Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
*لوگوں کو غلط رستہ بتانا وغیرہ راستے پر بیٹھ کر لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے مختلف انداز ہیں۔
ہمیں ایسی بدتہذیبی سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہیے۔
بخاری شریف میں ہے؛حضرتِ ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے(صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللہ عنہ م) سے اِرْشاد فرمایا:تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو!صَحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م نے عَرض کی:ہم اِن مجلسوں میں بیٹھ کر(ضَروری)گفتگوکرتے ہیں اوریہ ہمارے لیے ضَروری ہیں۔فرمایا:جب تم مجالِس میں آیا کرو تو راستے کو اِس کا حق دو۔عرض کی گئی:راستے کا حق کیا ہے؟اِرشاد فرمایا:(1):نگاہیں نیچی رکھنا(2):تکلیف دِہ شے دُورکرنا(3):سلام کا جواب دینا(4):نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے منع کرنا۔ ([1])
مَعْلُوم ہوا؛ پہلا حکم تو یہ ہے کہ ہم راستوں میں بیٹھا ہی نہ کریں، اگر کسی ضرورت کے تحت باہَر گلی وغیرہ میں بیٹھنا ہی پڑتا ہے تو لازِم ہے کہ راستے کے یہ 4 حقوق ادا کیا کریں: (1): نگاہیں نیچی رکھیں، آنے جانے والوں کو نہ گھورَیں، لوگوں کے گھروں میں نہ جھانکیں اور گلی سے گزرتی خواتین کو تکلیف نہ ہو، اِس کا لحاظ رکھیں (2): راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑی ہو، مثلاً کوئی پتھر رستے میں پڑا ہے، کسی کو ٹھوکر لگ سکتی ہے، کیلے کا چھلکا پڑا ہو، اس پر پاؤں آجائے تو آدمی بہت بُری طرح پھسل جاتا ہے، یونہی کوئی تکلیف دہ چیز ہو، اسے ہٹا دیں (3): گزرنے والوں کو سلام بھی کریں اور کوئی ہمیں سلام کرے تو