بچے کی موت کے فضائل/عشرۂ مغفرت کی مبارک باد/مدنی کاموں کا جذبہ رکھنے والے کی حوصلہ افزائی

بچے کی موت کے فضائل

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے میٹھے میٹھے مدنی بیٹے دلشاد آرائیں!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

آصف بھائی نے یہ افسوس ناک خبر دی کہ آپ کا مدنی منّا رمضان المبارک 1439 سنِ ہجری کی دوسری رات صرف ایک دن دنیا میں سانس لے کر انتقال کرگیا، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ کریم آپ کو، میری مدنی بیٹی کو، ننھیال اور ددھیال والوں کو سب کو صبرِ جمیل و صبرِ جمیل پر اجرِ جزیل مرحمت فرمائے۔ صبرو ہمت سے کام لیجئے گا، اللہ کی رحمت بہت بڑی ہے،اِنْ شَآءَ اللہ یہ مدنی منّا آپ کا ضائع نہیں ہوگا، آپ کے لئے قیامت کا بہت بڑا ذخیرہ بنے گا۔ جو بچے دنیا سے جاتے ہیں ان کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ وہ اپنے ماں باپ کی سفارش کرکے جنت میں لے جاتے ہیں، جہنم سے آڑ بن جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ، چنانچہ مکتبۃ المدینہ کی چھپی ہوئی کتاب شرح الصدور(مترجم) سے تین مدنی پھول پیش کرتا ہوں:فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا ہر بچہ جنت میں شکم سیر و سیراب ہوتا ہے اور اللہ پاک سے عرض کرتا ہے:اے میرے رب! میرے والدین کو میرے پاس بھیج دے۔ حضرت سیّدنا خالد بن معدان علیہ رحمۃ المنَّان فرماتے ہیں:جنت میں طوبیٰ نامی ایک درخت ہے جو پورا کا پورا دودھ سے بھرے تھن کی طرح ہے، جو بھی شیرخوار بچہ مرتا ہے وہ اس درخت سے دودھ پیتا ہے اور حضرت سیّدنا ابراہیم خلیلُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام ان بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ حضرت سیّدنا عبید بن عمیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:جنت میں ایک درخت ہے اور گائے کے دودھ سے بھرے تھنوں کی طرح اس کے بھی بہت تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے غذا پاتے ہیں۔(شرح الصدور مترجم، ص 399) اللہ کریم آپ سب پر رحم کرے، رمضان المبارک کا مہینا ہے، خوب عبادت کیجئے، روزے رکھئے، نمازیں پڑھئے، تراویح پڑھئے اور زہے نصیب اللہ پاک توفیق دے تو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آکر اعتکاف کی سعادت حاصل کیجئے۔ یاد رکھئے! ایک دن کے بچے کو بھی ایصالِ ثواب ہوتا ہے۔ ایصالِ ثواب کی نیت بھی کرلیجئے آپ کو تو ثواب ملے گا مدنی منّے کو بھی ثواب ہوگا، اِنْ شَآءَ اللہ۔ ہمت کیجئے اور آجائیے۔ گھر میں سب کو سلام کہئے گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عشرۂ مغفرت کی مبارک باد

حضرت سیّدنا شیخ جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کے مزار شریف (بغدادِ مُعَلّٰی) کے متولی و امام و خطیب شیخ علی طارق الحنفی القادری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے تحریری صورت میں ایک کارڈ ڈیزائن کرکے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو رمضان المبارک کے دوسرے عَشَرہ (یعنی عَشَرۂ مغفرت) کے شروع ہونے کی مبارک باد پیش کی۔ جس پر امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انہیں دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرمایا:

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے قبلہ شیخ علی طارق حنفی قادری!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

آپ کی طرف سے ماہِ رمضان المبارک (1439ھ) کے دوسرے عشرے کی مبارک باد کا خوبصورت تحریری پیغام ملا، اللہ پاک   ماہِ رمضان المبارک کی برکتوں سے آپ کو اور مجھے مالا مال کرے اور یہ رمضان المبارک (1439ھ) ہماری حتمی مغفرت کا باعث بنے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ مجھے بتایا گیا کہ آپ کا حادثہ (Accident) ہوگیا ہے اور آپ کو شدید چوٹیں آئیں ہیں اور علاج کے لئے آپ ہند جانے کا بھی قصد کررہے ہیں۔ اللہ کریم آپ کو آپ کے وطن میں ہی شِفا ئے کامِلہ عاجِلہ نافِعہ عطا فرمائے، اور جو کچھ آپ کے جسم کو نقصان ہوا اللہ کرے کہ وہ ختم ہوجائے، اللہ پاک آپ کو صحتوں، راحتوں، عافیتوں، دینی خدمتوں بھری طویل زندگی عطا کرے۔ صبر و ہمت سے کام لیجئے گا، لَابَاْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ! لَابَاْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ! لَابَاْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ! حضور سیّدی شیخ جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کے مزارِ فائز الانوار پر میرا سلام عرض کیجئے گا اور میرے لئے وہاں پر بے حساب مغفرت کی دعا کیجئے گا۔ آپ ہمت رکھئے گا، صبر کیجئے گا اِنْ شَآءَ اللہ سب بہتر ہوجائے گا۔ اللہ پاک جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اِنْ شَآءَ اللہ اس میں آپ کی بہتری ہوگی، اللہ نے آپ کی جان بچائی یہ بھی اُس کا کرم ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ یہ تکلیفیں جو آتی ہیں یہ گناہوں کے مٹنے کا سبب بنتیں اور باعثِ ترقیِ درجات ہوتی ہیں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مدنی کاموں کا جذبہ رکھنے والے کی حوصلہ افزائی

جامعۃ المدینہ صادق آباد کے دَرَجہ خامسہ کے طالبِ علم ابراہیم عطاری23رمضان المبارک 1439ھ کو ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ایک رات زندگی و موت کی کشمکش میں گزار کر 24رمضان المبارک (1439ھ) کی صبح کو انتقال کرگئے۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مدنی مذاکرے کے درمیان جب یہ افسوس ناک خبر ملی تو آپ نے مرحوم کے لئے (Live) دعائے مغفرت کی اورلواحقین سے تعزیت بھی فرمائی۔ جس پر ان کے بڑے بھائی یاسر عرفات عطاری مدنی (مدرس جامعۃ المدینہ) نے صوتی پیغام کے ذریعے ایک اسلامی بھائی کو اپنے جذبات اور نیتوں کا اظہار کرتے ہوئے کچھ یوں کہا:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ

ہمارے دَرَجہ خامسہ کے طالبِ علم ابراہىم عطارى کے جنازے میں رکنِ شوریٰ، دىگر احباب اور اسلامى بھائى شریک تھے، اللہ تعالىٰ انہىں جزائے خىر عطا فرمائے۔ مىرے مرشدِ کرىم نے بھى دعائىں عطا فرمائىں۔ ىقىناً یہ بڑی سعادت کی بات ہے، اس موقع پر بھى اگر نىت نہ بنے تو پھر کب نىت بنے گى؟ اِنْ شَآءَ اللہُ العزیز مىں چاند رات سے مدنى قافلے مىں سفر کروں گا، اپنے بھائىوں کو بھى شرکت کراؤں گا اور تعزیت کے نام پر (بلاضرورت) بیٹھ کر وقت ضائع کرنا، گپے لگانے وغیرہ کا جو لوگوں نے رسم و رواج بنایا ہوا ہے اِنْ شَآءَ اللہ ان کو ختم کروں گا، سب کو مسجد مىں بٹھاؤں گا اور ذکر و اذکار کی ترکیب بناؤں گا، مىں خود اپنے گاؤں کے فیضانِ مدینہ گلزارِ حبىب مىں معتکفىن کى تربىت کے حوالے سے پورا وقت دوں گا، جب تک مىں اپنے گاؤں مىں ہوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سارا وقت معتکفىن کے ساتھ گزاروں گا، اس کے علاوہ جو مجھ سے اچھى اچھى نىتىں بنىں گى، مجھ سے جو ہوسکے گا مىں دعوت اسلامى کے لئے کروں گا۔ مىرى جان، مىرى آن، مىرى آبرو، مىرى آل و اولاد سب دعوتِ اسلامى پر قربان، اِنْ شَآءَ اللہ۔ مىں نے جوعرض کىا ہے اِنْ شَآءَ اللہ مىں ضرور ىہ کام کروں گا۔

اِنْ شَآءَ اللہ مىں وقتاًفوقتاً دعوتِ اسلامى کے مدنى قافلوںمىں شرکت کروں گا۔ میں باب المدىنہ سے یہ نیت کرکے اپنے گاؤں آىا تھا کہ اپنے گاؤں جا کر گاؤں گاؤں جا کر بیان کروں گا اور ذہن بناکر 126اسلامی بھائیوں کو باب المدینہ اپنے خرچے پر لے کر جاؤں گا، اِنْ شَآءَ اللہ۔ مدرس ہونے کے ناطے مىں ہاتھ جوڑ جوڑ کر عرض کروں گا کہ علمِ دىن کى راہ مىں اپنے بچوں کو ڈالىں۔ مىرى ضرور اىک سو چھبىس کى نىت تھى، نىت ہے اور رہے گى اور اِنْ شَآءَ اللہ مىں لے کر بھى آؤں گا۔ اگر اىک سو چھبىس سے زىادہ تىار ہوئے تو اِنْ شَآءَ اللہ مىں سب کا اپنى جىب سے کرایہ ادا کرکے سب کو لے کر آؤں گا۔ جتنے دن داخلہ ہونے میں لگے گے اتنے دن تک میں سب کے اخراجات اٹھاؤں گا اور جامعۃ المدینہ بھرنےکی کوشش کروں گا۔ بس مرشدِ کرىم ہم سب کو، ہمارى فىملى کو دعاؤں مىں ىاد رکھىں۔ اللہ پاک مىرے مرشدِ کرىم کے دَرَجات بلند فرمائے اور ان کا ساىہ ہمارے سروں پر تادىر قائم و دائم فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یاسر عرفات عطاری مدنی کی نیتوں اور جذبات سے متأثر ہوکر جوابی صوتی پیغام میں کچھ یوں ارشاد فرمایا:

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے میٹھے میٹھے مدنی بیٹے یاسر عرفات مدنی!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

اللہ پاک آپ کے چھوٹے بھائی مرحوم ابراہیم عطاری کو غریقِ رحمت فرمائے، بے حساب بخشے، اٰمین۔ آپ کا صوتی پیغام میں نے سنا، سُن کر جواب دینے کا میرا جذبہ بنا، مَاشَآءَ اللّٰہ! آپ کی نیتیں، آپ کا جذبہ صدکروڑ مرحبا! میں آپ کے جذبے سے بڑا متأثر ہوا ، اللہ کریم آپ کو استقامت دے، ہمارے دیگر اساتذۂ کرام و مدرِّسین کےلئے آپ کا یہ انداز لائقِ تقلید ہے۔ مَاشَآءَ اللّٰہ! اللہ پاک آپ کو دونوں جہاں کی بھلائیاں نصیب فرمائے، آپ کے سارے گھرانے کو شاد و آباد پھلتا پھولتا مدینے کے سدا بہار پھولوں کے صدقے مسکراتا رکھے، اٰمین۔ بس خوب مدنی کام کرتے رہیں، علمِ دین کی بھی خدمت کرتے رہیں، جامعۃ المدینہ کو بھی بھرتے رہیں، مدنی قافلے میں سفر بھی کرتے رہیں اور دوسروں کو مدنی کاموں کا مدنی قافلوں کا ذہن بھی دیتے رہیں۔ مَا شَآءَ اللّٰہ! مدینہ مدینہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ بے حساب مغفرت کی دعا کا ملتجی ہوں۔ آپ کے تلامذہ اور سب گھر والوں کو میرا سلام۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فیضانِ مشکل کُشا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم

حیدر کرَّار،صاحب ذوالفقار، مولا مشکل کُشا، امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علیُّ المرتضیٰ شیرِخدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکر یم کا یومِ عرس رمضان المبارک کی 21 تاریخ کو  نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ شیخِ طریقت امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے 21 رمضان المبارک 1439ھ کو یومِ علی کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی مناسبت سے  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں جلوس اور مدنی مذاکرے  کا  اہتمام فرمایا، نیز مولا علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی یاد میں اکیس سو اکیس  2121 مساجد بنانے اعلان فرمایا۔

قبولِ اسلام کی مدنی بہاریں

٭رمضانُ المبارک 1439 ھ کو جو ہانسبرگ ساؤتھ افریقہ میں ایک غیر مسلم نے  مبلغِ دعوتِ اسلامی مولانا عبدالنبی حمیدی صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس کا اسلامی نام محمد رمضان رکھا گیا۔ ٭یکم جون 2018ء کو اولڈہم (Oldham) یوکےمیں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا جس کا اسلامی نام محمد یوسف رکھا گیا۔

 

Share

Articles

Comments


Security Code