DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Muminun Ayat 115 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﰔ
اٰیاتہا 118

Tarteeb e Nuzool:(74) Tarteeb e Tilawat:(23) Mushtamil e Para:(18) Total Aayaat:(118)
Total Ruku:(6) Total Words:(1162) Total Letters:(4401)
115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اَفَحَسِبْتُمْ: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے کفار کو مزید سرزنش فرمائی کہ اے بد بختو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے،ایسانہیں  بلکہ ہم نے تمہیں  عبادت کے لئے پیدا کیا تاکہ تم پر عبادت لازم کریں  اور آخرت میں  تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔( مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۷۶۷، ملخصاً)

 اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غفلت دانشمندی نہیں :

            یاد رہے کہ ہماری زندگی کا اصلی مقصد  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘(الذاریات:۵۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

             اور یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں  بالکل آزاد نہیں  چھوڑا جائے گا کہ نہ ہم پر اَمرونَہی وغیرہ کے اَحکام ہوں ، نہ ہمیں  مرنے کے بعد اُٹھایا جائے نہ ہم سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ ہمیں  آخرت میں  اعمال کی جزا دی جائے، ایسا نہیں  ہے،

 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى‘‘(القیامہ:۳۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں  ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔

            جب ہماری پیدائش کا اصل مقصد  اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور ہم شریعت کے احکام سے آزاد بھی نہیں  ہیں  اور ہمیں  قیامت کے دن اپنے ہر عمل کا حساب بھی بہر صورت دینا ہے تو  اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہو کر دنیا کے کام دھندوں  میں  ہی مصروف رہنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links