Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
قرب کا کوئی تَصَوُّر باندھا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ سوال جو مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کیا، یقیناً ہمارے ہی سکھانے کے لیے کیا، گویا مقصد یہ تھا کہ اے مالِکِ کریم! میرے اُمّتی تیرا قُرب کس عمل کے ذریعے حاصِل کر سکتے ہیں؟ )
اللہ پاک نے فرمایا:اِجْعَلْ لَيْلَكَ نَهَارًا، وَنَهَارَكَ لَيْلًا یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میرا قرب پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی رات کو دِن اور دِن کو رات بنا لیجیے!
عرض کیا: يَا رَبِّ!كَيْفَ يَكُونُ ذٰلِكَ؟ یعنی اے رَبّ! یہ کیسے ہو گا؟ فرمایا:اِجْعَلْ نَوْمَكَ صَلَاةً، وَاجْعَلْ طَعَامَكَ الْجُوعَ یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اپنی نیند کی جگہ نماز اور کھانے کی جگہ بُھوک رکھ لیجیے! ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوم ہوا؛ رات کو نیند قربان کر کے کچھ دیر نماز پڑھنا اور دِن کو روزہ رکھ کر بُھوک برداشت کرنا اللہ پاک کا قرب حاصِل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
رات کی نماز کے فضائل
(1):حضرتِ ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عَرْض کیا:یَا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مجھےاُس چیز پر مُطّلع فرما دیجیے،جسے اپناکر میں جنّت پاسکوں۔ فرمایا: کھانا کِھلاؤ اور سلام کو پھیلاؤ اور صِلَہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوں تو (نفلی )نَماز پڑھو، تم سلامَتی سے جنَّت میں داخل ہوجاؤ گے۔([2]) (2):اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:جنَّت میں ایسے بالاخانے ہیں، جن کا باہَر اندرسے اور اندر باہَر سے دیکھا جاتاہے۔ ایک اَعرابی نے اٹھ کر عَرْض کیا: یَا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! یہ