Safar e Meraj Ke Waqiat

Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat

حرفِ با کا ایک معنیٰ

عُلَمائے کرام بڑی پیاری بات لکھتے ہیں: اللہ کریم نے فرمایا:

اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ (پارہ:15،سورۂ بنی اسرائیل:1)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اپنے خاص بندے کو سیر کرائی۔

اس جگہ لفظِ عبد سے پہلے بَا زیر بِ ہے، اس جگہ اس با کا معنیٰ ہے:مُصَاحَبَتْ (یعنی رفیق، ساتھی ہونا) یعنی *اس سفرِ مبارک میں اللہ پاک کی خصوصی عنایات، مدد و نصرت اور لطف و کرم مِعْراج کے دولہا، سَیّدُ الْاَنْبِیا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے ساتھ رہا *اللہ پاک سرکارِ عالی وقار، مکے مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کو مسجد حرام سے لے گیا *پھر تمام مقامات کی سیر کروا کے *قدرت کے عجائبات اور نشانیاں دکھا کر *مقامِ دَنیٰ پر فائِز فرما کر *مَحْبُوب کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کر کے *اَوَّلین و آخِرین (یعنی سب اگلے پچھلوں) کا عِلْم عطا فرما کر *حضور  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کو تحفۂ سلام و رحمت و برکت اور اُمّتیوں کے لیے 5 نمازیں عطا فرما کر بخیر و خُوبی مکہ مکرمہ تک پہنچا دیا۔([1]) اس پورے سفر میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  اکیلے  نہیں تھے، اللہ پاک کی خاص عنایات لمحہ لمحہ آپ کے ساتھ ساتھ تھیں۔

معراج ہوئی تا عرش گئے حق تم سے مِلا تم حق سے مِلے

سب راز فَاَوْحیٰ دِل پہ کُھلے یہ عزت و حشمت کیا کہنا...!!([2])


 

 



[1]...تحفۂ معراج النبی،صفحہ:125خلاصۃً۔

[2]...قبالۂ بخشش،صفحہ:85۔