Book Name:Safar e Meraj Ke Waqiat
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جب مکہ پاک سے روانہ ہو کر مسجدِ اقصیٰ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، سَفَرِ معراج کے اس حصے میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کافی عجائبات دیکھے، مثلاً * دُنیا کو بہت بدصُورت بڑھیا کی شکل میں دیکھا* حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی قبر مبارَک سے گزرے، انہیں مزارِ پاک کے اندر کھڑے نماز پڑھتے ملاحظہ فرمایا، ایک سبق آموز مَنْظَر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک لکڑی ہے، جو راستے کے بیچ میں موجود ہے، جو وہاں سے گزرتا ہے، وہ لکڑی اُس کے کپڑوں کے ساتھ اٹک جاتی ہے اور کپڑے پھاڑ دیتی ہے۔
پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ عرض کیا: اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! یہ آپ کی اُمّت کے وہ لوگ ہیں (یعنی اُن لوگوں کی مثال ہے) جو رستوں پر بیٹھتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السَّلام نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی : ([1])
وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْن (پارہ:8، سورۂ اعراف:86)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور ہر راستے پر یُوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت میں ہمارے لیے سبق ہے۔ کتنے لوگ ہیں *جو راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں *تَمْبُو(Tent)وغیرہ لگا کر راستہ بند کر دیتے ہیں *بعض اوباش قسم کے نوجوان جان بُوجھ کر راستوں میں کھڑے رہتے ہیں، جس سے آنے جانے والوں کو پریشانی کا سامنا ہوتا ہے *یونہی راستوں پر کچرا ڈالنا *پھلوں کے چھلکے پھینک دینا