جنت کی چوڑائی/ریشم کا لباس

جنّت کی چوڑائی

سوال:جنّت کی چوڑائی کتنی ہے؟

جواب:جنّت کی چوڑائی بہت زیادہ ہے، اللہ کریم قراٰنِ پاک میں فرماتا ہے:( سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِۙ-) ترجمۂ کنزالایمان: بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنّت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ۔خزائنُ العرفان میں ہے: جنّت کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے وَرَق بناکر باہم ملادیئے جائیں تو جتنے وہ ہوں اتنی جنّت کی چوڑائی ہے پھر طُول (لمبائی) کی کیا اِنتہا۔ (تفسیر خزائن العرفان، پ27، الحدید، تحت الآیہ:21، ص997 ملخصاً) حدیثِ پاک میں ہے کہ جنّت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔(مسلم، ص811، حدیث:4915ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

وُضو کے بعد کلمۂ شہادت

سوال:وُضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر کلمۂ شہادت پڑھنے کا حکم ہے، اگر اوپر چَھت ہو تو یہ پڑھ سکتے ہیں یا اس کے لئے آسمان کی طرف دیکھنا ضَروری ہے؟

جواب:اس میں دونوں طرح کی حدیثیں ہیں، مسندِ امام احمد میں ہے: جس نے اچّھی طرح وُضو کیا پھر آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر کہا: ”اَشْهَدُ اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُه اس کے لئے جنّت کے آٹھوں دروازے  کھول دیئے جاتے ہیں جس سے چاہے اندر داخل ہو۔ (مسندِ امام احمد،ج  6،ص132،حدیث:17368)اور نَسائی شریف میں ہے: جس نے اچّھی طرح وُضو کیا، پھر کہا: ”اَشْهَدُ اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُه“ اس کے لئے جنّت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے چاہے اندر داخل ہو۔ (نسائی، ص32،  حدیث: 148) لہٰذا موقع کی مناسبت سے دونوں حدیثوں پر عمل کر لیا جائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مغرب کی نماز میں قَصْر کی نیّت کرنا کیسا؟

سوال:مُسافر نمازِمغرب قَصْر کی نیّت سے پڑھے گا یا نہیں؟

جواب:مُسافر کو مغرب کی نماز میں قَصْر کی نیّت کرنے کی

حاجت نہیں ہے کیونکہ مغرب کی نماز میں قَصْر نہیں ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

ریشم کا لباس

سوال:مَردوں کا ریشمی لباس پہننا کیسا ہے؟

جواب:بہارِ شریعت میں ہے: ریشم کے کپڑے مَرد کے لئے حرام ہیں، بدن اور کپڑوں کے درمیان کوئی دوسرا کپڑا حائل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں حرام ہیں اور جنگ کے موقع پر بھی نِرے (یعنی صرف) ریشم کے کپڑے حرام ہیں، ہاں اگر تانا سوت ہو اور بانا ریشم تو لڑائی کے موقع پر پہننا جائز ہے اور اگر تانا ریشم ہو اور بانا سوت ہو تو ہر شخص کے لئے ہر موقع پر جائز ہے۔(بہارِ شریعت،ج 3،ص410) تانا یعنی سُوت کا تاگا جو کپڑا بُننے میں لمبائی کی طرف ہو۔(فیروزاللغات، ص 364) اور بانا اس کی ضِد (یعنی اُلٹ) ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

خرگوش کھانا کیسا؟

سوال:کیا خرگوش کھانا حلال ہے؟

جواب:حلال ہے۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ،ج 20،ص322)اور اسے بھی تیز چھری سے بِسْمِ اللّٰہِ اَللہُ اَکْبَر پڑھ کر ذَبْح کریں گے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

پھوپھی کا اپنے بھتیجے کے ساتھ عمرہ پر جانا کیسا؟

سوال:کیا پھوپھی اپنے بھتیجے کے ساتھ عمرہ پر جاسکتی ہے؟

جواب:جاسکتی ہے کہ بھتیجا پھوپھی کا مَحْرم ہے اور عورت اپنے محرم کے ساتھ شَرْعی سفر کرسکتی ہے البتّہ تائی، چچی اور شوہرکےبھتیجے کے درمیان پردہ ہے لہٰذا یہ دونوں شوہر کے بھتیجے کے ساتھ شَرْعی سفر نہیں کرسکتیں اور عمرے کے لئے بھی شَرْعی سفر نہیں کرسکتیں۔ مُمانی اور شوہر کے بھانجے کا بھی یہی حکم ہے۔(پردے کے بارے میں اہم معلومات جاننے کے لئے ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ پڑھئے۔) (مدنی مذاکرہ، 4محرمُ الحرام 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

پاؤں سے رُوح نکلنا

سوال:روح جسم کے کس حصّے سے نکلنا شروع ہوتی ہے؟

جواب:پاؤں سے نکلنا شروع ہوتی ہے۔

(مراٰۃ المناجیح،ج 3،ص365 ماخوذاً) (مدنی مذاکرہ، 3محرمُ الحرام 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

سمندر کے نیچے آگ

سوال:کہا جاتا ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے، کیا یہ بات

درست ہے؟

جواب:جی ہاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن  فتاویٰ رضویہ جلد27 صفحہ 269 پر فرماتے ہیں کہ سمندر کے   نیچے آگ ہے،قراٰنِ عظیم نے فرمایا:( وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ(۶) )(ترجمۂ کنزالایمان:اور سُلگائے ہوئے سمندر کی)(پ27،الطور:6) حدیث میں ہے: اِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا (بےشک سمندر کے نیچے آگ ہے)

(مستدرک للحاکم،ج 4،ص596، حدیث: 8762) (فتاویٰ رضویہ،ج 27،ص269)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

نزع کے معنٰی

سوال:نَزْع کسے کہتے ہیں؟

جواب:نزع کا لفظی معنیٰ ہے کھینچنا۔ جاں کَنی یعنی رُوح کا بدن سے جدا ہونے کا عمل نزع کہلاتا ہے۔(اردو لغت،ج19،ص899 ماخوذاً)

نَزْعِ رُوح میں آسانی دیں

کَلِمَہ یاد دلاتے یہ ہیں

(حدائقِ بخشش، ص482)

(مدنی مذاکرہ، 3محرمُ الحرام 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

وضو کا ایک مسئلہ

سوال:اگر کوئی ایکٹر وضو کرکے ایکٹنگ کرے تو کیا وہ اسی وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب:پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ایکٹنگ کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا (اگرچہ مروّجہ ایکٹنگ کوئی اچّھا کام نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ناجائز ہے)۔(مدنی مذاکرہ، 4محرمُ الحرام 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

Share

Articles

Comments


Security Code