Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
ہے آج فلک روشن روشن، ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ
محبوب خُدا کے آتے ہیں، محبوب خُدا کے آتے ہیں
ہے خُلْد کا جوڑا زیبِ بدن، رَحْمت کا سجا سہرا سَر پر
کیا خوب سُہانا ہے منظر، معراج کو دولہا جاتے ہیں([1])
دُنیا کا سب سے طویل..!مگر مختصر ترین سفر
پیارے اسلامی بھائیو! میرے اور آپ کے پیارے پیارے آقا،مکی مَدَنی مصطفےٰ، معراج کے دولہا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا سفرِ معراج دُنیا کا سب سےطویل (longest)اور انتہائی مختصر سفر ہے۔ یہ مُبارَک سَفَر لمباتواتناہے کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم * مکہ مکرمہ سے چلے *مسجدِ اقصیٰ تشریف لائے*پِھر یہاں سے پہلے آسمان پر*پِھر دوسرے *تیسرے *چوتھے *پانچویں *چھٹے *اور ساتویں آسمان پر پہنچے*وہاں سے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ پر تشریف لائے *پِھر اس سے آگے مقامِ مُستویٰ *پِھر عرشِ عُلیٰ* پِھر اس سے آگے لَامَکاں پر تشریف لے گئے۔ یہ لاکھوں کلومیٹر کا سفر ہے۔ بلکہ آسمانوں کا جو سفر ہے، سائنس میں اس کی پیمائش روشنی کی رفتار(Speed of light) سے کی جاتی ہے۔سائنسی تحقیق کے مُطَابِق اس وَقْت تک کائنات میں سب سے تیز رفتار چیز روشنی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طَے کرتی ہے اور سُورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8.3 منٹ لگتے ہیں، یعنی سُورج سے زمین تک 14 کروڑ 94 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے، پھر سُورج ابھی پہلے آسمان سے بھی نیچے ہے، سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: * زمین سے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ کا فاصلہ 50 ہزار سال کا رستہ ہے* اس سے آگے مُسْتَویٰ* اس کے بعد کو اللہ پاک جانے* اس سے آگے عرش کے 70 حجابات ہیں* ہر حجاب سے دوسرے حجاب تک 500 سال کا فاصلہ ہے۔([2]) یہ کُل مِلا کر 35 ہزار سال کا فاصلہ ہوا، 35 ہزار سال کا راستہ یہ، 50 ہزار سال کا راستہ زمین سے سِدْرَۃُ المنتہیٰ تک، 35 اور 50=85 ہزار سال کا فاصلہ ہوا* پھر سِدْرَۃُ