Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
عرش کے
نزدیک
دیکھاآپ نے
منظر عجیب نور کے
پردوں میں
لپٹا فرد ہے
اک خوش نصیب
فرطِ حیرت میں رسول اللہ نے پوچھا سوال! نور گِیں یہ کون ہے؟ بتلاؤ مجھ کو اس کا حال
کون ہے یہ؟ اور اس کی رفعتوں کا راز کیا؟ کیا مَلَک ہے ؟یا نبی؟ یاخاص ہے اعزاز کیا؟
یارسول اللہ! یہ بھی آپ کی اُمّت سے ہے ہاں مگر یہ خوش عقیدہ اہلِ خوش خصلت سے ہے
ذکر سے اللہ کے تر رہتی تھی اس کی زباں لَوٹ بھی آئے اگر مسجد سے، دل رہتا وہاں
واسطے ماں باپ کےنہ تھا یہ طعنوں کا سبب بس یہ تینوں عادتیں ہیں اس کی شانوں کا سبب
سُبْحٰنَ اللہ! سُبْحٰنَ اللہ! اس رِوَایَت سے پتا چلتا ہے کہ *مَسَاجِد سے مَحَبَّت کرنا، *والِدَین کی عزت والے کام کرنا اور*ذِکْرُا للہ کی کثرت کرنا یہ تینوں ایسے کام ہیں جو اللہ پاک کو بہت ہی محبوب ہیں۔ ہمیں بھی یہ تمام کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے خاص کر اللہ پاک کا ذِکر کرتے رہنا اپنی عادت بنالینی چاہیے، کیونکہ یہی ہمارا مقصدِ حیات بھی ہے اور اُخروی کامیابیاں حاصل کرنے کا سبب بھی۔
اِبْراہیم علیہ السَّلام کا پیغام، غلامانِ مُحَمَّد کے نام
ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مِعْراج کی رات میری ابراہیم علیہ السَّلام سے مُلاقات ہوئی، آپ نے فرمایا: اے مَحْبُوب نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اپنی اُمَّت کو میرا سلام پہنچائیے!
(سُبْحٰنَ اللہ! کیا بات ہے...!! آقا کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے میں ہم گنہگاروں پر کیا کیا عِنَایتیں ہیں...!! اللہ پاک کے خلیل علیہ السَّلام ہم گنہگاروں کو سلام پہنچا رہے ہیں۔
اے ماہِ مدینہ تری تَنْوِیر کے قرباں! چمکا دیا اُمّت کا نصیبہ شبِ معراج