حساب و کتاب/ ہر صحابیِ نبی جنّتی جنّتی

عقیدہ  حساب حق ہے،یعنی قراٰن و سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔ مومن ،کافر،انسان اور جنّات سب کا حساب ہو  گا سوائے اُن کے جن کا اِسْتِثْناء کیا گیا ہے۔(تحفۃ المرید علی جوہرۃ التوحید،ص413 ملتقطاً)حساب کا منکر کافر ہے۔(شرح الصّاوی علی جوہرۃ التوحید،ص378) حساب کیا ہے؟ حساب کا لغوی معنیٰ ہے شمار (Count) کرنا  اور  اصطلاحی معنیٰ ہے اللہتعالیٰ کا لوگوں کو محشر سے پلٹنے سے پہلے اُن کے اعمال پر آگاہ کرنا۔ (شرح الصّاوی علی جوہرۃ التوحید،ص376) حساب کی کیفیت ہر ایک سے حساب کی کیفیت مختلف ہوگی،کسی کا آسانی سے، کسی کا سختی سے، کسی کا خُفیہ، کسی کا اعلانیہ، کسی کا ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ اور کسی کا فضل تو کسی کا عدل کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔(تحفۃ المرید علی جوہرۃ التوحید،ص414) حساب کی سختی  فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے: ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا تو اسے اس قدر پسینہ آئے گا کہ اگر 1000پیاسے اونٹ اسے پئیں تو اچھی طرح سیراب ہو جائیں۔(مسند احمد،ج1،ص652، حدیث: 2771) اعمال میں سب سے پہلے کس چیز کا حساب ہو گا؟ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانےکےمتعلّق فیصلہ کیا جائے گا۔ (مسلم،ص711، حدیث:4381) جبکہ ایک فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیں ہے: سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ (نسائی، ص 652، حدیث: 3997) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 2،ص306) نعمتوں میں پہلے کس کا حساب؟ فرمانِ مصطفٰے  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: قیامت میں نعمتوں کے متعلّق بندے سے پہلا سوال جو ہوگا وہ یہ کہ اس سے کہا جائے گا:  کیا ہم نے تیرے جسم کو صحت نہیں بخشی اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سےسیرنہیں کیا؟ (ترمذی،ج5،ص236، حدیث: 3369) حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:یعنی دوسری نعمتوں کے مقابلہ میں ان نعمتوں کا حساب پہلے ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح،ج7،ص31) حساب سے جلد نجات پانے والا سرکار مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اے لوگو! بے شک بروز قیامت اس کی دہشتوں (یعنی گھبراہٹوں ) اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہو گا جس نے تم میں سے مجھ پر دُنیا کے اندر بکثرت درود شریف پڑھے ہوں گے۔ (فردوس الاخبار،ج5،ص277، حدیث:8175) بلا حساب جنّت میں داخلہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میری اُمّت سے 70 ہزار بےحساب جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ 70 ہزار اور اللہ کریم ان کے ساتھ تین جماعتیں اور کردے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔(بہارِ شریعت،ج1،ص143بحوالہ مسنداحمد،ج1،ص419، حدیث: 1706مفہوماً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن مجلس المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

حساب و کتاب/ ہر صحابیِ نبی جنّتی جنّتی

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:( لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰))ترجمۂ کنز الایمان:تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا ،وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللّٰہ جنّت کا وعدہ فرماچکا اوراللّٰہکوتمہارےکاموں کی خبرہے۔(پ27، الحدید:10)

اس آیتِ مقدسہ میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی دو اقسام کی گئیں  اور ان سب کے لئے حُسْنٰی یعنی جنت کا وعدہ کیا گیا۔

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-کے تحت شیخ احمد صاوی مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:”معنی یہ ہے کہ وہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو فتحِ مکہ  سے پہلے  ایمان لائے اور راہِ خدا میں خرچ کیا اور جنہوں نے فتحِ مکہ کے بعد ایمان لاکر راہِ خدا میں خرچ کیا،اللّٰہ پاک نے ان تمام سے حُسْنٰی یعنی جنت کا وعدہ فرمالیا ہے۔“ (تفسیر صاوی،ج6،ص2104)

حکیم الامّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس کے تحت فرماتے ہیں: ان(صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)کے درجے اگرچہ مختلف ہیں  مگر ان سب کا جنتی ہونا بالکل یقینی ہےکیونکہ رب وعدہ فرما چکا ہے۔تمام صحابہ عادل و  متقی ہیں کیونکہ سب سے رب نے جنت کا وعدہ فرمالیا،جنت کا وعدہ فاسق سے نہیں ہوتا۔جو تاریخی واقعہ ان میں سے کسی کا فِسق ثابت کرے وہ جھوٹا ہے،قرآن سچا ہے۔ (نور العرفان ،آیت مذکورہ کے تحت)

ہر صحابئ نبی جنّتی جنّتی        ہر صحابئ نبی جنّتی جنّتی

Share

Articles

Comments


Security Code