Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
کائنات ہیں، رُوْح نکل جائے تو جسم رُک جاتا ہے، اسی طرح جب رُوْحِ کائنات، فَخْرِ مَوْجُودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اس کائنات سے نکل کر لَامَکاں کی طرف تشریف لے گئے تو کائنات رُک گئی، ہر چیز پر سکتہ طاری ہو گیا، پھر جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم واپس تشریف لائے تو کائنات دوبارہ زِندہ ہو گئی اور ہر چیز پھر سے حرکت کرنے لگی۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل، آیت: 1 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ (پارہ:15،سورۂ بنی اسرائیل:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اَقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔
سَفَرِ مِعْراج کے 3 حِصّے (parts)ہیں: (1):فرشی مِعْراج جو مکہ مکرمہ سے مسجدِ اَقْصیٰ تک ہے، اسے اِسْراء کہتے ہیں (2):آسمانی مِعْراج جو مسجدِ اَقْصیٰ سے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ تک ہے، اسے مِعْراج کہتے ہیں (3):اس کے بعد ہے لامکانی مِعْراج جو سِدْرہ سے آگے لامکاں تک ہے، اسے عُرُوج کہتے ہیں۔ پارہ:15، سُورۂ بنی اسرائیل کی یہ آیتِ کریمہ جو ہم نے