کہ فَلک وار مُریدوں پہ ہے سایہ تیرا

ربیعُ الآخر کے مہینے میں مسلمان عقیدت و احترام کے ساتھ حضور سیّدنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃُ اللہِ الاَکرم کا سالانہ عُرس مبارک (یعنی گیارھویں شریف) مناتے ہیں۔ اس مناسبت سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن کے نعتیہ دیوان ”حدائقِ بخشش“ کا ایک شعر ضروری وضاحت کے ساتھ پیشِ خدمت ہے۔

بَہْجَت اس سِر کی ہے جو بَہْجَۃُ الْاَسْرَار میں ہے

کہ فَلک وار مُریدوں پہ ہے سایہ تیرا

الفاظ و معانی بَہْجَت: خوشی۔ سِر: راز۔ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار: غوثِ پاک رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے حالات پر لکھی گئی اَوَّلین اور مُسْتَنَد ترین کتاب۔ فلک وار: آسمان کی طرح۔

شرح بَہْجَۃُ الْاَسْرَار نامی کتاب میں حضور سیّدنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃُ اللہِ الاَکرم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ ”میرا دستِ حمایت میرے مریدوں پر ایسے ہے جیسے آسمان زمین پر۔“ اس مبارک فرمان کو سُن کر آپ کے مُرید بہت خوش ہیں۔

بَہْجَۃُ الْاَسْرَار کے مصنف اس مبارک کتاب کے مصنّف حضرت سیّدنا امام اَبُوالْحَسَن علی بن یوسف لَخْمی شَطَّنَوفی شافِعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ہیں۔آپ بہت بڑے عالمِ دین و بزرگ اور بِالخصوص فنِّ قراءَت کے امام تھے۔ بڑے بڑے ائمہ و عُلَما نے ان کی شاگردی اختیار کی۔

کتاب کی اہمیت بَہْجَۃُ الْاَسْرَار ومَعْدَنُ الْاَنْوار حضور سیّدنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کے حالاتِ زندگی سے متعلّق اِبتدائی کتابوں میں سے ایک نہایت مُسْتَنَد کتاب ہے۔ دو وُجوہات کی بِنا پر اس کتاب کو اہمیّت حاصل ہے۔ (1)اس کتاب کے مُصنِّف زمانۂ اقدس حضورِپُرنور غوثُ الثَّقَلین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے نہایت قریب ہیں۔ ان کے اور غوثِ پاک کے درمیان صرف دو واسطے ہیں اور آپ غوثِ پاک کے پوتے کے فیض یافتہ ہیں۔ (2)حدیث کی کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی روایات کو سَنَد سے بیان کیا گیا ہے یعنی غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منسوب اقوال اور واقعات مُصَنِّف تک جن لوگوں کے ذریعے پہنچے ہیں ان کے نام ذکر کئے گئے ہیں۔ حالاتِ غوثِ پاک پر لکھی جانے والی اکثر کتابوں میں بَہْجَۃُ الْاَسْرَار سے اِسْتِفادہ کیا گیا ہے۔

مُریدوں کے لئے بِشارتیں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کے مذکورہ شعر میں جس فرمانِ عالیشان کی طرف اشارہ ہے، ”غوث“ کے 3حروف کی نسبت سے اس سمیت تین فرامینِ غوثیہ ملاحظہ فرمائیے: (1)مجھے تاحدِّ نظر وسیع ایک رجسٹر دیا گیا جس میں میرے اَصْحاب اور قِیامت تک ہونے والے مُریدین کے نام تھے اور کہا گیا: ان سب کو تمہارے حوالے کردیا گیا (2)مجھے میرے رب کی عزّت و جَلال کی قسم! بیشک میرا ہاتھ میرے مُرید پر ایسے ہے جیسے آسمان زمین پر (3)اگر میرا مُرید اچّھا نہیں تو کیا ہوا، میں تو اچّھا ہوں۔

 (بہجۃ الاسرار،ص 193)

بَلِیَّات و غم و اَفکار کیونکر گھیر سکتے ہیں

سَروں پر نام لیووں کے ہے پنجہ غوثِ اعظم کا

(قبالۂ بخشش، ص52)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان ،باب المدینہ کراچی                               

Share

Articles

Comments


Security Code