Safar e Meraj Ke Waqiat

Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat

بیان سننے کی نیتیں

حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])

اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو! آج رَجَب شریف کی 27 وِیں رات ہے، یہ وہی مبارک رات ہے* جس رات جنّت سجائی گئی* عرش پر دھوم مچی* زمین پر انوار برسے* آج ہی کی رات حُور وغِلْمان اور فرشتے میرے آقا، مدینے والے مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے استقبال کے لیے صَف باندھے کھڑے ہوئے* اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب، مِعْراج کے دولہا، اِمامُ الانبیا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کو عرش وکرسی کی سیر کرائی، جنّت دِکھائی اَوْر مَا شَآءَ اللہ! سِدْرَہ ولامکاں، پھر اس سے بھی آگے قُرْبِ خاص میں بُلایا، ہم کلامی کا شَرْف عطا فرمایا اور سُبْحٰنَ اللہ! مَحْبُوب مصطفےٰ، سردارِ انبیا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کو عَیْن حالتِ بیداری میں، سَر کی آنکھوں سے اپنا دیدار بھی کروا دیا۔

ہیں صَفْ آراء سب حُور و ملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں

اِک دُھوم ہے عرشِ اعظم پر مہمان خدا کے آتے ہیں


 

 



[1]...بخاری، کِتَاب بَدءُ الْوَحی، صفحہ:65، حدیث:1۔