وہ بزرگانِ دین جن کایوم وصال/عرس ذو القعدۃ الحرام میں ہے

ذُو الْقعدۃِ الْحرام اسلامی سال کاگیارہواں(11) مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عِظام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے 20کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ذُو الْقعدۃ ِالْحرام  1438ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا۔ مزید کا  تعارف ملاحظہ فرمائیے:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1تا7)شہدائے غزوۂ خندق:یہ غزوہ مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان مدینہ شریف میں (ایک قول کے مطابق) ذوالقعدہ 5ہجری کو ہوا۔ اس میں7صحابۂ کرام (حضرت کعب نجاری، حضرت ابوسنان خَزْرَجی، حضرت طفیل خَزْرَجی، حضرت ثعلبہ خَزْرَجی ، حضرت عبدُاللہ اَوْسی، حضرت انس اَوْسی اور سیّدالاَوْس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہم) شہید ہوئے۔ (زرقانی علی المواہب،ج 3،ص65)اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام (8)ولیِ کامل حضرتِ سیِّدُنا حُسین بن منصور حَلّاج رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت قصبہ طور ِبیضاء (صوبہ فارس) ایران میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، صاحبِ دیوان اور اکابرِ اہلِ حال اولیائے کرام سے ہیں۔ ذوالقعدہ 309ھ کو بغداد (عراق) میں جامِ شہات نوش فرمایا۔ (مرآۃ الاسرار،ص377) (9)عارفِ ربّانی، حضرت سیّد صفیُّ الدّین حقّانی گازرُونی نقوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت (صوبہ فارس) ایران میں ہوئی اور وصال 8ذوالقعدہ 436ھ کو فرمایا، مزار اُوچ شریف (تحصیل احمدپور شرقیہ ضلع بہاولپور جنوبی پنجاب) پاکستان میں ہے۔ آپ ولیِ کامل، مستجابُ الدعوات اور پیرِ حاجت کے عظیم القابات سے مُلقَّب تھے۔ سینکڑوں سالکین نے آپ سے فیض پایا۔(اقوامِ پاکستان، ص291،290) (10)قطبِ عالَم حضرت سیّدنا شیخ نورُالحق احمد چشتی نظامی پنڈوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت پنڈوہ (ضلع مالدہ مغربی بنگال) ہند میں ہوئی اور وصال 10ذوالقعدہ 818ھ کو فرمایا، مزار پنڈوہ ہند میں مرجعِ اَنام ہے۔ آپ ولی ابنِ ولی، صاحبِ کرامات اور بنگال کے مشہور اولیا میں سے ہیں۔(تحفۃ الابرار مترجم، ص231، مرآۃ الاسرار، ص1167تا1174) (11) حضرت بابا سیّد ابوالبرکات حسن بادشاہ پشاوری قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت ٹھٹھہ (باب الاسلام سندھ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین اور اکابر اولیائے پاکستان سے ہیں، تبلیغِ دین کے لئے کئی شہروں کا سفر کیا، کثیر لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا۔ 21 ذوالقعدہ 1115ھ کو وصال فرمایا، مزارِ پُرانوار یکہ توت پشاور (خیبرپختونخواہ) پاکستان میں ہے۔(تذکرہ علماءو مشائخ سرحد، ص49تا 63،  تذکرہ اولیائے پاکستان،ج 2،ص41) (12)بانیِ سلسلۂ جہانگیریہ، شیخ العارفین علّامہ سیّد محمدمخلص الرحمٰن جہانگیرشاہ قادری ابوالعلائی منعمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی  ولادت 1229ھ میں مرزاکھیل (صوبہ چٹاگانگ) بنگلہ دیش میں ہوئی۔ آپ ولیِ کامل، عالمِ دین، مُصنّفِ کُتب اور مشہور شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کا وصال12ذوالقعدہ 1302ھ میں ہوا، مزار مبارک جائے پیدائش میں مشہور ہے۔(سالنامہ معارفِ رضا 2006ء،ص213)علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (13)تلمیذِ(شاگردِ) امام ابویوسف، امامِ احناف حضرت ہلال بن یحییٰ محدّث بصری حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت دوسری صدی  ہجری میں بصرہ عراق میں ہوئی اور وصال ذوالقعدہ 245 ھ میں فرمایا، تدفین بصرہ عراق میں ہوئی۔ آپ صاحبِ اَحکامُ الوقف، بحرِ فقہ، امامِ وقت، قمرُ العلماء ہیں۔ آپ کا شمارمحدثینِ احناف اور جلیل القدر فقہاء میں ہوتا ہے۔(تاریخ الاسلام،ج18،ص528، طبقات الحنفیہ، جزء2، ص207)  (14)امام الائمہ حضرت امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 223ھ کو نیشاپور (ضلع خراسان رضوی) ایران میں ہوئی اور وصال 2 ذوالقعدہ 311ھ کو فرمایا، تدفین نیشاپورمیں ہی ہوئی۔آپ حافظِ قراٰن، محدّثِ جلیل، فقیہِ شافعی، مجتہد علی الاطلاق اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے، ”صحیح ابنِ خزیمہ“ آپ کا ہی مجموعۂ حدیث ہے۔ (النجوم الزاہرہ فی ملوک مصر والقاہرہ،ج 3،ص209، محدثین عظام حیات وخدمات،ص391، 398)  (15) شیخ الاسلام حضرت امام علی بن عمر دارِ قطنی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 306ھ میں محلہ دارِ قطْن بغداد عراق میں ہوئی اور وصال 8 ذوالقعدہ 385ھ میں ہوا اور قبرستانِ حضرت معروف کرخی بغداد میں دفن کئے گئے۔ آپ ماہرِ علمِ حدیث، عللِ حدیث، اسمائے رجالِ حدیث، امامُ المحدثین، عالمِ باعمل اور”سننِ دارِقطنی“ سمیت 80 کُتب کے مصنّف ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ، جُزء3،ج 2،ص134، 132، بستان المحدثین،ص119) (16)مؤرّخِ اسلام، حضرت امام شمسُ الدین محمد بن احمد ذہبی دمشقی حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 673ھ دمشق شام میں پیدا ہوئے۔ آپ قراٰنِ کریم کے حافظ، قرأتِ سبع کے قاری، عظیم محدّث، بہترین مؤرّخ، کثیر کُتب کے مصنّف  اور استاذُ المحدّثین ہیں۔ مشہور تصانیف میںتَارِیْخُ الْاِسْلَام“، ”وَفْیَاتُ الْمَشَاہِیْر وَالْاَعْلَام“، ”سِیَرُ اَعْلَامِ النُّبَلَاء“،”تَذْکِرَۃُ الْحُفَّاظ“، ”مِیْزَانُ الْاِعْتِدَال ہیں۔ 3ذوالقعدہ 748ھ کو آپ نے وصال فرمایا، تدفین بابِِ صغیر دمشق شام میں ہوئی۔ (سیر اعلام النبلاء،ج1،ص11، تذکرۃ الحفاظ،ج 1،ص4) (17)شیخ الاسلام امام سراجُ الدّین عمر بُلْقِینی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی  کی ولادت 724ھ موضع بُلْقِینہ ضلع محلۃ الکبریٰ (صوبہ الغریبہ) مصر میں ہوئی۔ آپ حافظِ قراٰن، مجتہدِ وقت، فقیہِ زمانہ، محدّثِ کبیر، بانیِ مدرسہ بین السیارج (باب الشعریہ) قاہرہ، کئی کُتب کے مصنّف اور اکابرین علمائے شوافع سے ہیں۔ 10ذوالقعدہ 805ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک قاہرہ (حوش الاشرف) مصر میں ہے۔(اعلام للزرکلی،ج 5،ص46، حسن المحاضرۃ،ج1،ص283) (18)استاذالعلماء حضرت علّامہ شیخ صفیُّ الدین رَدُولوی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ علوم و فنون میں ماہر، زہد و تقویٰ کے پیکر، سلطان التارکین (مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی) کے مرید و خلیفہ اور کئی کُتب کے مصنّف ہیں۔ آپ کی کتب” دستورالمبتدی“ اور شرحِ کافیہ غایۃ التحقیق‘‘ عُلَما میں معروف ہیں۔ آپ نے 13ذوالقعدہ 819ھ کو وصال فرمایا، تدفین رَدُولی (ضلع فیض آباد، یوپی) ہند میں ہوئی۔(فقہائے ہند،ج2،ص390،352) (19)شیخ الاسلام، مفتی الثقلین، امام الفروع والاصول، علّامۂ وقت شمسُ الدین ابنِ کمال احمد پاشا رومی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت دارالعلماء طوقات (مضافاتِ سیواس) شمال مشرقی ترکی میں ہوئی اور وصال 2ذوالقعدہ 940ھ کو فرمایا، تدفین استنبول (قدیم قسطنطنیہ) ترکی میں ہوئی۔آپ حافظِ قراٰن، عظیمُ المرتبت عالمِ دین، عظیم حنفی فقیہ، مفتی وقاضیِ استنبول اور 300سے زائد کُتب کے مصنّف ہیں۔ ”مجموعہ رسائلِ ابنِ کمال پاشا“ مطبوع ہے۔ (کواکب السائرہ،ج2،ص109،108، شذرات الذہب،ج8،ص258، الطبقات السنیہ،ج1،ص106) (20)امامُ المیراث حضرت علّامہ سراج احمد خانپوری چشتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1303ھ کو موضع مکھن بیلہ (تحصیل خانپورضلع رحیم یارخان، جنوبی پنجاب) پاکستان میں ہوئی۔ آپ علّامۃُ الدہر، علوم و فنون بالخصوص علمِ میراث کے ماہر، مفتیِ اسلام، استاذُالعلماء اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔ تصانیف میں کئی کُتب پر حواشی اور”سراجُ الفتاویٰ“ شامل ہیں۔ آپ نے 5ذوالقعدہ 1392ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین مقامِ پیدائش میں ہوئی۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت،ص146)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code