اعلانِ جنگ

حضور نبیِّ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ اِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى اُحِبَّهُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهٖ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهٖ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے جنگ کا اِعلان کرتا ہوں اور میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض سے زیادہ مجھے کوئی شے پسند نہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرے قریب ہوتا رہتا ہےحتّٰی کہ میں اسے اپنا مَحبوب بنا لیتا ہوں پھر جب اس سے مَحبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔(بخاری ،ج4،ص248،حدیث:6502 ) ولیُّ اللہ کون ہے؟ قراٰنِ عظیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیا کی صفات ان کلمات سے بیان فرمائی ہیں:(  اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)) ترجمۂ کنز الایمان:سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں۔( پ11،یونس: 62،63)

علّامہ بدرُالدّین عینی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صِفات کا عالِم ہو، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو۔( عمدۃ القاری،ج15،ص576، تحت الحدیث: 6502)

حضرت علّامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ والی ہوگیا کہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالیٰ کی عبادت اور مسلسل اطاعت و فرمانبرداری کا متولّی ہوجائے گُناہوں سے محفوظ رہے، پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مُراد ہے اور دوسرے کا نام سالِک یا مُرید ہے۔(مرقاۃ المفاتیح،ج 5،ص40، تحت الحدیث: 2266)دشمنِ اولیاسےاللہتعالیٰ کا اعلانِ جنگ اس حدیثِ قُدسی میں اللہ تعالیٰ نے دشمنِ اولیا سے جنگ کا اعلان فرمایا ہے اور قراٰنِ پاک میں سُود خوروں سے بھی جنگ کا اعلان ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہوپھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا۔( پ3،البقرۃ، 278،279 )

صرف انہی دو اعمال پر ایسی سَخْت وعید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں عمل بہت خطرناک ہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے جنگ فرمائے گا تو اس کا خاتمہ بُرا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنے والا کبھی فَلاح نہیں پاسکتا۔(مرقاۃ المفاتیح،ج 5،ص41،تحت الحدیث: 2266)

حدیث شریف میں جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں اس بندے کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اِلٰی آخِرِہٖ اس کی شرح میں علّامہ خَطابی فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنے اس بندے کیلئے مذکورہ اعضاء سے مُتَعَلِّقہ افعال کو آسان کردیتا ہوں اور میں اسے ان کاموں کی توفیق دیتا ہوں۔ (مرقاۃ المفاتیح،ج 5،ص41،تحت الحدیث: 2266)

حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے  ہیں: اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کُفْر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں: ایک یہ کہ ولی اﷲ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لئے استعمال نہیں کرتا، صرف میرے لئے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے، یا یہ کہ وہ بندہ فَنَا فِی اﷲ ہوجاتا ہے جس سے خُدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ایسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے کَنْعان میں بیٹھے ہوئے مِصْر سے چلی ہوئی قمیصِ یوسفی کی خوشبو سونگھ لی، حضرت سلیمان علیہ السَّلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تختِ بلقیس لاکر شام میں حاضِر کردیا۔ حضرت عمر نے مدینۂ منوّرہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔ حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قِیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالئے، یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں۔ آج نار (آگ) کی طاقت سے ریڈیو تار، وائرلیس، ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقتِ اولیا کے منکر ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح،ج3،ص308)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭دارالافتاءاہل سنت،مرکزالاولیاءلاہور

Share

Articles

Comments


Security Code