جائز نہیں اورسردخانے میں اگر زندہ کو تھوڑی دیر کے لئے رکھا جائے تو اسے بھی سخت تکلیف ہوتی ہے کہ وہاں ٹمپریچر مائنس میں ہوتا ہے لہٰذا اس سے میت کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور کسی قریبی کو میت کا چہرہ دکھانا وغیرہ ایسے اعذار نہیں کہ جن کے لئے میت کو تکلیف دینا جائز ہوسکے۔

سردخانے میں رکھنے سے جو تکلیف ہوتی ہے وہ قبر پر  پیشاب، پاخانے سے ہونے والی تکلیف اور قبر پر چلنے کی تکلیف سے کہیں زیادہ ہے یہ تو بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوگا۔نیز اس میں میت کی تجہیزوتدفین میں بِلاوجہ کی تاخیرہے جوکہ ممنوع ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب                                                                                                                    مُصَدِّق

محمدعرفان مدنی                         محمدہاشم خان العطاری المدنی

(3)غیرُاللہ سے مدد مانگنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شَرْعِ متین اس بارے میں کہ کیامندرجہ ذیل اشعار پڑھنا شِرْک ہے کہ اس میں غیرُاللہ سے مددمانگی گئی ہے؟

اِمداد کُن اِمداد کُن                       اَز بَندِ غَم آزادکُن

دَر دِین ودُنیا شاد کُن                      یاغوثِ اَعظم دَستگِیر

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال میں مذکور اشعار پڑھنا شرعاً جائز ہیں،ان میں ہرگز شرک نہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں سے مددمانگنے کے جواز پر قرآن و احادیث شاہد ہیں۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان  ہے:(  اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ(۵۵) )یعنی اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ ایمان  والے جو نماز قائم رکھتے اور زکوۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔ (پ6،المائدۃ:55)

علّامہ احمد بن محمد الصاوی علیہ رحمۃ اللہ الکافی (سالِ وفات: 1241ھ) تفسیرِ صاوی میں آیت ( وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۘ-) کے تحت لکھتے ہیں: ”المراد بالدعاء العبادۃ وحینئذ فلیس فی الآیۃ دلیل علی ما زعمہ الخوارج من ان الطلب من الغیر حیا او میتا شرک فانہ جھل مرکب لان سؤال الغیر من حیث اجراء اللہ النفع او الضرر علی یدہ قد یکون واجبا لانہ من التمسک بالاسباب ولا ینکر الاسباب الا جحود او جھول ترجمہ: آیت میں پکارنے سے مراد عبادت کرنا ہے لہٰذا اس آیت میں ان خارجیوں کی دلیل نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ غیرِ خدا سے خواہ زندہ ہو یا مردہ کچھ مانگنا شرک ہے خارجیوں کی یہ بکواس جہلِ مرکب ہے کیونکہ غیر ِخدا سے مانگنا اس طرح کہ رب ان کے ذریعے سے نفع و نقصان دے، کبھی واجب بھی ہوتا ہے کہ یہ طَلَبِ اسباب سے ہے اور اسباب کا انکار نہ کرے گا مگر منکر یا جاہل۔(تفسیر صاوی،ج4،ص1550)

غیرُاللہ سے مددمانگنے کا جواز سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے چنانچہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مَروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہترجمہ: خیر اور حاجتیں طلب کرو نیک و خوبصورت چہرے والوں سے۔(معجم کبیر،ج11،ص81،حدیث:11110)

حضرت ابان بن صالح رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشادفرماتے ہیں:اذا نفرت دابۃ احدکم او بعیرہ بفلاۃ من الارض لا یری بہا احدا، فلیقل: اعینونی عباد اللہ، فإنہ سیعانترجمہ: جب تم میں سے کسی کا جانور یا اونٹ بیابان جگہ پر بھاگ نکلے جہاں وہ کسی کو نہیں دیکھتا (جو اس کی مدد کرے ) تو وہ یہ کہے ”اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو۔ تو بے شک اس کی مدد کی جائے گی۔“(مصنف ابن ابی شیبہ،ج6،ص103)

امام شیخُ الاسلام شہاب رَملی انصاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی (سالِ وفات:1004ھ)کے فتاویٰ میں ہے: ”سئل عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلان و نحو ذٰلک من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحین وھل للمشائخ اغاثۃ بعد موتہم ام لا؟ فاجاب بما نصہ ان الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء والعلماء الصالحین جائزۃ وللانبیاء والرسل والاولیاء والصالحین اغاثۃ بعد موتھمیعنی ان سے استفتاء ہواکہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیا ومرسلین واولیا و صالحین سے فریاد کرتے اور یاشیخ فلاں (یارسولَ اللہ، یاعلی، یاشیخ عبدالقادر جیلانی) اور ان کی مثل کلمات کہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟اور اولیا بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بےشک انبیا و مرسلین واولیا و علما سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعدِ انتقال بھی امداد فرماتے  ہیں۔ (فتاویٰ رملی،ج 4،ص382)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

محمد ہاشم خان العطاری المدنی

Share

Articles

Comments


Security Code