حضرت سیّدنا ابوایّوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ/ شمعِ رسالت کے پروانے

تاجدارِ رسالتصلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا سفرِہجرت ختم ہوا اور مدینے میں آمد ہوئی تو جا نثاروں کا جُھرمَٹ ساتھ تھا۔ سُواری جُوں جُوں آگے بڑھتی جاتی راستے میں انصار انتہائی جوش ومَسَرَّت کے ساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر عرض کرتے: یارسولَ اللہ! آپ ہمارے گھر کو شرفِ نُزُول بخشیں مگر جانِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم ہر ایک سے فرماتے: اس کے راستے کو چھوڑ دو! جس جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ بالآخر ایک مکان کے سامنے اونٹنی بیٹھ گئی صاحب ِمکان جلدی سے آگے بڑھے اور سیّدِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا سامان اُتارا اور اٹھا کر اپنے گھر میں لے گئے۔ مدینے کے سلطان رحمتِ عالمیان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے سات ماہ یہیں قیام فرمایایہاں تک کہ مسجدِ نبوی اور اس کے آس پاس کے حُجرے تیار ہوئے تو اُمّہاتُ المؤمنین رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُنّ کے ساتھ ان حُجروں میں قیام فرما ہوگئے۔(طبقاتِ ابنِ سعد،ج1،ص183ملخصاً، سیرت ابن ہشام،ص: 198،199 ملخصاً) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مدینۂ منوّرہ میں حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے والے سب سے پہلے خوش نصیب صحابی حضرت سیّدنا ابوایوب انصاری رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تھے۔اصل نام آپ کا اصل نام خالد بن زید بن کلیب تھاجبکہ کنیت ابو ایوب  تھی۔ ہجرت سےقبل عُقبہ  کی گھاٹی میں نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے والے تقریباً 70 خوش نصیب حضرات میں آپ بھی شامل تھے۔(طبقات ابن سعد،ج3،ص368،369) پانی نیچے نہ گرنے دیا: آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ اپنے ہر قول و فعل سے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے لئے بے پناہ ادب و احترام اور عقیدت و جانثاری کا مظاہرہ کرتے، اسی لئے پہلے پہل آپ نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے لئے اوپر کی منزل پیش کی مگر تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ملاقاتیوں کی آسانی کا لحاظ فرماتے ہوئے نیچے کی منزل کو پسند فرمایا۔ ایک مرتبہ مکان کے اُوپر کی منزل پر پانی کا گھڑا ٹوٹاتوفوراً اپنا لحاف ڈال کر سارا پانی اس میں خشک کرلیا گھر میں موجود اِکلوتا لِحاف اب گیلا ہوچکا تھا (رات بھر سردی میں ٹھٹھرتے رہے ) مگریہ گَوارا نہ کیا کہ پانی بہہ کر نیچے کی منزل میں چلا جائے اور رحمتِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کو کچھ تکلیف پہنچے۔ (سیرت ابن ہشام، ص199) کہیں بے ادبی نہ ہوجائے! ایک رات آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دل میں خیال آیا کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّمنیچے کی منزل میں تشریف فرما ہوں اور ہم اُوپر! یہ خیال آتے ہی آپ اور آپ کی زوجۂ محترمہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما کونے میں سِمٹ گئے اور پوری رات یونہی گزاردی۔ صبح ہوتے ہی دربارِ نبوی میں حاضر ہوئے اور گِریہ و زاری کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے: ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ اوپر رہنے کی وجہ سے ہمارے قدموں کی خاک کا کوئی ذَرَّہ جسمِ اطہر پر نہ آجائے (اور ہمارا شمار بےادبوں میں نہ ہوجائے)، آقائے دو عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ان کی مَحبت اور گِریہ و زاری دیکھی تو اوپرکی منزل پر تشریف لے آئے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی،ج 2،ص501، مسلم، ص 874، حدیث: 5358) برتن سے برکتیں لیتے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ جانِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّمکیلئے کھانا بھیجتے اور جب برتن واپس آتے تو پوچھتے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی انگلیاں کس جگہ سے مَس ہوئیں پھر حصولِ بَرَکت کے لئے انگلیوں کے نشانِ اَقدس سے لقمہ اُٹھاتے اور کھانا کھاتے۔(مسند احمد،ج9،ص135، حدیث: 23576) دعائے نبوی ایک موقع پر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے رات بھر کاشانۂ نبوی پر پہرہ دیا، صبح ہوئی تو دعائے نبوی یوں ملی: اے اللہ! تو ابو ایوب کو اپنے حِفظ واَمان میں رکھ جس طرح اس نے میری نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔(سیرت ابن ہشام، ص442) موئے مبارک کا ادب ایک مرتبہ حضور سیّدِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم صَفا و مروہ کی سَعِی فرمارہے تھے کہ رِیش مبارک سے ایک بال جدا ہوکر نیچے کی طرف آیا آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تیزی سے آگے بڑھے اور بال مبارک زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے آپ کودُعا دی: اللہ تعالٰیتم سے ہر ناپسندیدہ بات دور کردے۔(معجم کبیر،ج4،ص172،حدیث:4048)روضۂ رسول پر حاضری ایک بار آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ آئے اور روضۂ انور پر اپنا چہرہ رکھ دیا۔ حاکم مَرْوَان نے  دیکھا تو کہا: یہ کیا کررہے ہو؟ فرمایا: میں اینٹ پتھر کے پاس نہیں آیا، رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی خدمت میں آیا ہوں۔(مسنداحمد،ج9،ص148، حدیث: 23646) حیاتِ مبارکہ  کے مختلف پہلو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ متقی پرہیز گار، با ہمت وبہادر، صبر و استقلال کے پہاڑ  اور جذبۂ جہاد سے لبریز تھے۔(اعلام للزرکلی،ج2،ص295) چنانچہ 2ہجری میں غزوات کا سلسلہ شروع ہوا توہر غزوہ میں شرکت کی اور ایک پرجوش مجاہد کی حیثیت سے آخری دَم تک ہر سال جہاد میں حصہ لیتے رہے، حضرتِ سیّدنا علیُ المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ خَوَارِج کے خلاف نہروان کی مشہور جنگ میں مُقَدَّمَۃُ الْجَیْش (فوج کے آگے چلنے والے دستے) کے سالار کی حیثیت سے شامل ہوئے۔(الاستیعاب،ج4،ص169) 50 یا 51 ہجری میں حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے ایک لشکر قُسطُنطُنیہ کی تسخیر کے لئے روانہ کیا توآپ ایک عام مجاہد کی حیثیت سے شریک ہوگئے۔(الاستیعاب،ج2،ص10) حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے دِنوں میں آپ مسجدِ نبوی میں اِمامت فرماتے رہے۔(التمہید لابن عبد  البر،ج4،ص410، تحت الحدیث: ج1،ص232) حضرت سیّدنا علیُ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کے ابتدائی  دورِ خلافت میں مدینے کے گورنر رہے۔ (الاستیعاب،ج1،ص244) وصالِ باکمال آخِری اَیَّام میں جب آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سخت بیمار ہوگئے تو مجاہدین ِ اسلام سے فرمایا: مجھے میدانِ جنگ میں لے جانا اوراپنی صفوں میں لٹائے رکھنا، جب میرا انتقال ہوجائے تو میری نعش کو قلعہ کی دیوار کے قریب دَفْن کردینا، چنانچہ 51ہجری میں دورانِ جہاد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو قُسطُنطُنیہ کے قلعہ کی دیوار کے قریب دَفْن کردیا گیا۔ ابتدا میں اندیشہ تھا کہ شاید نصرانی قبرِ مبارک کو کھود ڈالیں مگر ان پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ مزارِ اقدس کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے اور یقیناً یہ نبیِّ مختار صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی دعا کا اثر تھا کہ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ زندگی بھر مصائب و آلام سے محفوظ رہے۔ اور بعدِ وفات بھی صدیوں تک نصاریٰ آپ کی قبرِ مبارک کی حفاظت اور نگرانی کرتے رہے حتّٰی کہ قُسطُنطُنیہ پر مسلمانوں نے فتح کا جھنڈا گاڑدیا۔آج بھی ترکی حکومت کے زیرِ نگرانی آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا مزارِ اقدس اسی آن بان اور شان کے ساتھ آنے والوں کے دلوں میں سُرُور اور آنکھوں میں ٹھنڈک کا ساماں لئے ہوئے ہے۔  (کراماتِ صحابہ،ص182مأخوذاً) وسیلہ سے بارش برستی قحط سالی کے زمانے میں لوگ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی قبرِ مبارک پر حاضر ہوکر بارش طلب کرتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے طفیل پیاسی مخلوق کو سیراب کردیتا۔(طبقاتِ ابن سعد،ج3،ص370)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

حضرت سیّدنا ابوایّوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ/ شمعِ رسالت کے پروانے

ذوالقعدۃ الحرام 6 ہجری میں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک ہزار چار سو صحابۂ کرام کو اپنے  ہمراہ لےکر عمرہ کرنے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں خبر ملی کہ کفارِ مکّہ مسلمانوں سے جنگ کرنے پر آمادہ ہیں اور انہیں مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفا وتظیما میں داخل نہیں ہونےدیں گے۔ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حدیبیہ کے مقام پر ٹھہر گئے اور حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو  پیغام دے کر  مکہ مکرمہ بھیجا کہ ہم جنگ لڑنے نہیں بلکہ عمرہ اداکرنے آئے ہیں، مگر کفارِ مکہ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نظر بند کردیا اور ان کی شہادت کی افواہ پھیلا دی۔ حضور پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ببول کے ایک درخت کے نیچے مسلمانوں سے حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہکا بدلہ لینے کی بیعت لی، جسے بیعتِ رضوان کے نام سے جانا جاتاہے۔ صحابہ کی تعظیمِ رسول جب کفار مکہ کو اس بیعت کا معلوم ہوا انہوں نے صلح کا راستہ اپنانے میں عافیت سمجھی اور بات چیت کرنے کیلئے پے درپے پانچ نمائندے بھیجے، انہی میں دوسرے نمبر پر آنے والے حضرت عروہ بن مسعود بھی تھے جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، دوران گفتگو انہوں نے جو صحابہ کرام کا عشق اور اندازِ تعظیم رسول ملاحظہ کیا اسے کفارِ مکہ کے سامنے جا کر یوں بیان کیا: اے گروہ قریش! میں بڑے بڑے کروفر والے سلاطین و بادشاہوں حتی کہ قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں لیکن میں نے کسی بھی بادشاہ کے خدمت گاروں کو ایسا ادب و احترام کرتے نہیں دیکھا جیسا محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے اصحاب اُن کا ادب و احترام کرتے ہیں، وہ وضوکرتے ہیں تو ان کے صحابہ وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے بے حد کوشش کرتے ہیں  حتیٰ کہ ایسا لگتا ہے جیسے وضو کا پانی نہ ملنے کے سبب لڑ پڑيں گے،دہن یا بینی (منہ یا ناک مبارک) کا پانی ڈالتے ہیں  تو صحابہ اسے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہر ے اور جسم پر ملتے ہیں، آپ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا کوئی بال جسدِ اطہر سے جدا نہیں ہوتا تھا مگر اس کے حصول کے لئے جلدی کرتے، جب کوئی حکم دیتےہیں توصحابہ  فوراً تعمیل کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں نے ایسا لشکر دیکھا ہے جو میدانِ جنگ میں تم سب کو مار ڈالے گااور تم پر غالب آجائے گا۔(الشفاء،ج 2،ص69،مدارج النبوۃ،ج2،ص207ملخصاً)

Share

Articles

Comments


Security Code