مِٹا دے ساری خطائیں مِری مٹا یاربّ/ نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے/ انبیا کو بھی اَجَل آنی ہے

حمد /مناجات

مِٹا دے ساری خطائیں مِری مٹا یاربّ

مِٹا دے ساری خطائیں مِری مٹا یاربّ

بنادے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ

بنادے مجھ کو الٰہی خلوص کا پیکر

قریب آئے نہ میرے کبھی رِیا یاربّ

اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر

کروں گا کیا جو تُو ناراض ہوگیایاربّ

گناہگار ہوں میں لائقِ جہنَّم ہوں

کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ

بُرائیوں پہ پشیماں ہوں رحم فرمادے

ہے تیرے قہر پہ حاوی تِری عطا یاربّ

میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں

حقیقی توبہ کا کردے شرَف عطا یاربّ

نہیں ہے نامۂ عطّاؔر میں کوئی نیکی

فقط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یاربّ

وسائلِ بخشش مُرَمَّم،ص78

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

 


 

 

Share

مِٹا دے ساری خطائیں مِری مٹا یاربّ/ نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے/ انبیا کو بھی اَجَل آنی ہے

نعت/استغاثہ

 

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک ان کے آستانے سے

تمہارے در کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اک عالَم

گزارا سب کا ہوتا ہے اسی محتاج خانے سے

شبِ اسریٰ کے دولھا پر نچھاور ہونے والی تھی

نہیں تو کیا غرض تھی اتنی جانوں کے بنانے سے

نہ کیوں ان کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھے

جو اپنی آنکھیں ملتے ہیں تمہارے آستانے سے

تمہارے تو وہ احساں اور یہ نافرمانیاں اپنی

ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے

زمیں تھوڑی سی دے دے بہرِ مدفن اپنے کوچہ میں

لگادے میرے پیارے میری  مٹی بھی ٹھکانے سے

نہ پہنچے ان کے قدموں تک نہ کچھ حسنِ عمل ہی ہے

حسؔن کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے

ذوقِ نعت،ص149

از برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن

 


 

Share

مِٹا دے ساری خطائیں مِری مٹا یاربّ/ نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے/ انبیا کو بھی اَجَل آنی ہے


کلام
انبیا کو بھی اَجَل آنی ہے

اَنبیا کو بھی اَجَل آنی ہے

مگر ایسی کہ فقط آنی ہے

پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات

مثلِ سابق وہی جسمانی ہے

رُوح تو سب کی ہے زندہ ان کا

جسمِ پُرنور بھی روحانی ہے

اوروں کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف

اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے

پاؤں جس خاک  پہ رکھ دیں وہ بھی

رُوح ہے پاک ہے نورانی ہے

اُس کی ازواج کو جائز ہے نکاح

اُس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے

یہ ہیں حیّ اَبَدی ان کو رضاؔ

صِدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے


Share

Articles

Comments


Security Code