Safar e Meraj Ke Waqiat

Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat

ابراہیم  علیہ السَّلام  کو بھی مِعْراج ہوئی، آپ کو زمین و آسمان کی بادشاہی دِکھائی گئی، آپ پتھر کی ایک چٹان (rock)پر کھڑے ہوئے،حکم ہوا:ابراہیم! نیچے دیکھیے!دیکھا تو ساتوں زمینیں اور ان میں موجود قدرت کی نشانیاں نظر آ گئیں، پھر حکم ہوا: اُوپَر دیکھیے! آپ نے اُوپَر دیکھا تو ساتوں آسمان مُلاحظہ فرما لیے ۔([1])اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(۷۵) (پارہ:7،سورۂ انعام: 75)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اسی طرح ہم اِبْراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں۔

یہ حضرت ابراہیم  علیہ السَّلام  کی مِعْراج تھی مگر حبیب اور خلیل کا فرق دیکھیے! حضرت ابراہیم  علیہ السَّلام  کو آسمان و زمین کی بادشاہی دکھانا منظور ہوا تو ایک پتھر پر کھڑا کر کے دِکھا دیا گیا لیکن جب باری آئی اپنے حبیب( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ) کی تو * جنّت سجا دی گئی * آسمان و زمین میں خوشیاں رچائی گئیں * حضرت جبریلِ امین  علیہ السَّلام  فرشتوں کی بارات لے کر، جنّتی سُواری بُراق کو ساتھ لے کر حاضِر ہوئے *اور اللہ پاک نے اپنے محبوبِ کریم  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کو آسمانوں پر بلکہ ساتوں آسمانوں سے بھی اُوپر بُلایا اور اپنی قُدْرت کی عظیم نشانیاں دکھائیں، یہ ہیں حبیب  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کی شانیں...!!

قربان میں شان و عظمت پر، سوئے ہیں چین سے بستر پر

جبریلِ امیں حاضِر ہو کر معراج کا مژدہ سُناتے ہیں

اللہ کی رحمت سے سَرور جا پہنچے دنیٰ کی منزل پر

اللہ     کا      جلوہ      بھی      دیکھا،      دِیدار      کی    لذّت      پاتے      ہیں([2])


 

 



[1]...تفسیرِ صراط الجنان،پارہ:7،سورۂ انعام،زیرِ آیت:75،جلد:3،صفحہ:141-142 بتغیرقلیل۔

[2]...وسائلِ بخشش،صفحہ:286۔