اولیاء کرام کا تقویٰ

 اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

ترجمہ:سن لو! بیشك اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62 ،63)

فرمايا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں پر بروزِ قیامت نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور یہ وہ حضرات ہیں جو ایمان و تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اولیاءِ کرام کا ذکرکرنے میں یہ بھی مقصود ہے کہ اِن مقربینِ بارگاہِ الٰہ (اللہ پاک کی بارگاہ میں خاص مقام رکھنے والوں) کی عظمت و شان کی معرفت نصیب ہو اور ان کے فیوض و برکات کے حصول کی طلب پیدا ہو نیز یہ مطلوب ہے کہ ان كی سیرت و صفات کا علم حاصل ہوتا کہ لوگ اُن کی راہ پر چلنے کی کوشش کریں۔ یہاں اولیاءِ کرام کی نمایاں ترین اور بنیادی صفت ’’تقویٰ‘‘ کے متعلق کچھ تفصیل پیش ِ خدمت ہے۔ اس کا زیادہ تر استفادہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب ’’منہاج العابدین‘‘ سے کیا گیاہے۔ تقویٰ ایک نادر خزانہ ہے کہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں جمع کر کے صرف اس ایک خصلت کے تحت رکھ دی گئی ہیں۔ تقویٰ کے فضائل قرآن و حدیث میں بکثرت بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں ان میں سے باره بیان کئے جاتے ہیں:

(1) اللہتعالیٰ نے تقویٰ کی یہ شان بیان فرمائی کہ یہ بڑی ہمت والا کام ہے،چنانچہ فرمایا: اور اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاربنو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ (پ4،  اٰل عمرٰن:186) (2)صاحبِ تقویٰ کو حفاظتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، فرمایا: اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکر و فریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔(پ4،اٰل عمرٰن:120) (3)اللہ عَزَّوَجَلَّ متقی لوگوں کی مدد فرماتا ہے اور انہیں اپنی معیت و قرب سے سرفراز فرماتا ہے: اور جان لو کہاللہپرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (پ10،التوبۃ:36)(4)متقی کوتکلیفوں سے نجات اور حلال رزق نصیب ہوتاہے۔فرمانِ الٰہی ہے: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادے گااور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔(پ28،الطلاق:2 ،3) (5)اُس کے اعمال سنوارے جاتے ہیں، فرمایا: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا۔ (پ22،الاحزاب:70،71) (6)تقویٰ اپنانے والے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، ارشادِ عالی ہے: اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔(پ22،الاحزاب:71) (7) متقی خدا کا محبوب بن جاتا ہے، فرمایا: بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ10، التوبۃ:7) (8)متقی کے نیک اعمال مقبول ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے: اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔ (پ6، المآئدة:27) (9)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قرب و مرتبہ کا معیار تقویٰ ہے جیسا کہ فرمایا: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ (پ26،الحجرات:13) (10)متقی کےلئے دنیا و آخرت میں خوش خبری ہے، فرمایا: وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔(پ11،یونس:63 ،64) (11)اہلِ تقویٰ کو اللہ کریم جہنم سے محفوظ رکھے گا، فرمایا: پھر ہم ڈر نے والوں کو بچالیں گے۔ (پ16،مریم:72) (12)اہلِ تقویٰ کو جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا نصیب ہوتا ہے، فرمایا: وہ پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (پ4،اٰل عمرٰن:133)

خوبصورت استدلال ایک بزرگ نے قرآنِ مجید سے استدلال کرتے ہوئے تقویٰ کی عظمت بہت خوبصورت انداز میں بیان فرمائی، چنانچہ بزرگ سے عرض کی گئی کہ مجھے نصیحت کیجئے۔ انہوں نے فرمایا: میں تمہیں وہ نصیحت کرتا ہوں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام اگلوں پچھلوں کو فرمائی ہے، وہ ارشاد فرماتا ہے: بیشک ہم نے ان لوگوں کو جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی تاکید فرمادی ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ (پ5،النسآء:131)یعنی آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کو اور اِس امت کو تاکید فرمائی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا تقویٰ اختیار کرو۔

تقویٰ کی حقیقت تقویٰ کے اتنے فضائل پڑھنے کے بعد دل میں شوق پیدا ہوتا ہے کہ تقویٰ کیا چیز ہے؟ اور ہم اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ لفظ  ”تقویٰ‘‘ قرآنِ مجید میں خوف و خشیت، اطاعت و عبادت اور دل کو گناہوں سے بچانے کے معنیٰ میں بیان ہوا ہے اور ان میں تیسرا معنیٰ اس کا حقیقی معنیٰ ہے کیونکہ عربی لغت میں تقویٰ کا معنیٰ تکلیف سے بچانا اور حفاظت کرنا ہے اور چونکہ تقویٰ گناہوں سے حفاظت و بچت کا ذریعہ ہے اس لئے اسے تقویٰ کہتے ہیں۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنا مختار معنیٰ یوں بیان فرماتے ہیں: میں کہتاہوں:تقویٰ ہراُس چیزسےبچنےکو کہتے ہیں جس سے تمہیں اپنے دین میں نقصان کا ڈر ہو۔

تقویٰ کی اقسام:تقویٰ کے معنیٰ سے یہ واضح ہوا کہ شرک، بدعت اور کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے بچنا تقویٰ کے بڑے بنیادی درجے ہیں کہ کفر و شرک ہمیشہ کےلئے جہنم میں داخلے کا سبب ہیں اور اس سے بڑھ کر ہلاکت وضرر (نقصان)کیا ہوگا، یونہی کبیرہ گناہ جہنم میں داخلے کاسبب ہیں اور صغیرہ گناہوں میں بھی آخرت کا نقصان ہے لہٰذا اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اِن تین چیزوں سے بچنا حصولِ تقویٰ کےلئے ضروری ہے لیکن اس کے علاوہ مشكوك و مشتبہ چیز ترک کردینا بھی تقویٰ کا اہم درجہ ہے جیسا کہ حدیث میں فرمایا: اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو شک و شبہ سے خالی ہے۔ (ترمذی،ج 4،ص232حدیث:2526) نیز فرمایا: جس نے شک و شبہ والی چیزوں سے خود کو بچالیا اس نے اپنے دین و عزت کو بچالیا۔ ( بخاری،ج 1،ص33، حدیث:52) ان تمام درجاتِ تقویٰ کے بعد ایک اور اعلیٰ درجہ ہے اور وہ یہ کہ حلال میں بھی صرف ضرورت کی حد تک استعمال کرے اور ضرورت سے زائد حلال چھوڑدے۔ یہ بھی تقویٰ ہے کیونکہ ضرورت سے زائد حلال میں مشغول و منہمک ہونا  بندے کو حرام کی جانب لے جاتا اور گناہوں پر اُبھارتا ہے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک متقین کے مرتبے تک نہیں پہنچتا جب تک یہ نہ ہو کہ ناجائز میں پڑنے کے خوف سے جائز کو بھی چھوڑ دے۔‘‘ (ترمذی،ج 4،ص205، حدیث:2459) یعنی حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے زائد ازضرورت حلال کو بھی چھوڑ دے۔

تقویٰ کا شرعی حکم:گناہ سے بچنے والی صورت میں تقویٰ فرض ہے اور اسے چھوڑنے والا عذابِ نار کا مستحق ہو گا جبکہ دوسری صورت میں تقویٰ بھلائی وادب ہے اور اسے چھوڑنے کی وجہ سےروزِ قیامت روکا جائےگا، حساب ہوگااور سرزنش و ملامت کی جائے گی۔لہٰذا جب بندہ اوپر بیان کردہ ہر قسم کا تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ کامل متقی کہلاتا ہےاور یہیں سے درجۂ ولایت کی ابتدا ہوتی ہے۔

 اب رہا یہ سوال کہ تقویٰ کیسے حاصل کیا جائے؟ تو اسے اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code