Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
ہوں جنہیں دیکھ کر آپ رَو رہے تھے؟ ہمیں یہ کیسے پتا چلے گا...؟ آئیے ایک حدیثِ پاک سنتے ہیں:
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دِن ہم بارگاہِ رسالت میں حاضِر تھے،اتنے میں ایک شخص آیا، اس نے جب ہمیں دیکھا تو اپنی سُواری سے اُترا اور پیدل چلتے ہوئے بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوا اور عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میں 9 دِن کی دُوری سے آیا ہوں مگر آیا اس طرح ہوں کہ میں نے یہ رستہ 6 دِن میں طَے کیا، میں دِن میں پیاسا رہا، راتوں کو جاگتا رہا(یُوں میں نے تیزی سے سَفَر کیا تاکہ جلداز جلد آپ کی خِدْمت میں پہنچ جاؤں، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !) میرے آنے کا مقصد اَصْل میں 2سُوال ہیں، جنہوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے، بس میں ان کے جواب چاہتا ہوں۔
پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اس خوش نصیب مُسَافِر کا نام پوچھا، کہا: اَنَا زَيْدُ نِالْخَيْلُ یعنی میں گھوڑے والا زید ہوں۔ رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بَلْ اَنْتَ زَيْدُ نِ الْخَيْرُ(یعنی تم گھوڑے والے زید نہیں) بلکہ بھلائی والے زید ہو۔ پِھرفرمایا:پوچھو کیا پوچھناہے؟ اب اُن صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے 2انوکھے سُوال پوچھے،عرض کیا: (1):ایک ہے وہ بندہ جو اللہ پاک کو پسند ہے، اس کی نشانی کیا ہے (2):اور دوسرا یہ کہ وہ بندہ جسے اللہ پاک پسند نہیں فرماتا، اس کی نشانی کیا ہے۔
یہ 2انوکھے سُوال تھے،قربان جائیے! غیب کی خبریں جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے عِلْم پر،جیسے سُوال انوکھے تھے، آپ نے جوابات بھی نِرالے ہی عطا فرمائے، ارشاد فرمایا: اے زید! تم نے صبح کس کیفیت میں کی تھی؟ عرض کیا: یارسولَ