Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
اللہ اَکْبَر! کمال ہی کمال ہے، اللہ کریم اور اس کے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہم گنہگاروں کا کس حد تک لحاظ فرماتے ہیں مگر افسوس! ایک ہم گنہگار ہیں*ہمیں خود اپنی ہی فِکْر نہیں ہے*ہم اپنی بخشش و مغفرت کی فِکْر نہیں کرتے* چاہ کریا نہ چاہتے ہوئے نفس و شیطان کے چُنگل میں پھنستے ہیں* گناہوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ کاش!ہم اللہ پاک کے شکر گزار بندے بنیں اور گناہوں سے بچتے ہوئے، نیکیوں والی زندگی گزارا کریں۔
نہ کرنا حَشْر میں پُرسش مِری ہو بے سبب بخشش
عطا کر باغِ فِرْدوس از پئے شاہِ اُمَم مولیٰ!
تُو ڈر اپنا عنایت کر، رہیں اس ڈر سے آنکھیں تَر
مِٹا خوفِ جہاں دل سے مِٹا دنیا کا غم مولیٰ!
تُو بس رہنا سدا راضی، نہیں ہے تابِ ناراضی
تُو نا خوش جس سے ہو برباد ہے تیری قسم مولیٰ!([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! رسولوں کے سالار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے شبِ معراج جو عجائبات دیکھے، آئیے! ان میں سے چند ایک کا ذِکْر سُنتے اور ان سے سبق سیکھتے ہیں: