سمجھدار ماں(قسط:1)

تم نے مال ضائع نہیں کیا:حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ابھی اپنی والدہ کے شکمِ مبارک میں  ہی تھے کہ ان کے والدمحترم حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سرحدوں  کی حفاظت کے لئے جہاد کی غرض سے خُرَاسَان چلے گئےاور چلتے وقت زوجہ کے پاس تیس(30)ہزار دینار چھوڑ گئے۔ 27سال کے بعد آپ   واپس مدینۂ منورہ اپنے گھر آئے اور دروازہ دھکیل کر کھولا۔ حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فوراًباہر نکلے اور کہا:’’ اللہ کے بندے! کیا میرے گھر پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ”نہیں! مگر یہ بتاؤ کہ تمہیں میرے گھرمیں داخل ہونے کی جرأت کیسے ہوئی؟‘‘   پھر دونوں میں  تلخ کلامی ہونے لگی۔ اتنے میں حضرت ابوعبدالرحمٰن کی زوجۂ محترمہ  بھی آگئیں، انہوں نے اپنے شوہر کو دیکھا تو حضرت ربیعہ سے فرمایا کہ یہ تمہارے والد  اور میرے شوہر ہیں۔ یہ سُن کر دونوں  باپ بیٹے گلے ملے اور ان کی آنکھوں  سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن  فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خوشی خوشی گھر میں  داخل ہوئے ۔ جب اطمینان سے بیٹھ گئے توکچھ دیر بعد اُن کو وہ تیس ہزار دینار  یاد آئے  جو بیوی کو سونپ گئے تھے۔ بیوی سے پوچھا توسمجھدار بیوی نے عرض کی:’’میں نے انہیں سنبھال چھوڑا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس دوران مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہنچ کراپنے حلقۂ درس میں  بیٹھ چکے تھے اور تلامذہ کا ایک ہجوم آپ کے گرد جمع تھا جن میں امام مالک بن اَنس جیسے  جلیل القدر بزرگ بھی شامل تھے۔حضرتِ سیِّدُنا  فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نماز پڑھنے کے لئے مسجدِ نبوی شریف میں آئے تو اپنے بیٹے کا یہ عظیم مقام و منصب دیکھ کر فرطِ مُسرَّت میں  ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ ’’ لَقَدْ رَفَعَ اللہُ اِبْنِی یقیناً اللہ ربُّ العزَّت نے میرے بیٹے کوبڑا عظیم مرتبہ عطا فرمایاہے!‘‘نماز سے فراغت کے بعد خوشی خوشی گھر آئے اور زوجہ سے فرمایا: ’’میں نے تمہارے لختِ جگر کو آج ایسے عظیم مرتبے پر فائز دیکھا کہ اس سے پہلے میں  نے کسی علم والے کو ایسے مرتبے پر نہیں  دیکھا۔‘‘ زوجۂ محترمہ نے پوچھا :’’آپ کو اپنے تیس ہزار دینار چاہئیں یا اپنے بیٹے کی یہ عظمت ورفعت!“  آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے  فرمایا:خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے اپنے نورِ نظر کی شان درہم ودینار سے زیادہ پسند ہے۔ وہ کہنے لگیں:میں  نے وہ سارا مال آپ کے بیٹے کی تعلیم وتربیت پر خرچ کردیا ہے۔یہ سُن کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے زندہ دلی سے فرمایا: ’’خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تم نے اس مال کو ضائع نہیں کیا۔‘‘( تاریخ بغداد،ج 8،ص421)

سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ !نیک بخت ماں نے کس طرح اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور اس کی دینی تعلیم پر دینار خرچ کرکے اُسے اپنی اور اس کے والد کی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔  بچوں کی صحیح اسلامی تربیت اور ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے اقدامات ماں اور باپ دونوں کے ذمّہ ہیں، بہت ساری ذمّہ داریاں ماں اور باپ دونوں کے سپرد ہیں جن کا بیان ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“شعبان المعظم، رمضان المبارک اور شوال المکرم 1439ھ کے شماروں میں باپ کی ذمّہ داریوں کے تحت  قسط وار ہوا، جبکہ بچّوں کی تربیت کے بہت سارے پہلو ایسے ہیں جن میں ماں کا امتیازی کردار شامل ہوتاہے۔ اولاد کی صحیح مَدَنی تربیت کے لئے ایک ماں کا کردار کیسا ہونا چاہئے؟ اس حوالے سے درج ذیل مدنی پھولوں کو غور سے پڑھئے:بچپن میں تربیت اور ماں کی ذمّہ داریاں ٭بچّوں کے اثر لینےکا سلسلہ حمل ہی سے شروع ہو جاتا ہے لہٰذا ماں کو چاہئے کہ دورانِ حمل بھی فلموں، ڈراموں سے دُور رہےاور عبادت، تلاوت، ذِکر و دُرُود میں خود کو مشغول رکھے تاکہ بچّے پر مثبت اثرات ہی پڑیں۔ ٭پیدائش کے بعد بچّے کا جس شخصیت سے زیادہ رابطہ رہتا ہے وہ ماں ہی ہے۔ اگر ماں بچّے کو دودھ پلانے کے عرصہ میں بھی شرعی اور اَخلاقی اقدار کی پابندی کرے تو بچّے پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ دودھ پلاتے وقت باوُضو ہونا، ذکرِ خدا کرنا یہ سب بچّے کے کردار کو اچھا بنانے میں اَہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٭اکثر مائیں لوری تو دیتی ہی ہیں مگراُ نہیں چاہئے کہ اس میں غلط اور فضول الفاظ  کے بجائے حمد، نعت اور منقبت سنائیں  کہ اس سے بھی اولاد پر مثبت اثرات مرتّب ہونگے۔ بچّے جب روتے ہیں تو بعض مائیں چُپ کرانے کے لئے مَعَاذَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ موبائل یا ٹی وی وغیرہ پر میوزک چلادیتی ہیں، ایسا کرنا جہاں گناہ ہے وہیں بچّوں کا مستقبل بربادکرنے کا اقدام ہے کیونکہ بچّوں کا دماغ  خالی تختی کی مانند ہوتاہے، جیسا دیکھیں اورسنیں گے وہی نقش ہوگا۔ ٭بچّہ بولنا شروع کرے تو  ماں کو چاہئے کہ سب سے پہلے اللہ کا نام سکھائے، اذان کی طرف متوجّہ کرے،کلمۂ طیبہ، بِسمِ اللہ، الحمدُللہ اور السلام علیکم جیسے چھوٹے اور بابرکت الفاظ نہ صرف سکھائے بلکہ مناسب موقعوں پر انہیں دہراتی بھی رہے۔ ٭بعض مالدار مائیں اپنے بچّوں کو نوکروں، خادماؤں اور ڈرائیوروں کے سپرد کرکے اپنی ذمّہ داری سے سُبکدوش ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگرچہ ان لوگوں کا تعاون حاصل کرنا بعض دفعہ مجبوری ہوسکتا ہے مگر بچّوں کو اپنی محبت سے محروم کردینا عقلمندی نہیں۔ جو حقیقی پیار، محبت، مُوَدَّت اور شفقت ماں باپ کی آغوش میں اولاد کو مل سکتی ہے، وہ پرائے ہاتھوں میں کہاں ؟ مائیں بچّوں کا خود خیال رکھیں اور مجبوری کے وقت نوکروں اور خادماؤں سے مدد لیں۔ ٭ چھوٹے بچّے عموماً ماں کے ہاتھ سے کھاتے ہیں یا پھر ماں کے پاس کھاتے ہیں، اس لئے ماں کو چاہئے کہ  انہیں بِسمِ اللہشریف پڑھ کر شروع کرنے اور  سیدھے ہاتھ سے کھانے کی تربیت دے اور کھانا گرانے سے  بچنے کا ذہن بنائے۔٭بچّوں پر چیخنا چلّانا، چھوٹی چھوٹی شرارتوں پر اُنہیں مارنا، ہر چھوٹی بڑی بات پر بچّوں کے باپ سے شکایتیں کرنا اور ڈانٹ پلوانا بہت نامناسب ہے، اس طرح بچّوں کے دل سے ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا بھی رُعب و لحاظ جاتارہتاہے۔ ٭آج کی ماؤں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو بچّوں کو کم اور اسمارٹ فون، سوشل میڈیا وغیرہ کو زیادہ وقت دیتی ہیں، نتیجۃً بچّے بھی ماں کے بغیر وقت گزارنا سیکھ جاتے اور بعض اوقات تو غلط صحبت میں پڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا ماں کو چاہئے کہ موبائل وغیرہ کا استعمال ضروری حد تک رکھے تاکہ بچّوں کی درست مَدَنی تربیت کرسکے اور اپنا بُڑھاپا سُکون سے گزار سکے۔٭بچّے شرارتیں کیا ہی کرتے ہیں، ماں  کو چاہئے کہ انہیں پیار محبت سے سمجھائے، کبھی بھی لَعْن طَعْن اور پھٹکار نہ کرے، کیا پتا کون سا وقت مقبولیت کا ہو! ٹانگ کٹ گئی: منقول ہے ”زَمَخْشَری“ (جو کہ معتزلی فرقے کا عالم تھا اس) کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ، لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے، ہوا یوں کہ میں نے بچپن میں ایک چڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں دھاگا باندھ دیا، اِتفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دَراڑ (Crack) میں گُھس گئی، مگر دھاگا باہر ہی لٹک رہا تھا ، میں نے دھاگا پکڑ کر بے دردی سے کھینچا تو چڑیا پھڑکتی ہوئی باہر نکل پڑی، مگربے چاری کی ٹانگ دھاگے سے کٹ چکی تھی، میری ماں یہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددعا نکل گئی: ’’جس طرح تونے اِس بے زُبان کی ٹانگ کاٹی ہے، اللہ تعالیٰ تیری ٹانگ کاٹے۔‘‘ بات آئی گئی ہو گئی،کچھ عرصے  بعد تعلیم حاصل کرنے کےلئے میں نے ’’بخارا ‘‘ شہر کا سفر کیا،  راستے میں سواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی،’’ بخارا‘‘ پہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی اور ٹانگ کٹوانی پڑی۔ (اوریوں ماں کی بددعا پوری ہوئی) (حَیاۃُ الحَیَوان،ج2،ص163)

بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code