Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
اسے جواب بھی ضرور دیا کریں (4): اور چوتھا حق؛ نیکی کی دعوت عام کریں۔ مثلاً ہم گلی میں ہیں، کسی کو کوئی بُرا کام کرتے دیکھا، حکمتِ عملی کے ساتھ پیار محبّت سے سمجھا دیں، آتے جاتوں کو موقع کی مناسبت سے نیکی کی دعوت دیتے رہیں۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ضرورتاً راستے میں بیٹھنا بھی نیکیوں بھرا ہو جائے گا۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
مسجدِ اقصیٰ جاتے ہوئے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک مَنْظَر یہ بھی دیکھا کہ ایک چھوٹا سا پتھر ہے، اُس کے اندر سے ایک بہت بڑا بیل نکلا، پِھر وہ بیل اُسی پتھر میں دوبارہ جانے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ (اسی پتھر میں سے نکلنے والا بیل) واپس پتھر کے اندر نہ جا سکا۔ پوچھنے پر بتایا گیا: یہ وہ شخص ہے، جو بڑی بڑی باتیں کرتا ہے پھر اُن پر شرمندہ ہوتا ہے لیکن اپنی ان باتوں کو واپس لے آنے کی قدرت نہیں رکھتا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی بات تو سچی ہے، جو بات زبان سے ایک بار نکل گئی، وہ نکل گئی، اب اسے واپس نہیں پھیر سکتے۔ حیرت بلکہ عبرت کی بات یہ ہے کہ زبان چھوٹی سی ہے مگر اِس سے باتیں اتنی بڑی بڑی نکل جاتی ہیں کہ وبالِ جان بَن جاتی ہیں۔ اِس لیے عقلمند وہی ہے جو سوچ سمجھ کر بولتا ہے۔ بےسوچے بولنے والا عموماً نقصان ہی اُٹھاتا ہے۔