Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
نیک لوگوں سے محبّت کرتے ہیں، نیک بننے کی چاہت رکھتے ہیں، خدانخواستہ کوئی نیکی نہ ہو پائے تو اس مَحْرُومی پر دُکھی ہوتے ہیں تو یہ نشانی ہے کہ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! روزِ قیامت اَہْلِ سعادت کے ساتھ ہوں گے اور اللہ پاک نے چاہا تو جنّت نصیب ہو ہی جائے گی۔ اللہ پاک ہمیں نیک بننے، نیکوں سے محبّت رکھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
امام اِبْنِ اَبِی دُنیا بہت مشہور عالِم، مُحَدِّث اور صُوفی ہیں، تیسری صدی ہجری کے بزرگ ہیں، امام بُخاری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے شاگردوں میں سے ہیں، آپ نے ایک بڑی خوبصُورت روایت ذِکْر کی ہے، لکھتے ہیں:جب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مِعْراج پر تشریف لے گئے، اس دوران آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک عجیب مَنْظَر دیکھا، وہ کیا مَنْظَر تھا؟ فرمایا: میں نے عرش کے نُور میں لپٹا ہوا ایک شخص دیکھا، میں نے پوچھا: مَنْ ہٰذَا ؟اَمَلَکٌ؟ یہ کون ہے؟ کوئی فرشتہ ہے؟ کہا گیا: نہیں۔ میں نے کہا: اَ نَبِیٌّ؟ کیا کوئی نبی ہے؟ کہا گیا: نہیں۔ میں نے پوچھا: مَنْ ہُوَ؟ پِھر یہ کون ہے؟ جواب ملا (جس کا خلاصہ ہے کہ) یہ وہ شخص ہے جس کی 3صِفَات ہیں: (1): اس کی زبان ہمیشہ ذِکْرُ اللہ سے تَر رہتی تھی(2):اس کا دِل مسجد ہی کی طرف لگا رہتا تھا(3):اور اس کی وجہ سے کبھی اس کے والدین کو بُرا بھلا نہیں کہا گیا۔([1])
پہنچے جب معراج کی شب سرورِ عالم وہاں دفترِ اسرار بھی کھلتے چلے جائیں جہاں