DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Ahzab Ayat 19 Urdu Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳢ
اٰیاتہا 73

Tarteeb e Nuzool:(90) Tarteeb e Tilawat:(33) Mushtamil e Para:(21-22) Total Aayaat:(73)
Total Ruku:(9) Total Words:(1501) Total Letters:(5686)
19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ ۚۖ-فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِۚ-فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۱۹)
ترجمہ: کنزالایمان
تمہاری مدد میں گئی کرتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم اُنہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مالِ غنیمت کے لالچ میں یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردئیے اور یہ اللہ کو آسان ہے


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ: تمہارے اوپر بخل کرتے ہوئے آتے ہیں ۔} یعنی منافقوں  کا حال یہ ہے کہ جب مسلمانوں  کو جنگ میں  ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تویہ لوگ بخل کرتے ہیں  اوراگر جیسے تیسے لڑائی میں  کچھ شرکت کرنا پڑ ہی جائے تواس وقت ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ خوف سے ان کی آنکھیں  ہی گھوم رہی ہوتی ہیں  اورجباللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مسلمان جنگ میں  فتح یاب ہوجاتے ہیں  توپھرمالِ غنیمت لینے کے لیے سب سے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جرأت کی جھوٹی داستانیں  سناتے ہوئے کہتے ہیں  کہ ہم نے اتنی بہادری دکھائی اورہماری بہادری کی وجہ سے ہی جنگ میں  کامیابی اورغنیمت ملی ہے، لہٰذا ہمیں  غنیمت میں  سے زیادہ حصہ دیاجائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ ان لوگوں  نے اگرچہ اپنی زبانوں  سے ایمان کا اقرار کیا ہے لیکن در حقیقت یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں  اورچونکہ حقیقت میں  وہ مومن نہ تھے اس لئے ان کے تمام ظاہری عمل جہاد وغیرہ سب باطل کر دیئے گئے اور عملوں  کو باطل کر دینااللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔

صرف زبانی دعوے کرنا اور وقت پر ساتھ نہ دینا منافقوں  کا کام ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ وقت پر ساتھ نہ دینا اور زبان سے محبت کا دعویٰ کرنا منافقوں  کا کام ہے جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں  اپنے مسلمان بھائی کا ساتھ دیتا ہے اور زبانی دعوے کرنے کی بجائے عملی مظاہرہ زیادہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بولنے کیلئے زبان ایک اور دیگر کام کرنے کیلئے اَعضاء دو دو دئیے ہیں  لہٰذا آدمی کو چاہیے کہ وہ کلام کم اور کام زیادہ کرے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links