معجزاتِ مصطفیٰ

فرمانِ باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا(۱۷۴) ترجمہ : اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ گئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا۔ (پ6 ، النسآء : 174)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 بُرْھَان سے مراد ایک قول کے مطابق قرآنِ مجید ہے اور جمہور مفسرین کے مطابق اس سے مراد رسولِ کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ہیں۔ حضرت سفیان ثوری ، امام ابنِ جریر طبری ، امام رازی اور علامہ قرطبی نے فرمایا کہ بُرْھَان سے مراد حضرت محمد  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ہیں اور امام ابوحیان   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کا فرمان ہے : اَلْجُمْھُوْرُ عَلٰی اَنَّ الْبُرْھَانَ ھُوَ مُحَمَّدٌ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   جمہور کا مؤقف یہ ہے کہ آیت میں بُرْھَان سے مراد محمدِ مصطفیٰ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ہیں۔ (البحر المحیط ،  النسآء ، تحت الآیۃ : 174 ، 3 / 570)

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو معجزہ عطا فرمایا اور ہمارے نبی   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو سب سے زیادہ معجزات عطا کئے حتی کہ آپ کو سراپا معجزہ بنا کر بھیجا۔ معجزہ کا لفظی معنیٰ ہے : “ عاجز کردینے والی شے “ معجزہ ظاہری اسباب و عادت سے ہٹ کر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ خلافِ عادت و اسباب کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دنیا کے ظاہری اسباب کے بغیر اور روٹین میں ایسا نہیں ہوتا جیسے کوئی زمین کو اشارہ کرے تو اس سے پانی کا چشمہ ابل پڑے۔

عادت و اسباب سے ہٹ کر جو موافق چیز واقع ہو اس کی پانچ قسمیں ہیں : (۱)اِرہاص : نبی سے جو خلافِ عادت بات اعلانِ نبوت سے پہلے ظاہر ہو اس کو اِرہاص کہتے ہیں جیسے پتھر کا سلام کہنا ، (۲)معجزہ : نبی سے اعلانِ نبوت کے بعد ایسی خلافِ اسباب و عادت ظاہر ہونے والی چیز جس کی مثل لانے سے منکرین عاجز ہوں جیسے انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کرنا ، (۳)کرامت : ولی سے جو بات خلافِ عادت صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں جیسے دور دراز سے مدد کرنا ، (۴)معونت : عام مومنین سے جو بات خلافِ عادت صادر ہو اس کو معونت کہتے ہیں جیسے بھوک کے وقت غیب سے کھانا ظاہر ہوجانا ، (۵)استدراج : بےباک فجار یا کفار سے جو بات ان کے موافق ظاہر ہو اس کو استدراج کہتے ہیں جیسے ہوا میں اڑنا۔

(بہار شریعت ، 1 / 58 والنبراس ، ص272مع التسہیل)

ارہاص و معجزہ دونوں کا تعلق نبی ہی سے ہوتا ہے البتہ ان میں فرق یہ ہے کہ اِرہاص اعلانِ نبوت سے پہلے اور معجزہ اعلانِ نبوت کے بعد ہوتا ہے جیسے نبیِّ کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے اعلانِ نبوت سے پہلے آپ پر بادلوں کا سایہ کرنا یا شقِ صدر (یعنی فرشتوں کا آپ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا سینہ اقدس کھولنا) اِرہاصات ہیں جبکہ اعلانِ نبوت کے بعد شقِ صدر معجزہ ہے۔

معجزے کے لئے قرآنِ مجید میں آیت ، بَیِّنَہ ، برہان ، تائید و نصرت مِنَ اللہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ معجزے کی حکمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی تائید و تصدیق ہےکہ یہ سچا نبی ہے جیسے کوئی شخص کسی بادشاہ کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرے اور کہے کہ بادشاہ میرے اس نمائندہ ہونے کی تصدیق کے طور پر میری بات مانے گا پھر واقعی اس کے کہنے پر بادشاہ کسی کی سزا معاف کر دے یا کسی کو خزانہ دیدے۔

تمام نبیوں کو معجزات عطا کئے گئے جن میں متعدد کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے اور ائمہ دین کی تصریحات کے مطابق سب نبیوں کو معجزات ہمارے پیارے آقا   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے توسُّل ہی سے ملے جیسے امام بوصیری فرماتے ہیں :

وَکُلُّ آیٍ اَتَی الرُّسُلُ الْکِرَامُ بِہَا                                             فَاِنَّمَا اتَّصَلَتْ مِنْ نُوْرِہٖ بِہِمِ

      فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ہُمْ کَوَاکِبُہَا                                          یُظْہِرْنَ اَنْوَارَہَا لِلنَّاسِ فِی الظُّلَمِ

ترجمہ : (۱)تمام معجزات جو انبیاءِ کرام   عَلَیْہِمُ السَّلَام   لائے وہ ان کو ہمارے نبی   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے نور ہی کے فیضان سے ملے۔ (۲)ہمارے نبی   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   فضلِ الٰہی کے روشن آفتاب ہیں جبکہ بقیہ سارے نبی اِس آفتاب کے چمکتے ستارے ہیں جن کے انوار لوگوں پر تاریکیوں میں چمکتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت   عَلَیْہِ الرَّحْمَہ   فرماتے ہیں :

لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا

بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی

(حدائقِ بخشش ، ص152)

اور یہ بات سورۂ  اٰلِ عمران کی آیت نمبر81یعنی میثاقِ انبیاء والی آیت سے ظاہر ہے اور یہی بات حضورپُرنور   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے خود ارشاد فرمائی : اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي ترجمہ : میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا فرماتا ہے۔ (بخاری ، 1 / 43 ، حديث : 71) یہاں نہ تو خدا کے دینے میں حد ہے اور نہ حضور   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے تقسیم کرنے میں اور نہ لینے والوں میں۔

نبی کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اور دیگر انبیاء

کے معجزات میں متعدّد فرق

پہلا فرق : رسولِ کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو ہر نبی سے افضل معجزہ ملا ، مثلاً معراجِ ابراہیم اور معراجِ مصطفیٰ کا فرق دیکھیں۔ وہاں سیّدُنا ابراہیم   عَلَیْہِ السَّلَام   کو زمین پر کھڑا کرکے آسمانوں و زمین کی نشانیاں دکھائیں ، فرمایا : وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں۔ (پ7 ، الانعام : 75)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور یہاں افضل ترین فرشتہ بھیج کر ، اپنے حبیب   عَلَیْہِ السَّلَام   کو نیند سے جگا کر ، آسمانوں سے اوپر بلا کر معراج کا شرف عطا کیا ، سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی۔ (پ15 ، بنی اسرائیل : 1)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور سورۂ نجم میں آسمانوں سے اوپر جانے کا تذکرہ ہے۔

یونہی حضرت موسیٰ   عَلَیْہِ السَّلَام   کو معجزۂ کلام عطا فرمایا : وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ(۱۶۴) اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔ (پ6 ، النسآء : 164)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   لیکن مطالبۂ دیدار پر منع کر دیا رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تا کہ میں تیرا دیدار کر لوں۔ فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ (پ9 ،  الاعراف : 143)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  لیکن اپنے حبیب   عَلَیْہِ السَّلَام   کو بغیر عرض و درخواست کے خود اپنے پاس بلا کر دیدار کا شرف عطا کیا ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰) پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔ (پ27 ، النجم : 8تا10)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا :  مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷) آنکھ نہ کسی طرف پھری اور نہ حد سے بڑھی۔ (پ27 ، النجم : 17) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

دوسرا فرق : حضور   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو سب سے زیادہ معجزات ملے جیسا کہ کتبِ احادیث و فضائل مثلاً دلائلُ النبوَّۃ ، خصائصِ کبریٰ اور حُجَّۃُ اللہِ عَلَی الْعَالَمِین کےمطالعے سے ظاہر ہے نیز اولیاء کی کرامات بھی اپنے نبی کا معجزہ ہی ہوتی ہیں کہ انہی کی پیروی کی برکت سے یہ مقام ملتا ہے اور امتِ محمدیہ   عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کے اولیاءِ کرام کی کرامات شمار سے باہر ہیں اور یہ سب کرامات حضور پُرنور   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے معجزات ہیں۔

تیسرا فرق : نبیِّ کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے کئی معجزات ایسے ہیں کہ ایک معجزے میں بہت سے معجزے ہیں جیسے قرآن اور معراج کہ یہ دو معجزے ہیں لیکن ان دونوں کے ضمن میں بے شمار معجزات موجود ہیں۔

چوتھا فرق : ہر نبی کے زمانے میں جو چیز رائج تھی اس نبی کو اس سے ملتا جلتا معجزہ دیا گیا جیسے زمانۂ موسیٰ میں جادو کا زور تھا ، زمانۂ سلیمان میں جنات اور جادو کی کثرت تھی ، زمانۂ عیسیٰ میں طب ترقی پر تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی لوگوں کو اسی طرح کی چیزوں میں عاجز کر دینے والے معجزات دئیے اور چونکہ حضور   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   قیامت تک واجب الاتباع نبی ہیں تو فصاحت ، جادو ، طب ، طاقت ، سائنس ، سیٹلائٹ سب قسموں کے معجزات دئیے مثلاً فصاحت و بلاغت کے مقابلے میں فصیح و بلیغ قرآن دیا جس جیسی ایک چھوٹی سی سورت بنانا بھی ممکن نہیں۔ جادوگر کہا گیا تو آپ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے چاند کو دو ٹکڑے کر دیا جو کوئی جادوگر نہیں کر سکتا۔ طب نے ترقی کرنی تھی تو آقا کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ہاتھ سے چھو کر اور لعابِ دہن سے بیماروں کو شِفایاب کر دیا۔ سائنس کا خَلائی سفر کا زمانہ آنا تھا تو مصطفیٰ کریم   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو معراج کا معجزہ دیا گیا۔ سیٹلائٹ کا زمانہ آنا تھا تو ساری کائنات کو آپ کے سامنے کردیا ، چنانچہ فرمایا : ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے دنیا بلند کر دی تو میں اس کی طرف اور جو اس میں قیامت تک ہونے والا ہے اس کی طرف ایسے دیکھتا ہوں جیسے اپنا یہ ہاتھ دیکھتا ہوں۔ (معجم كبير ، 13 / 318 ، حديث : 14112) اورفرمایا : ترجمہ : تو میرے لئے ہر شے خوب ظاہر ہوگئی اور میں نے جان لیا۔ (ترمذی ، 5 / 221 ، حديث : 3235)

حسنِ یُوسُف دمِ عیسیٰ یدِبیضاداری

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !آپ کے پاس یوسف   عَلَیْہِ السَّلَام    کا حسن ، عیسیٰ   عَلَیْہِ السَّلَام   کی شفا بخشی کی طاقت اور موسیٰ   عَلَیْہِ السَّلَام    کے چمکتے ہاتھ والا معجزہ ہے۔ جو خوبیاں دیگر تمام انبیاء   عَلَیْہِمُ السَّلَام   میں تھیں وہ سب آپ کی ذات میں موجود ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code