Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
گدھے کی طرح چلائیں گے۔
مزید فرمایا:
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا (پارہ:12، سورۂ ہود:108)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور وہ جو خوش نصیب ہوں گے وہ جنّت میں ہوں گے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
مطلب یہ کہ قِیامَت کے دِن حضرت آدم علیہ السَّلام سے لے کر قِیامَت تک آنے والے سب لوگ جو جمع ہوں گے، ان کے 2ہی گِروہ ہوں گے*ایک وہ جو شقی ہیں*دوسرے وہ جو سَعِیْد ہیں۔ جن پر بدبختی غالِب آ گئی اور ان کے لیے جہنّم کا فیصلہ کر دیا گیا تو وہ جہنّم میں رہیں گے اور جہنّم میں ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ گدھے کی طرح چِلّائیں گے۔([1])
اور جو سَعَادَت مند ہوں گے، وہ ہمیشہ ہمیشہ جنّت میں رہیں گے اور بعض وہ گنہگار مسلمان جو اپنے گُنَاہوں کی وجہ سے کچھ عرصہ جہنّم میں رہیں گے، پِھر انہیں بھی جنّت میں داخِل کر دیا جائے گا۔ یہ اللہ پاک کی عطا، اس کی عِنایت و رحمت ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ روزِ قیامت 2ہی صُورتیں ہوں گی، یا تو اللہ پاک کی رحمت سے جنّت ملے گی، یا جہنّم ٹھکانا ہو گا۔
اللہ پاک ہمیں جہنّم سے بچائے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کس گروہ میں ہیں؟ کیا میں اُن میں سے ہوں جنہیں دیکھ کر حضرت آدم علیہ السَّلام مسکرا رہے تھے یا اُن میں سے