Safar e Meraj Ke Waqiat

Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat

ہمارے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: آدمی (نیکیاں کرتے ہوئے) جنّت کے قریب ہوتا جاتا ہے، ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اُس کے اور جنّت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر وہ بندہ اپنی زبان سے ایک ایسا لفظ نکالتا ہے، جس کے سبب اسے جنّت سے دُور کر دیا جاتا ہے۔ ([1])

بَکْ بَکْ کی یہ عادَت نہ سرِ حشر پھنسا دے                        اللہ! زباں کا ہو عطا قفلِ مدینہ

ہر لفظ کا کس طرح حساب آہ! میں دُوں گا                             اللہ!     زباں     کا     ہو     عطا     قفلِ      مدینہ([2])

زبان زہریلے سانپ کی طرح ہے

پیارے اسلامی بھائیو! مَیں آپ کو ایک مَعْلُوماتی بات عرض کروں: کُل تقریباً 18ہزار عالَم (یعنی جہان) ہیں، خواب بھی ایک جہان ہے، جسے عالَمِ رُؤیَا کہا جاتا ہے۔ عالَمِ رؤیا (یعنی خواب) میں ہماری زبان سے نکلنے والے الفاظ کو سانپ (Snake)کی صُورت میں دکھایا جاتا ہے۔ امام اِبْنِ سیرین  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  عِلْمِ تعبیر کے بہت بڑے امام ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس کے منہ سے سانپ نکلا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس بندے کی زبان سے ایسا لفظ نکلے گا، جو اس کے لیے وبالِ جان بَن جائے گا۔ ([3])

اللہ! اللہ! اے عاشقانِ رسول! اندازہ کیجیے! سانپ زہریلا جانور ہے، اِسی طرح ہماری زبان بھی خطرناک ترین عُضْو ہے، زبان کو 32 دانتوں کے پہرے میں رکھا گیا ہے، اس کے باوُجُود یہ قابو میں نہیں آتی، جب یہ زہر اگلتی ہے تو صِرْف جان ہی کو نہیں بلکہ بعض


 

 



[1]...مسند احمد، جلد:9،صفحہ: 469،حديث:23843۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:93۔

[3]...تعبیر الرؤیا (مترجم)، صفحہ:414۔