پہاڑ ہلنے لگا مگر کیوں؟

مدینۂ منوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً کے مقدّس پہاڑوں میں سے ایک مبارک و مُحبِّ رسول پہاڑ جبلِ اُحُد ہے جو دور سے دیکھنے میں سرخ رنگ کا معلوم ہوتا ہے۔حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ترجمہ: یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری،ج 3،ص45، حدیث: 4083) اس مَحبَّت کا اسے انعام یہ ملا کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اُحُدٌ رُكْنٌ مِنْ اَرْكَانِ الْجَنَّةِ یعنی اُحُد جنّت کے سُتُونوں میں سے ایک ستون ہے۔(معجمِ کبیر،ج 6،ص151، حدیث:5813)

جبلِ اُحُد کو تاریخِ اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، اس کے دامن میں غزوۂ اُحُد جیسا تاریخی مَعْرِکہ رُونُما ہوا نیز سیّدُالشّہداء حضرت سیّدنا امیرحمزہ اور دیگر شہدائےاُحُد رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین کے مزارات بھی اِسی کے دامن میں ہیں۔ اُحُد کہنے کی وجہ جبلِ اُحُد کی وجۂ تسمیہ اس کا یکتا پَن (Stand Alone) اور مدینہ کے سلسلہ ہائے کوہسار سے بِالکل علیحدہ ہونا ہے۔ محلِّ وُقُوع سطحِ سَمُندر سے 100 میٹر بلندی پر مدینۂ طیّبہ زاد ہَا اللہ شرفاً وَّ تعظیماً کے شِمالی جانب شہرِ نَبَوی سے تقریباً ساڑھے3 کلومیٹر دور واقع ہےاور تقریباً 5میل کے رقبے میں مشرق سے مغرب تک سیدھا پھیلا ہوا ہے۔فضائلمدینۃُ الرَّسول سے  نسبت کے علاوہ مَحبّتِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی اس پہاڑ کا ایک خاص وَصْف ہے جو اسے دیگر جمادات (بے جان چیزوں) سے ممتاز کرتا ہے۔ (1)حضرت سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، حضرت ابوبکر صدّیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین اُحُد پر تشریف لے گئے تو وہ ہلنےلگا۔ (بخاری،ج 2،ص524، حدیث:3675) حضرت سيّدنا علّامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی فرماتے ہیں: اس کا جُھومنا فرحت و سُرور(یعنی خوشی) کی وجہ سے تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح،ج 10،ص448، تحت الحدیث:6083) حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: پہاڑ خوشی میں وَجد کرنے اور ہلنے لگا کہ آج مجھ پر ایسے قدم آئے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے مقبول بندے، ولی ساری خَلْقت کے محبوب ہوتے ہیں ان کی تشریف آوری سے سب خوشیاں مناتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص408)(2)حضرت سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: بے شک اُحُد جنّت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر واقع ہے۔ جب تم اس پر گزرو تواس کے درخت سے کچھ کھالو اگرچہ اس کے کانٹے ہی ہوں۔(مصنّف عبد الرّزاق،ج 9،ص176، حدیث:17485)(3)حضور نبیِّ کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب تم اُحُد پر آؤ تو اس کے شُہَدا کو سلام کیا کرویہ قِیامت تک سلام کا جواب دیتے رہیں گے۔(تاریخ المدینۃ المنورۃ، ص132) اس کے درختوں سے میوہ کھایا جائے اور اگر نہ ملے تو اس کے صحرا کی گھاس ہی بطورِ تَبَرُّک حاصل کرلی جائے کہ حضرت سیّدتنا زینب (زوجۂ حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنھما) اپنی اولاد سے کہا کرتی تھیں کہ تم اُحُد پر جاؤ اور میرے لئے وہاں کی جڑی بوٹیاں لایا کرو اور اگر نباتات نہ ہوں تو گھاس ہی لے آیا  کرو ۔ (تاریخ المدینہ المنورہ، ص 84ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code