بزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت اور امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے انمول مدنی پھول

باتوں سے خوشبو آئے

انسانی قَد اور عَقْل کس عُمْر تک بڑھتی ہے؟

(1)ارشادِ حضرت سیّدنا علیُ المرتضیٰ شیرِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم :انسان کا قد 22سال جبکہ عقل 28 سال کی عمر تک بڑھتی ہے،اس کےبعدمرتےدم تک تجرِبات کاسلسلہ رہتا ہے۔ (الکواکب الدریۃ،ج1،ص102)

ہنستے ہوئے داخلِ جنّت ہونے کا نسخہ

(2)ارشادِ حضرت سیّدنا ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ:جو چاہتا ہے کہ وہ ہنستا ہوا جنّت میں داخل ہو اسے چاہئے  کہ اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ پاک کے ذِکْر سے تَر رکھے۔(الکواکب الدریۃ،ج1،ص117)

گناہ کا چھوٹا ہونا نہ دیکھو

(3)ارشادِ حضرت سیّدنا بلال بن سعد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: گناہ کا صغیرہ ہونا نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو  کہ نافرمانی کس کی ہے؟ (الکواکب الدریۃ،ج1،ص242)

انسانی قَلْب کے لئے نفع بخش بات

(4)ارشادِ سیّدنا احمد بن حرب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:نیکوں سے محبت  رکھنا، ان  کے پاس بیٹھنا، ان کی صحبت میں رہنا، ان کے اَفعال واَقوال دیکھ کر عمل کرنا،انسانی قَلْب (دل)کیلئے اس سے زیادہ کوئی بات نافِع (نفع بخش) نہیں۔(تنبیہ المغترین،ص41مفہوماً)

مشورہ کیا دیں؟

(5)ارشادِ سیّدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:جب کوئی شخص تم سے مشورہ طلب کرے تو اسے اسی بات کامشورہ دو جس کے متعلق تمہیں علم ہو۔(مناقب امام اعظم للکردری ،ج2،ص118)

غصّے کو  اپنے اوپر سوار کرنے کا نتیجہ

(6)ارشادِ سیّدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالی:غصّے کو اپنے اوپر سوار کرنے سے دل میں نامناسب اُمورپیداہوجاتے ہیں، مثلاً چِھچوراپن، تکبُّر، گَھمَنڈ، خُودپَسندی اور گالی گلوچ کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، انہیں حقیر جاننااورظلم جیسی بُری صِفات جَنْم لیتی ہیں۔( احیاء العلوم،ج3،ص14)

دورانِ گفتگو کس بات کا خیال کریں؟

(7)ارشادِ سیّدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: دورانِ گفتگواس بات کا خیال رکھنا کہ نہ تیری آواز ضَرورت سے زیادہ بلندہو اورنہ گفتگومیں چیخ وپکار ہو۔(مناقب امام اعظم للکردری،ج2ِ،ص116)

دنیا آخِرت کی کھیتی  ہے

(8)ارشادِ سیّدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالی:دنیا آخِرت کی کھیتی اور ہدایت حاصل کرنے کی جگہ ہے۔(احیاء العلوم ،ج3ِ،ص7)

احمد رضا کا تازہ گُلستاں ہے آج بھی

جنات سے گفتگو کی خواہش

(1)جنّوں سےمُکالَمہ(گفتگو)کی خواہش اور مُصاحَبَت (صحبت، company) کی تمنّا (میں)اصلاً خیر نہیں(کوئی بھلائی نہیں)، کم سے کم جو اس کا ضَرَر(نقصان) ہے یہ کہ آدمی مُتَکَبِّر ہوجاتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص606)

علمائے کرام کی ضَرورت

(2)علمائے شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ہر آن ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والے کو اور زیادہ۔

(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص535)

اپنی تعریف کو پسند کرنے کی آفت

(3)حُبِّ ثنا(اپنی تعریف کو پسند کرنا) غالباً (اکثر)خصلتِ مَذمُومہ (بُری صفت) ہے اور کم ازکم کوئی خصلتِ محمودہ(اچھی صفت) نہیں اوراس کےعواقِب(نتائج)خطرناک ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص596)

مَرد و عورت کی ایک دوسرے سے مشابہت

(4)کسی ایک بات میں بھی مرد کو عورت،عورت کو مرد کی وَضْع لینی(مشابہت اختیار کرنی)حرام ومُوجِبِ لعنت ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص602)

غلطی کو معاف کرنے میں تاخیر

(5)معافیِتَقْصِیر (غلطی کو معاف کرنے)میں کبھی تاخیر ہی  مصلحت ہوتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص606)

علمِ دین کے بغیر عبادت و ریاضت کرنا

(6)بے علم مجاہدہ(علمِ دین کے بغیر عبادت و ریاضت کرنے) والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتا ہے،منہ میں لگام،ناک میں نکیل ڈال کرجدھر چاہے کھینچے پھرتا ہے وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا اور وہ اپنے جی میں سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔(پ16،الْکَہْف:104) (فتاویٰ رضویہ،ج21،ص528)

زمین پر دسترخوان بچھا کرکھانا افضل ہے

(7)(پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی)عادتِ کریمہ زمین پر دسترخوان بچھاکرکھاناتناوُل فرماناتھی اوریہی افضل۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص629)

عطّار کا چمن،کتنا پیارا چمن!

شرعی مسائل کا جواب اٹکل سے دینا

(1)شرعی مُعاملات میں اپنی اٹکل (یعنی اندازے) سے کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم نہیں لگانا چاہئے۔

(مَدَنی مذاکرہ،9محرم الحرام1437ھ)

چائےنوشی  کی کَثرت کا نقصان

(2)چائے زیادہ پینے سے بچنا چاہئے کہ اس سے گُردوں کو نقصان پہنچتا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،12صفر المظفر1438ھ)

بڑے بہن بھائیوں کا احترام کریں

(3)بڑے بہن بھائی بےجا رُعب ڈالیں تو بھی چھوٹے بہن بھائیوں کو اُن کی عزت کرنی چاہئے البتہ بڑوں کو چاہئے کہ وہ چھوٹوں سے پیار کریں، نرمی سے پیش آئیں اور شفقت بھرا سُلوک کریں۔(مَدَنی مذاکرہ،9رمضان المبارک1437ھ)

سوشل میڈیا پر مذہبی بحث میں حصہ لینا

(4)سوشل میڈیاپرمذہبی اَبْحاث (Religious Discussions) میں شرکت نہ کی جائے، لَاعِلْمی یا کَم عِلْمی کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،9محرم الحرام1438ھ)

بُرائی کرنے والے کے ساتھ رَویہ

(5)کوئی شخص ہماری بُرائی کرے تو اس سے ناراض ہونے یا کسی کے سامنے مَعَاذَ اللہ اس کی بُرائی بیان کرنے کے بجائے صَبر کریں بلکہ اسے تحفہ روانہ کردیں، اِنْ شَآءَ اللہ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔(مَدَنی مذاکرہ،14رمضان المبارک 1437ھ)

حرام کام کی اُجرت لینا

(6)حرام کام کرنا اور اس کی اجرت لینا، دونوں ہی حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔

(مَدَنی مذاکرہ،26جمادی الاولیٰ1437ھ)

Share

Articles

Comments


Security Code