Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
غلامانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر کرم
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم نے فرمایا:
لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا (پارہ:15،سورۂ بنی اسرائیل:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تا کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔
یعنی صاحِبِ مِعْراج نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مِعْراج کرائی گئی تاکہ آپ کو اللہ پاک کی نشانیاں دکھائی جائیں۔اس میں ہم غُلامانِ مصطفےٰ پر کرم نوازی کا بھی ایک پہلو ہے۔
امام فخر الدِّین رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بڑا ایمان افروز نکتہ لکھا ہے، آپ کے فرمان کا خُلاصہ ہے: جب کوئی چیز اچانک بندے کے سامنے آتی ہے، اگرچہ آدمی کو پہلے سے اس کا عِلْم ہو، اسے جانتا بھی ہو مگر کچھ دَیْر کے لیے آدمی کا دِل اُس چیز میں مشغول (Busy)ہو جاتا ہے، تَوَجُّہ بٹتی ہے، رسولِ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جنّت اور اس کی نعمتوں کا بھی عِلْم رکھتے ہیں، دوزخ اور وہاں کے عذابات کا بھی عِلْم رکھتے ہیں مگر اللہ پاک نے قیامت آنے سے پہلے ہی آپ کو جنّت کی نعمتیں اور دوزخ کی ہولناکیاں دکھا دیں تاکہ روزِ قیامت جب جنّت و دوزخ کو سامنے لایا جائے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا دِل اس طرف مشغول نہ ہو بلکہ آپ کی پُوری تَوَجُّہ اپنے غُلاموں کی طرف رہے اور ان کی شَفَاعت میں مَصْرُوف ہوں۔ ([1])
مِعْراج کی شَب تو یاد رکھا، پھر حشر میں کیسے بھولیں گے
عطّاؔر اسی اُمّید پہ ہم دِن اپنے گزارے جاتے ہیں([2])