مطالعہ کے فوائد

اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے دین کا علم سیکھنے کی کئی مقامات پر ترغیب ارشاد فرمائی چنانچہ حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے اور دِین کی سمجھ غور و فکر سے حاصل ہوتی ہے۔

(معجم كبير ، 19 / 395)

علمِ دین سیکھنا “ اللہ  پاک کی رضاپانے ، گناہوں سے بچنے اور ثواب  کمانے “ کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

جس طرح علم شفیق استاد ، نیک اجتماعات ، علماء کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح اچھی اور معیاری کُتب کا مطالَعہ  کرنا بھی حصول ِعلم کا بہترین ذریعہ ہے۔ مطالَعہ کرنے کا بنیادی مقصد علم حاصل کرناہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی ہمیں حاصل ہوتے ہیں مثلاً : * ایمان کی پختگی * علم و عمل میں  ترقی * معرفتِ الٰہی کا حصول * عقل و شعور میں اضافہ * دینی اور دنیوی اُمور میں ترقی * مختلف تہذیبوں سے آگاہی * کائنات میں غور و فکر کا موقع * انسانی اخلاق کی بہتری * دل و دماغ کو عمدہ خیالات سے مزیّن کرنا * مَنفی اور بے فائدہ مصروفیت سے بچنا * تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بڑھنا * لوگوں کے علم وتجربات اور  مُشاہدات سے اِستفادہ کرنا * مطالعہ کے سبب فضول باتوں سے بچنے کی عادت ملنا * انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا بڑھنا * غم اور بے چینی بُھلانے  کا ذریعہ ہونا * اچھی تحریر کا  انقلاب کا سبب بننا * دنیا میں مُثبت تبدیلی  لا نے کا ذریعہ ہونا * تنگ نظری دُور ہونا * وسعتِ قلبی حاصل ہونا * دوسروں کے تجربات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خود کو نقصان سے بچانا * مختلف مسائل کا  آسانی سے حل ملنا * بُری صحبت اور بُرے دوستوں سے بچنا * معاشرتی ترقی کا ذریعہ ہونا * فَصاحَت و بَلاغَت اور ذہانت  میں اضافہ ہونا وغیرہ۔  حضرت سیّدنا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  سے کسی نے  پوچھا : کیا حافظے کو قوی کرنے کے لئے بھی کوئی دوا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا : دوا کا تو مجھے  معلوم نہیں ، البتہ آدمی کے اِنْہِماک اوردائمی مطالعے کو میں نے قوّتِ حافظہ کے لئے مفید ترین پایا ہے۔ (حافظہ کیسے مضبوط ہو؟ ص41) اللہ پاک ہمیں بھی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دینی کُتُب کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمِیْن۔  اچھی اور معیاری کُتُب کا مطالعہ کرنے کےلئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ اور مکتبۃُ المدینہ کی دیگر کُتب اور رسائل کا مطالعہ فرمائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* محمد عمیر عطاری مدنی 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* مدرس : جامعۃ المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم  سائٹ ایریا کراچی

 

 

Share

مطالعہ کے فوائد

“ قراٰن مجید “ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی طریقے اور کسی راستے سے بھی باطل داخل نہیں ہوسکتا ۔ یہی کتاب ذریعۂ نجات اور سبیلِ ہدایت ہے ، لیکن یہ فوائد تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب اس کتاب کے معانی و مفاہیم کو کماحقہ سمجھ کر اس پر عمل کیا جائےکیونکہ قراٰن پاک کے کئی الفاظ کے لغوی و شرعی معنیٰ الگ الگ ہیں اور  کس معنیٰ پر عمل کرنا ہے  اس کی تعیین کے لئے ہمیں حدیثِ مبارکہ  کا سہارا لینا لازم ہوگا ورنہ  حکمِ الٰہی پر عمل کرنا ناممکن ہوگا ۔ اللہ ربُّ العزت نے سورۃ البقرہ کی ابتدا میں ارشاد فرمایا : هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) تَرجَمۂ کنز  الایمان : اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ (پ1 ، البقرۃ : 3 ، 2)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ان آیات میں قراٰن کو متقین کے لئے ہدایت فرمایا اور متقین کی جو صفات بیان فرمائیں ان میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ “ وہ صلوٰۃ قائم کرتے ہیں “ جبکہ صلوٰۃ کا ایک لغوی معنیٰ ہے اور ایک شرعی۔ لغوی معنیٰ ہے دعا ، تسبیح ، رحمت  وغیرہ جبکہ شرعی معنیٰ ہے   “ مخصوص ارکان اور طریقہ جس کے ساتھ اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ اب اس آیتِ کریمہ میں مُرادِ خداوندی لغوی معنیٰ ہے یا شرعی معنیٰ؟ تو یہ ہمیں حدیثِ رسول سے ہی پتا چلے گا اور حدیثِ رسول میں صلوٰۃ کا شرعی معنیٰ (مخصوص ارکان کی ادائیگی) ہی مراد ہے نہ کہ لغوی معنیٰ۔ چنانچہ جو بندہ حدیث کے بیان کردہ معنیٔ صلوٰۃ کو چھوڑ کر لغوی معنیٰ پر عمل کرتے ہوئے قراٰن پر عمل کرے گا تو وہ متقین میں شامل ہی نہیں ہوگا جب متقین میں شامل نہیں ہوگا تو اسے ہدایت بھی نہیں مل سکے گی اور جو حدیثِ رسول کے بیان کردہ معنیٔ صلوٰۃ کے مطابق لفظِ صلوٰۃ پر عمل کرے گا وہ زُمرۂ متقین میں شامل ہوکر قراٰن سے ہدایت حاصل کرسکے گااور قراٰن سے ہدایت ہی مقصودِ زندگی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرادِ خداوندی کو حدیثِ رسول کے ذریعےہی کیوں متعین کیا جائے ، لغت کے ذریعے کیوں نہیں؟ اس کا جواب قراٰن مجید کے متعدد مقامات پر موجود ہے کہ رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب   علیہ السَّلام   کے کلام و ارشادات کو خاص اہمیت عطا فرمائی اور ان پر عمل کرنے کا صراحتاً حکم ارشاد فرمایا چنانچہ ارشادِ ربانی ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-  تَرجَمۂ کنز  الایمان : اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (پ28 ، الحشر : 7)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اس آیتِ مبارکہ میں لفظِ “ ما “ ہے اور “ ما “ موصولہ عموم پر دلالت کرتا ہے کہ جو کچھ بھی تمہیں رسول عطا کریں لے لو ، تو اس عموم میں اقوال و احادیثِ رسول بھی شامل ہیں تبھی اس آیت کا مفہوم درست ہوسکے گا ورنہ مطلق کو بغیر قرینہ کے مقید کرنا لازم آئے گا جو کہ درست نہیں اور نظمِ قراٰن کے خلاف ہے۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بیان و تعیینِ معانی کے اختیار کے بارے میں ارشاد فرمایا : وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴) تَرجَمۂ کنز  الایمان : اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔ (پ14 ، النحل : 44)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اس آیتِ مبارکہ میں ربِّ ذُوالجلال نے واضح طور پر اپنے محبوب کو بیانِ کتاب کا فرمایا ہےاور محبوب   علیہ السَّلام   جب بیان کتاب فرمائیں گے تو غیر ِقراٰن کے ذریعے سے ہی کلام فرماکر بیان فرمائیں گے اور محبوب   علیہ السَّلام   جب غیر ِقراٰن  کے ذریعے کلام فرماتے ہیں تو وہ کلام “ حدیث “ ہی کہلاتا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ بیانِ کتاب کے لئے حدیث اَتَم و اَشَد ذریعہ ہےبغیر حدیث کے قراٰن کے معانی و مطالب سے تفہیم حاصل کرکے ہدایت و نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا “ علمِ حدیث “ فہمِ قراٰن کے لئے انتہائی ضروری ہے بلکہ علمِ حدیث کے سمجھنے میں قراٰن پاک کے سمجھنے سے زیادہ محنت کی حاجت ہے کیونکہ حدیث کی معرفت سے ہی قراٰن فہمی حاصل ہوتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں قراٰن و حدیث کا صحیح فہم عطا فرمائے۔ اٰمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* محمد ابو بکر رضوی عطاری (وہاڑی پنجاپ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* مدرس : امامت کورس

 

 

 

 

Share

مطالعہ کے فوائد

آقا کریم  علیہ السَّلام  نے فرمایا : جس نے میری سنّت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔ (بخاری ، 3 / 421 ، حدیث : 5063) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : جس نے میری سنّت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مشکاۃ المصابیح ، 1 / 55 ، حدیث : 175)

نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی سنتّوں میں بےشمار حکمتیں ہیں آئیے سائنس کی روشنی میں سنّت کی حکمتیں ملاحظہ کرتے  ہیں :

زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول کرنا سنّت ہے ، اس کی سائنسی تحقیق یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر کھانے سے کھانا بہتر طور پر ہضم ہوتا ہے کیونکہ زمین پر بیٹھنے سے جسم زیادہ آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔ نیچے بیٹھ کر کھانے سے کمر ، ران اور ٹانگوں کے عضلات میں لچک پیدا ہوتی ہے اور دردوں سے نجات ملتی ہے۔ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور دورانِ خون بھی بہتر ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں ، خصوصاً ہارٹ اٹیک کا خدشہ بہت کم ہوجاتا ہے۔ (مختلف ویب سائٹس)

پانی بیٹھ کر پینا سنّت ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ پانی دونوں گردوں میں جاتا ہے ، کھڑے ہوکر پینے سے ایک گردے میں جاتا ہے جس سے دوسرا گردہ فیل ہونے کا اندیشہ ہے۔ (مختلف ویب سائٹس)

وضو کرنے کی 14 سنّتیں ہیں ان میں سے تین سنّتیں یہ ہیں

 (1)دونوں ہاتھ دھونا (2)کُلّی کرنا (3)ناک میں پانی چڑھانا ۔      (نماز کے احکام ، ص12)

اس کی حکمت یہ ہے کہ پانی کا رنگ ، ذائقہ اور بُو تبدیل ہوجائے  تو بعض صورتوں میں اس پانی سے وضو درست نہیں ہوتا۔

ہاتھ دھونے سے پانی کا رنگ معلوم ہوگا ، کُلّی کرنے سے پانی کا ذائقہ معلوم ہوگا اور ناک میں پانی چڑھانے سے پانی کی بُو معلوم ہوگی۔ اب اگر پانی درست ہوگا تو فرض ادا کریں گے یعنی چہرہ دھوئیں گے۔

مسواک کرنا بھی آقا کریم   علیہ السَّلام   کی پیاری سنّت ہے ، (اسلام کی بنیادی باتیں ، ص248) مسواک کرنے کے بہت سےفوائد ہیں جن میں سے چند یہ ہیں : *مسواک کرنے سے بلغم دور ہوتا ہے *مسواک عقل بڑھاتی *آنکھوں کی بینائی تیز کرتی ہے *سب سے بڑا فائدہ کہ اس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

سلام کرنا آدم   علیہ السَّلام   کی سنّت ہے ، مصافحہ کرنا سنّت ِصحابہ   علیہمُ الرِّضوان   بلکہ سنّتِ رسول ہے ، ٹھہر ٹھہر کر بات کرنا بھی سنّتِ سرکار ہے ، جمعرات کو سفر کی ابتدا کرنا بھی سنّت ہے۔ آقا کریم  علیہ السَّلام   کا فرمان ہے :  رات کو سفر کرو کیونکہ زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔  سُرمہ لگانا بھی ہمارے پیارے آقا کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی پیاری پیاری سنّت ہے۔ مہمان کو دروازے تک رُخصت کرنا بھی ہمارے آقا کی پیاری پیاری سنّت ہے ۔ خوشبو لگانا ، بالوں میں تیل لگانا اور جمعہ کے دن غسل کرنا  سنّتِ رسول ہے۔

(ماخوذ ازسنتیں اور آداب ، بہار شریعت )

محمد کی سنّت کی اُلفت عطا کر

میں ہوجاؤں ان پر فدا یا الٰہی

میں سنّتوں کی دُھومیں مچاتی رہوں کاش

تو دیوانی ایسی بنا یا الٰہی

یاربِّ مصطفےٰ! ہمیں اپنے پیارے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے صدقے سنّتوں پر پابندی سے عمل کی توفیق عطا فرما۔      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* بنتِ اقبال عطّاریہ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* جامعۃ المدینہ فیضانِ آمنہ اٹک

نوٹ : ان تینوں خوش نصیبوں کو پانچ پانچ سو روپے کے چیک روانہ کردئیے گئے ہیں۔

Share

Articles

Comments


Security Code