فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا<br>کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانےوالی ہے

فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا

کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانےوالی ہے

(ذوقِ نعت،ص161)

شرح قیامت کے50ہزارسالہ دن اور اس کے مختلف  مَراحِل کو منعقد کرنے  کی حکمت یہ ہے کہ تمام مخلوق پر اللہ کریم کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی شان و عظمت اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبوبیت کا مقام ظاہر ہوجائے۔قیامت کی منظر کشی قیامت کے دن زمین تانبے کی  جبکہ سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔گرمی کی شدت  کے باعث اس قدر پسینا بہے گا کہ اگر جہاز چھوڑیں تو اس میں بہنے لگیں، بھیجے (مغز)کھولتے ہوں گے، زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی۔اسی حالت میں قیامت کا آدھا دن یعنی تقریباً 25ہزار سال گزر جائیں گے لیکن حساب کتاب شروع نہ ہوگا۔ اب لوگ آپس میں مشورہ کرکے باری باری حضراتِ آدم  و نوح، ابراہیم  وموسیٰ   اورعیسیٰ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہوں میں حاضر ہوکر شفاعت کی التجا کریں گے لیکن ہر جگہ سے یہی جواب ملے گا  کہ ہم سے یہ کام نہیں ہوسکے گا،تم کسی اور کے پاس جاؤ۔آخر کارشفیع المذنبین، رحمۃ للعالمینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی خدمت میں حاضر ی اور آپ کی شفاعت کی بدولت حساب کتاب کا سلسلہ شروع ہوگا۔ (خلاصہ از فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص574، بہار شریعت،ج1،ص70) مقامِ محمود اللہربّ العزّت کے  حبیب، حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی یہ ”شفاعتِ کُبریٰ“ مؤمن، کافر، اِطاعت گزار اور گناہ گار  سب کے لئے ہے جس پر اوّلین و آخرین سب آپ کی تعریف کریں گے، اِسی کا نام ”مقامِ محمود“ ہے جس کا تذکرہ قراٰنِ کریم میں یوں کیا گیا: (عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹))(پ15،بنی اسرائیل:79)  ترجمۂ کنزالایمان: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا ربّ ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔

شانِ محبوبیامامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں قیامت کی منظر کشی کرنے کے بعد فرماتے ہیں:مسلمان بنگاہِ ایمان دیکھے اور حق جَلَّ وَعَلَا        کی یہ حکمتِ جلیلہ خیال کرے کہ کیونکراہلِ محشر کے دلوں    میں ترتیب وار انبیائے عظامعلیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی خدمت میں جانا اِلہام فرمائے گا اور دفعۃً بارگاہِ اقدس سیّدِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں حاضر نہ لائے گا کہ حضور تو یقیناً شفیع مُشَفَّع ہیں (یعنی آپ شفاعت فرمانے والے ہیں اور آپ کی شفاعت مقبول ہے)، ابتداءً یہیں آتے تو شفاعت پاتےمگراوّلین وآخرین و موافقین و مخالفین خلقُ اللہ اجمعین پرکیونکر کھلتا کہ یہ منصبِ اَفْخَم اسی سیّدِاکرم مولائے اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا حصّۂ خاصّہ ہے جس کا دامنِ رفیع جلیل ومَنِیْع تمام انبیاء ومرسلین کے دستِ ہمّت سے بلند وبالا ہے۔ پھر خیال کیجئے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں کان اس حدیث سے آشنا اور بے شمار بندے اس حال کے شناسا،عرصاتِ محشر میں صحابہ و تابعین وائمۂ محدّثین و اولیائے کاملین  وعلمائے عاملین سبھی موجود ہوں گے، پھر کیونکر یہ جانی پہچانی بات دلوں سے ایسی بُھلا دی جائے گی کہ اتنی کثیر جماعتوں میں ان طویل مدتوں تک کسی کو اصلاً یاد نہ آئے گی، پھر نَوْبَت بَنَوْبَت(باری باری) حضراتِ انبیاء سے جواب سنتے جائیں گے جب  بھی مطلق دھیان نہ آئے گا کہ یہ وہی واقعہ ہے جو سچّے مُخبر(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے پہلے ہی بتایا ہے۔ پھر حضراتِ انبیاءعلیہمُ الصَّلٰوۃُ والثَّناء کو دیکھئے، وہ بھی یکے بعد دیگرے انبیائے مابعد کے پاس بھیجتے جائیں گے، یہ کوئی نہ فرمائے گا کہ کیوں بیکار ہلاک ہوتے ہو، تمہارا مطلوب اُس پیارےمحبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پاس ہے۔ یہ سارے سامان اسی اظہار ِعظمت و اشتہار ِوجاہتِ محبوبِِ باشوکت کی خاطر ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص225)

خدا اس واسطے قائم کرے گا بزمِ محشر کو

کہ دیکھیں اوّلین و آخریں عزّت محمد کی

(قبالۂ بخشش،ص142)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code