الیکٹریشن کا چیز کھول کر چیک کرنے کے پیسے لینا کیسا؟

الیکٹریشن کا چیز کھول کر چیک کرنے کے پیسے لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض الیکٹریشنز نے اپنی دکان پر لکھا ہوتا ہےکہ کوئی بھی چیز  چیک کرنے کی پچاس روپے فیس ہوگی ، پھر اگر مالک وہ چیز بنوائےتو اس کا خرچہ بتا دیتے ہیں اور اس صورت میں کھول کر چیک کرنے کے الگ سے پیسے نہیں لیتے البتہ اگر مالک وہ چیز نہ بنوائے تو  کھول کر چیک کرنے کے پچاس روپے لیتے ہیں اور خرابی (Fault) بتا کر ، وہ چیز بند کر کے واپس دے دیتے ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : چیز کھولنے اور چیک کرنے میں وقت بھی صرف ہوتا ہے اور آلات بھی استعمال ہوتے ہیں اور  بعض لوگوں نے باقاعدہ ملازمین رکھے ہوتے ہیں ان کا بھی وقت لگتا ہےاور ان کو سیلری  بھی دی جاتی ہے ، اس کھلوانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ خرابی (Fault) بتائی جاسکے ، ایسا نہیں ہےکہ وہ صرف نٹ کھول کربند کرکے واپس دے دے گا۔  لہٰذا یہ بھی  باقاعدہ ایک ایسا کام ہے جس کی اجرت لی جاسکتی ہے۔ رہی بات یہ کہ جب کام بھی اسی سے کروایا جائے تو کھولنے کے بدلے پیسے نہیں لئے جاتے تو اس نہ لینے کی بھی فقہی توجیہ ممکن ہے ایک توجیہ یہ ہے کہ وہ اپنی اجرت میں کمی یا معاف کرنے کا حق رکھتا ہے اور اس  کا یہ عمل کسی ممانعت میں داخل نہیں بلکہ جائز ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

عقدِ مضاربت ختم کرنے کا طریقہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ربُّ المال اور مضارِب باہمی رضا مندی سے عقدِ مضاربت ختم کرنا چاہیں تو اس کا کیاطریقۂ کارہوگا؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : ربُّ المال (Investor) اور مضارِب (Working Partner) باہمی رضامندی سے جب بھی مضاربت (Sleeping Partnership)ختم کرناچاہیں ، کرسکتےہیں۔ مضاربت ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مضاربت ختم ہو تو جتنی رقم کیش کی صورت میں موجود ہے ، اس سے مزید خریداری نہ کریں ، مضاربت کے پیسوں سے خریدا گیا مال موجود ہےتومضارب اس مال کو بیچ کر کیش کی صورت میں لے آئےاورجمع ہونے والی اِس رقم سے بھی مزید کوئی خریداری نہ کرے۔ ساری رقم کیش کی صورت میں آنےکے بعد تمام اخراجات (Expenses)  مال ِ مضاربت  سے الگ کرلیں۔ پھرراسُ المال (Capital)کو ربُّ المال (Investor) کے سپرد کرنے کے بعد جو نفع ہوا ، باہمی قرارداد کے مطابق  آپس میں تقسیم کر لیں۔ اگر نقصان ہو تو پھر اس کی جداگانہ تفصیل ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

حج و عمرہ کے ایجنٹس کا، فی پاسپورٹ کمیشن لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا اسٹیٹ کا کام ہےہم کسی کو کام دلواتے ہیں مثلاً  کسی کارپینٹر کو کچن کا کام دلواتے ہیں توہم اسے کہتے ہیں کہ ہمارا کمیشن رکھ لیجئے گا وہ ہمارا کمیشن رکھ کر کسٹمر کو پیسے بتاتا ہے کہ اتنے میں کام ہوگا بعد میں وہ ہمیں ہمارا کمیشن دے دیتا ہے۔ اسی طرح حج و عمرہ کے کام میں اس طرح ہوتا ہے کہ ہم ان سے فی پاسپورٹ  کے حساب سے بات کر لیتے ہیں کہ ہمارے ذریعے سے جتنے افراد جائیں گےفی پاسپورٹ کے ٹریول ایجنسی والے سے پانچ ہزار دوہزار وغیرہ کمیشن لے لیتے ہیں۔ ہمارا اس طرح کام کرنا کیسا ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : کسی کاریگر کو کام دلوا کر اس پر کمیشن لینا جائز ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ کاریگر سے آپ کا  پہلے سے معاہدہ ہو کہ میں آپ کو کام دلواؤں گا تو آپ مجھے اس پر اتنا کمیشن دیں گے۔ دوسری بات یہ  کہ  کاریگر کو اس پارٹی سے ملوانے اور اسے کام دلوانے  میں آپ کی محنت شامل ہو۔ اگر آپ کہیں سے گزر رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک مکان میں توڑ پھوڑہورہی ہےاور آپ نے کاریگر کو فون کر دیا کہ اس مکان میں چلے جاؤ ہوسکتا ہے کہ تمہیں کام مل جائے ، تو یہ کام دلوانا نہیں کہلائے گا اور اس پر کمیشن کے حقدار بھی نہیں ہوں گے۔ دونوں پارٹیوں کو ملوانے میں  خود محنت (Physical Activity) کرتے ہیں اس کو ساتھ لے جاتے ہیں ملوا دیتے ہیں تو یہ کام کرنے پر آپ کمیشن کے مستحق ہوں گے۔ یہی معاملہ حج و عمرہ کے ایجنٹس کا ہے یعنی جو کاروان والے ہوتے ہیں یا ٹریول ایجنٹس ہوتے ہیں ان کے لئے لوگ گاہگ لے کر آتے ہیں ان کا پہلے سےٹریول والے سے معاہدہ ہوتا ہے کہ میں آپ کے پاس گاہگ لے کر آؤں گا تومجھے فی پاسپورٹ اتنا کمیشن ملے گا یہ بھی ایک ایسا      کام ہے  جس کا معاوضہ طے کیا جا سکتا ہے لہٰذا اس کا معاوضہ لینا بھی  درست ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

اسکول انتظامیہ کا وین والے سے فی طالب علم کمیشن لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اسکول والے گاڑی والے سے فی اسٹوڈنٹ کے حساب سے ماہانہ کمیشن لیتے ہیں  کہ جتنے بچے ان کے اسکول سے اٹھائیں گے فی اسٹوڈنٹ اتنے روپے اسکول والوں کو دینے ہوں گے۔  کیا ان کا گاڑی والے سے یہ کمیشن لینا جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : پوچھی گئی صورت میں اسکول والوں کا گاڑی والے سے ماہانہ کمیشن لینا جائز نہیں کیونکہ  یہاں اسکول والوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ کمیشن کے مستحق ہوں بلکہ گاڑی والے عموماً اسکول کے باہر کھڑے ہوتے ہیں والدین کو بھی معلوم ہوتا ہے والدین خود گاڑی والے سے بات کرتے ہیں اور بچے کو لانے لے جانے کے معاملات اور فیس وغیرہ خود طے کرتے ہیں تو یہاں اسکول والوں کی طرف سے کوئی ایسا کام کرنا نہیں پایا گیا جس کا وہ معاوضہ طلب کریں۔

ہاں اگر اسکول والوں نے دونوں  پارٹیوں کو ملوانے میں کوشش و محنت کی ہو تو پھر زیادہ سے زیادہ ایک مرتبہ کمیشن لینے کے مستحق ہوں گے ،  ہر مہینے ایک مخصوص حصہ لینے کے  پھر بھی مستحق نہیں  ہوں گے لہٰذا ان کا ہر ماہ وین والوں سے رقم لینا حرام ہے اور یہ آمدنی بھی حرام ہے ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code