استقامت

اِرشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰)  (پ24، حمٓ السّجدۃ:30)

ترجمہ: بے شک جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنّت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

تفسیرآیت  میں فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اپنے ایمان کا یوں اِقرار کیا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے، پھر اس  پر ثابِت قدم رہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اترتے، انہیں تسلی و بشارتیں  دیتے  اور جنّت کی خوش خبری سناتے ہیں۔

اِستِقامت پر ہم آخِر میں کلام کریں گے، تفہیم کے لئے پہلے آیت کے بقیہ حصّے کی تشریح  پیش کرتے ہیں۔ آیت میں اَصحاب ِ اِستِقامت پر فرشتوں کے اُترنے کا تذکِرہ ہے۔ فرشتوں کا یہ اُترنا دنیا میں بھی ہوتا ہے اور موت کے وقت بھی۔

دنیا میں فرشتے اتر کر مسلمانوں کے  دلوں میں اطمینان، تسلی اور ثابِت قدمی اِلقا کرتے ہیں، انہیں ہمّت دِلاتے، حوصلہ بڑھاتے اور دشمن کے مُقابلے میں جو ش دلاتے ہیں۔ انہیں باطل کی قوّت و طاقت سے نہ ڈرنےاور راہِ حق میں دی جانے والی جانی، مالی قربانیوں پر رنج و غم نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں، ان کے د ل و دماغ  میں آخِرت کی رغبت، جنّت کی محبّت، رِضائے اِلٰہی کی عظمت اور قُرب ِ اِلٰہی کا شوق بڑھاتے ہیں۔ دنیا میں فرشتوں کے اُترنے کا بیان قرآنِ پاک  کی  سورۂ اَنفال آیت 12 میں موجود ہے:(  اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ(۱۲))(پ9، الانفال:12)ترجمہ: یاد کرو! اے حبیب! جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابِت رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر ضربیں لگاؤ۔

دنیا میں فرشتوں کا اُترنا تو واضح  ہے لیکن ہر کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ جس پر اللہ تعالیٰ خاص کَرَم فرمائے وہ دیکھ سکتا ہے۔ لیکن موت کے وقت فرشتے اُتر تے ہیں تو انسان انہیں دیکھتا ہے اور ان کی آواز بھی سنتا ہے۔ اس وقت فرشتے اسے کہتے ہیں کہ جو دنیااور دنیا والے تم  چھوڑ کر جارہے ہو ان  پر غم نہ کرو اور آخرت کی آنے والی منزلوں کا خوف نہ کرو، ہم دنیا و آخِرت میں تمہارے دوست ہیں۔ فرشتے مزید کہتے ہیں کہ تمہیں جنّت کی خوش خبری ہوجس کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا ہے اور یہ جنّت کی نعمتیں غفورٌ رَّحیم رب عزّوجلّ کی طرف سے مہمانی ہیں۔ یوں جنّت کی بشارتیں اور فرشتوں کا تسلی آمیز خطاب سنتے ہوئے صاحب ِ اِستِقامت دنیا سے رُخصت ہوجاتا ہے۔

اِستِقامت کا معنٰی ایمان، اَعمالِ صالِحہ، گناہوں سے اِجتِناب پر ڈٹے رہنا اِستِقامت کہلاتا ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِستِقامت یہ ہے کہ  ایمان ضائع نہ ہو، نیک اَعمال، مثلاً: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ترک نہ ہوں۔ تلاوت، ذِکْر، دُرود، تسبیحات و اذکار، صَدَقات و خیرات، دوسروں کی خیر خواہی وغیرہا پر ہمیشگی ہو۔ تمام گناہوں سے بچنے کی عادت پختہ رہے۔ یہ تمام چیزیں اِستِقامت میں داخل ہیں۔ البتّہ ہر اِستِقامت کا حکم جُدا ہے، جیسے: صحیح عقائد پر جمے رہنا سب سے بڑا فرض ہے۔ فرائض پر ہمیشگی بھی فرض ہے۔ گناہوں سے بچتے رہنا بھی لازم ہے اور مستحبّات کی پابندی بھی اعلیٰ درجے کا مستحب ہے۔

اِستِقامت کی قسمیں

(1)ایمان پر اِستِقامت، جیسے: حضرتِ بلال و ابوذر غفاری، سُمَیّہ، عمار بن یاسر، یاسر اور دیگر کثیر صحابۂ کِرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کہ جنہیں ایمان لانے کے بعد شدید آزمائشوں سے گزرنا پڑا لیکن وہ ایمان پر ڈٹے رہے اور آج ایمان پر اِستِقامت کا نام آتے ہی اِن مُبارَک ہستیوں کا تصوّر ذِہْن میں آجاتا ہے۔ ایمان پر اِستِقامت کی عظمت کے متعلّق نبیِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بڑا خوب صورت فرمان ہے: تین چیزیں  جس شخص میں  ہوں  وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا: (1)جسے اللہ و رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2)جو کسی آدَمی سے خاص اللہ ہی کےلیےمحبّت رکھتا ہو۔ (3) جو اسلام قبول کرنے کے بعد پھر کفر میں جانا اتنا ہی ناپسند کرے جتنا آگ میں جھونک دیا جانا ناپسند کرتا ہے۔ (بخاری،ج1،ص17، حدیث:16) (2)فرائض پر اِستِقامت یہ ہے کہ کبھی ترک نہ ہوں، جیسے: نماز کے متعلّق قرآن میں فرمایا: ( وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹))ترجمہ: اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (پ18، المؤمنون:9 ) اور فرمایا:( الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىٕمُوْنَﭪ(۲۳))ترجمہ: جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرنے والے ہیں۔ (پ29، المعارج:23) (3) مستحبات پر اِستِقامت یعنی ان پر ہمیشگی ہو، جیسے: تلاوت، ذِکْر، دُرود، صَدَقہ، حُسن ِ اَخلاق، عَفْو و  کَرَم اور تہجّد وغیرہا پر اِستِقامت۔ یہ اِستِقامت بھی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ چنانچہ نبیِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ایک فرمان میں تہجّد کی ترغیب مُلاحَظہ فرمائیں، ایک مرتبہ کچھ صحابۂ کِرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نبیِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے حضرتِ عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ تعالٰی عنہما کا تذکرہ کیا توآپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: عبدُ اللہ ایک اچّھا شخص ہے، کیا ہی اچّھا ہوتا کہ وہ تہجّد بھی ادا کرتا۔ (مسلم، ص1034، حدیث:6370) ایک موقع پر حضرتِ عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو اِرشاد فرمایا: اے عبد اللہ! تم فلاں کی طرح نہ ہونا جو رات میں قِیام کرتا (یعنی نفل نمازیں پڑھتا) تھا پھر اس نے رات میں قِیام کرنا چھوڑ دیا۔ (مسلم، ص452، حدیث:2733) مستحبات پر اِستِقامت کے حوالے سے نبیِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری،ج4،ص237، حدیث:6464)

اپنا محاسبہ

 اِستِقامت کا لفظ ہم بارہا سنتے، پڑھتے ہیں لیکن  اپنی ذات پرغور بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہمیں نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے پر اِستِقامت حاصل ہے؟ وقتی جذبات میں آکر نوافل، تلاوت، ذِکْر و دُرود اور درس و مطالعہ سب شروع کرتے ہیں لیکن چند ہی دنوں بعد جذبات ٹھنڈے اوراعمال  غائب ہوجاتے ہیں۔ یونہی ماہِ رمضان میں یا نیک اجتماع میں یا مرید ہوتے وقت گناہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرتے ہیں اور چند دن جوش و خروش سے خود کو گناہوں سے بچا بھی لیتے ہیں لیکن تھوڑے دنوں بعد وہی گناہوں کا بازار گرم ہوتا ہے اورہم  سر سے پاؤں تک گناہوں میں لتھڑے ہوتے ہیں۔ نیک ارادوں پر استقامت کا ذہن بنانے اور ثابت قدمی دکھانے میں سب سے مفید و اہم چیزقوت ِ ارادی اور  ہمت نہ ہارنا ہے۔ اس بنیادی نکتے کو ذِہْن میں بٹھالیں، اِنْ شَاءَ اللہ اِستِقامت نصیب ہوجائے گی۔

(اِستِقامت پانے کے طریقے اگلے ماہ کےمضمون میں ملاحظہ فرمائیں۔)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code