Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
حضرت آدم علیہ السَّلام کے ساتھ ہوئی، حضرت آدم علیہ السَّلام نے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہا: مَرْحَبًا بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ یعنی صالح بیٹے اور صالح نبی کو خوش آمدید۔([1])
سیِّدِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرتِ آدم علیہ السَّلام کے دائیں بائیں(Right Left) کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا، جب آپ علیہ السَّلام اپنی دائیں(Right ) جانب دیکھتے تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں(Left ) جانب دیکھتے تو رو پڑتے ہیں۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السَّلام نے عرض کی: اِن کے دائیں اور بائیں جانِب جو یہ صورتیں ہیں یہ اِن کی اولاد ہیں، دائیں جانِب والے جنتی ہیں اور بائیں جانِب والے جہنمی ہیں۔([2])
لوگوں کی 2ہی قسمیں ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت میں بھی ہمارے لیے سیکھنے کا سبق ہے، دیکھیے! حضرت آدم علیہ السَّلام کی تمام اَوْلاد کو 2حصّوں میں دکھایا گیا، ایک دائیں جانِب والے، دوسرے بائیں جانِب والے۔ دائیں جانِب والے جنّتی، بائیں جانِب والے جہنمی...!!
پتا چلا؛ اِبْنِ آدم کی 2ہی صُورتیں ہیں*یا تو وہ جنتی ہو گا*یا جہنمی ہو گا، تیسری صُورت نہیں ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵) فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶)
(پارہ:12، سورۂ ہود:105-106)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تو اُن میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی خوش نصیب ہوگا، تو جو بدبخت ہوں گے وہ تو دوزخ میں ہوں گے، وہ اس میں