ہم تھکے تھکےسے  کیوں رہتے  ہیں؟

270لوگوں کی موت:ایک خبرکے مطابق اپریل2019ء کو انڈونیشیا میں الیکشن کے دوران طویل وقت ووٹوں کی مسلسل گنتی کرتے ہوئے تھکاوٹ اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے 270 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ (ڈان نیوز ، 28اپریل 2019) اسی طرح اگست 2005ء میں جنوبی کوریا کا ایک شخص پچاس گھنٹے تک مسلسل ایک ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے موت کا شکار ہوگیا جبکہ ستمبر 2007ء میں گانگجو ، چین کا ایک شخص انٹرنیٹ پر مسلسل تین دن تک آن لائن گیم کھیلتا رہا ، بالآخر تھک کر موت کی وادی میں اُتر گیا۔

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! انسانی جسم کی ساخت ایسی ہے کہ یہ لکھنے لکھانے ، پڑھنے پڑھانے ، وزن اٹھانے ، چلنے پھرنے ، کوکنگ ، سپر وائزنگ ، ڈرائیونگ جیسے کام کرنے سے تھک جاتا ہے ، اسے اپنی توانائی بحال کرنے کے لئے مناسب خوراک اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد یہ دوبارہ کام کرنے کے لئے فریش ہوجاتا ہے۔ یہ رُوٹین کی تھکاوٹ ہوتی ہے جس کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن بعض اوقات ہم تھوڑا سا کام کرنے پر زیادہ تھک جاتے ہیں یا جسمانی اور ذہنی کام کئے بغیر تھکے تھکے سے رہتے ہیں ، یہ پریشانی کی بات ہے کیونکہ ایسی کیفیت میں انسان کاموں سے جی چُرانے لگتا ہے ، نہ اس کا عبادت میں دل لگتا ہے نہ ملازمت کے تقاضے پورے کرپاتا ہے۔

ہم تھکے تھکے کیوں رہتے ہیں؟ ماہرین نے اس پر کئی تحقیقات (Researches)کی ہیں ، اِن تحقیقات کی مدد سے تھکاوٹ کی 10بڑی وجوہات (Reasons)اپنے الفاظ وانداز میں بیان کروں گا ، انہیں غور سے پڑھئے ، اچھی طرح سمجھئے پھر دیانت داری سے اپنے اندر تلاش کیجئے اور ان سے بچنے کی کوشش کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کی زندگی کا انداز تبدیل ہوجائے گا۔

تھکاوٹ کی 10وجوہات

(1)نامناسب خوراک:کھانا پینا ہمارے جسم کو طاقت اور قوّت فراہم کرتا ہے ، لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب ہم وہ چیزیں کھائیں پئیں جو ہمارے بدن کو ضروری وٹامنز ، آئرن اور کاربوہائیڈریٹس مُہَیّا کریں مثلاً دودھ ، دہی ، تازہ پھل یا ان کا جُوس ، سبزیاں ، مُرغی بکری یا مچھلی کا گوشت ، انڈے وغیرہ۔ اس کے برعکس اگر ہم جنک فوڈ ، کولڈ ڈرنکس ، ہوٹلوں کے ناقص مرچ مسالوں والے کھانے ، بازاری سموسے پکوڑے ، طرح طرح کی نقصان دہ مٹھائیاں اور دیگر آرٹیفیشل کھٹی میٹھی غیر معیاری اشیاء کھانے کے عادی ہوں گے تو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہمارے جسم پر تھکاوٹ غالب رہے گی۔ شیڈول بنائے بغیر جب چاہے کھا لینا یا بہت زیادہ کھانا بھی ہمارے جسم کو نقصان دیتا ہے لہٰذا جب ہم متوازن غذا کھائیں گے تو جسم کی غذائی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی اور ہم زیادہ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔ چونکہ ہر ایک کی خوراک اس کی عمر ، وزن ، قد اور صحت و بیماری کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے ، اس لئے اپنی خوراک کے بارے میں کسی ڈائٹ ایکسپرٹ (یعنی ماہرِ غذائیت) سے مشورہ کرلیجئے کہ مجھے کون کون سی چیز یں کتنی مقدار میں کس وقت کھانی یا پینی چاہئیں؟ امیرِ اہلِ سنّت   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی 2 کتابیں “ آدابِ طَعام “ اور “ پیٹ کا قفلِ مدینہ “ اس حوالے سے بہت معلوماتی ہیں ، ان کا مُطالَعَہ بھی کرلیجئے۔

(2)ناشتہ نہ کرنا:سونے کے دوران ہمارا جسم خون کی پمپنگ اور آکسیجن کو پھیلانے کے لئے توانائی استعمال کرتا رہتا ہے ، اس لئے جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو ناشتے کی شکل میں اپنی انرجی بحال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکول یا دفتر جلدی پہنچنے کی فکر میں یا ویسے ہی ناشتہ نہ کرنے کی عادت بنالینے کی صورت میں ہم تھوڑا سا کام کرنے پر جلدی تھک جاتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر سرگرمیاں ناشتے اور دوپہر کے کھانے(Lunch) کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہیں لہٰذا ناشتے میں پھلوں کا ہونا بھی بہت مفید ہے لیکن ہمارے یہاں اس کا رواج کم ہے اور ایک تعداد جسم پسند ناشتے کے بجائے مَن پسند ناشتے جیسے چائے پراٹھا ، نان پائے ، حلوہ پوری وغیرہ کو ترجیح دیتی ہے۔

(3)پانی کا کم استعمال:پیاس لگے نہ لگے ہرشخص کو روزانہ کم اَز کم 12گلاس پانی پینا چاہئے لیکن ہم میں سے کئی لوگ پانی کم پیتے ہیں ، جس کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے جس سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے ، دل کی کارکردگی متأثر ہوتی ہے اور ہمارے پٹھوں اور جسم کے دیگر حصّوں کو آکسیجن کی فراہمی کم ہوجاتی ہے جس کا رِزلٹ تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

(4)نیند پوری نہ ہونا:عمر کے مختلف حصوں میں انسان کو “ نیند‘‘  کی مختلف مقدار درکار ہوتی ہے۔ ایک طبّی تحقیق کے مطابق کم سِن بچوں کے لئے 12 سے 15 گھنٹے ، پندرہ سے چالیس سال والوں کے لئے  7 سے 8 گھنٹے جبکہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے 6 گھنٹے کی “ نیند “ ضروری ہے *نیند ہمارے جسم کی کھوئی ہوئی توانائی کو واپس لانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے ، سونے کے بعد انسان خود کو تازہ دم محسوس کرتا ہےلیکن جو لوگ رات کو پُرسکون نیند نہیں سو پاتے ، انہیں دن میں غُنودگی کے ساتھ ساتھ اپنے جسم میں تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی ہے *پُرسکون نیند کے لئے خواب گاہ کا ماحول بہت اہمیت رکھتا ہے ، بے آرام بستر پر بہت تیز روشنی والی یا پھر شور والی جگہ پر سونے سے نیند کے مَقاصِد پورے نہیں ہوپاتے *موبائل ، لیپ ٹاپ یا ٹی وی اسکرین دیکھتے دیکھتے سونا بھی نقصان دیتا ہے کیونکہ اس سے وہ ہارمون متأثر ہوتا ہے جو نیند کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہےچُنانچہ دن کا آغاز تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ ہوتا ہے*اسی طرح رات کو آنکھ کھلنے کی صورت میں موبائل پر واٹس اپ ، فیس بک وغیرہ چیک کرنا پھر ان کے جوابات میں مشغول ہوجانا بھی نیند کو ڈسٹرب کرتا ہے بلکہ بعض اوقات تو نیند ہی اُڑ جاتی ہے ، لہٰذا رات کو آنکھ کھلنےپر شدید ضرورت کے بغیر موبائل نہ کھولئے *چھٹی والے دن رات دیر تک جاگنا اگلے دن دفتری یا کاروباری کاموں میں زیادہ تھکا دیتا ہے اس لئے چھٹی والے دن بھی شیڈول کے مطابق آرام کیجئے*رات گئے جاری رہنے والی تقاریب میں شرکت کا معمول بھی نیند کے مسائل کھڑے کرتا ہے *جنہیں ٹھیک سے نیند نہیں آتی وہ نیند آور گولیوں سے حتَّی الامکان دُور رہیں اور اِس کی عادت تو ہرگز مت بنائیں کیوں کہ شروع میں اگرچِہ ان سے نیند آجاتی ہے مگر پھر رفتہ رفتہ ان گولیوں کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے اور بِالآخِر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ چاہے کتنی ہی گولیاں کھا لی جائیں نیند نہیں آتی! *قَیلولَہ بھی کیجئے ، دوپہر میں تھوڑی دیر آرام کرنے کو قیلولہ کہتے ہیں۔ جہاں رات کی نیند جسم کو سکون دیتی ہے وہیں دن کو کھانے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرلینا جسم میں توانائی بَحال کرنے میں جادوئی اثر رکھتا ہے۔ رات کو نوافل پڑھنے ، ذِکر و اَذکار کرنے اور دینی کتابوں کا مُطالَعَہ کرنے والوں کو اس کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے اِرشاد فرمایا : قِیْلُوْا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَایَقِیْلُ یعنی قیلولہ کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ (المعجم الاوسط ، 1 / 17 ، حدیث : 28) علّامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : دوپہر کے وقت سونے کو قیلولہ کہتے ہیں اور یہ مستحب ہے کیونکہ یہ رات کی نماز پر مددگار ہے۔ (التیسیر ، 2 / 201)

(5)مختلف بیماریاں:شوگر ، بلڈپریشر ، امراضِ قلب ، خون کی کمی (اینیمیا) ، ہیپاٹائٹس ، موٹاپا ، ہڈیوں کی کمزوری ، پٹھوں کا کھنچاؤ ، کمر درد ، آدھے سر کا درد ، ناک کان گلے کی خرابیاں ، پیشاب کے مسائل اور ٹائیفائیڈ جیسی کئی بیماریاں بھی مسلسل تھکاوٹ کا سبب بن سکتی ہیں ، اس لئے اگر آپ لمبے عرصے تک خود کو تھکا تھکا محسوس کرتے ہوں تو کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک اپ ضرور کروائیں۔

(6)دوائیوں کےسائیڈ افیکٹس:بعض اوقات کسی بیماری کے لئے استعمال کی جانے والی اَدْوِیات کے سائیڈ افیکٹس کچھ عرصے بعد سامنے آتے ہیں جو جسمانی درد ، کمزوری اور تھکاوٹ کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اپنے طبیب (ڈاکٹر یا حکیم) سے مشورہ کرلیجئے۔

(7)روزانہ واک یا ورزش نہ کرنا:چُست اور تَوانا رہنے کے لئے وَرزش بہت اَہَم ہے اور روزانہ کچھ دیر مسلسل پیدل چلنا بھی ورزش کا ہی حصہ ہے۔ ہوسکے تو روزانہ صبح کے وقت 45 منٹ واک کیا کریں ، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کا ہاضِمہ دُرُست ہوگا ، خون کی گردش تیز ہوگی ، مختلف دَردوں اور تکالیف سے راحت ملے گی ، ٹینشن میں کمی آئے گی اور اگر خون میں گندہ کولیسٹرول زائد ہوا تو وہ بھی خارِج ہوگا اور دماغ کو تازَگی مُیَسَّر آئے گی ، جس کے نتیجے میں مسلسل تھکاوٹ میں کمی محسوس ہوگی۔ (خود کشی کا علاج ، ص71ملخصاً) اگر آپ واک کے علاوہ بھی کوئی ورزش کرنا چاہیں تو پہلے کسی ماہر سے مشورہ کرلیں کیونکہ ہر ورزش ہر شخص کو فائدہ نہیں دیتی ، لیکن ورزش کے لئے ایسے جِم یا کلب میں جانے سے پرہیز کیجئے جہاں نیکر پہن کر گُھٹنے اور رانیں کھلی رکھ کر یا میوزک چلا کر ورزش کی جاتی ہو۔

(8)چلنے پھرنے اور بیٹھنے کا انداز:چلنے پھرنے ، پڑھنے لکھنے اور بیٹھنے کے دوران ہمارے سر ، گردن ، کمر اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کی پوزیشن بھی تھکاوٹ میں اضافہ یا کمی کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ دائیں یا بائیں سائیڈ یا بہت آگے کی طرف جھک کر یا کرسی پر ٹیک لگائے بغیر پاؤں ہَوا میں لٹکا کر بیٹھنے والوں کو تجربہ ہوگا کہ اس طرح بیٹھنے سے تھکاوٹ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اپنے بیٹھنے کے انداز کو تبدیل کریں تھکاوٹ کا کافی علاج مُفت میں ہوجائے گا۔

(9)مسلسل بیٹھے رہنا:ایک ہی جگہ پر پوزیشن بدلے بغیر کئی گھنٹے بیٹھے رہنے سے بھی خون کا دورانیہ سُست پڑتا ہے اور جسم کے کئی حصوں میں آکسیجن کم پہنچتی ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ زیادہ محسوس ہوتی ہے *وہ لوگ جو 8 گھنٹے بیٹھ کر کام کرتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ مناسب وقفے کے بعد کرسی چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوں اور چند قدم چلنے کے بعد دوبارہ بیٹھ جائیں ، اس کام میں ایک دو منٹ لگیں گے لیکن تھکاوٹ کے احساس میں خاصی کمی ہوگی ، اِنْ شَآءَ اللہ  *اسی طرح مسلسل کمپیوٹر پر کام کرنےوالے بھی دماغی طورپر جلدی تھک جاتے ہیں ، یہ بھی چاہیں تو ہر 19منٹ کے بعد کمپیوٹر اسکرین سے نظریں ہٹاکر 19سیکنڈز کے لئے 19فُٹ دور کسی شے مثلاً سبز پودے یا دیوار وغیرہ کو دیکھ لیا کریں تو انہیں فائدہ ہوگا *یونہی آٹھ دس گھنٹے لمبی ڈرائیونگ کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ ریسٹ ایریا آنے پر تھوڑی دیر رُک جایا کریں اور مسافروں سمیت گاڑی سے نکلنے کے بعد تھوڑی چہل قدمی کرلیں اس کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجائیں۔

(10)کام کا غیرضروری دباؤلے لینا:یہ دُرست ہے کہ کوئی بھی کام اسی وقت معیاری ہوسکتا ہے جب اسے ذمّہ داری اور سنجیدگی سے کیا جائے لیکن *بِلاضرورت ایک ہی وقت میں چار پانچ کاموں کو مکمل کرنے کی کوشش کرنا *ایک کام کو مطلوبہ وقت سے پہلے جلدی جلدی کرنے کی کوشش کرنا *آئے دن روٹین سے ہٹ کر زیادہ دیر کام کرنا کہ میں اس کام کو مکمل کرنے کے بعد ہی آرام کروں گا *چھٹی والے دن بھی دفتری کام پر لگے رہنا *آئے روز دفتر کا کام گھر پر لے جانا اور *وہ کام کرنا جس میں انسان کی دلچسپی اور شوق نہ ہو ، انسان کو غیر معمولی طور پر تھکا دیتا ہے۔ اگر ایسا شخص اپنا انداز تبدیل نہیں کرتا اور اپنا شیڈول نہیں بناتا تو کچھ ہی عرصے میں وہ اپنی طاقت و ہمّت کھو سکتا ہے جس کے بعد تھکاوٹ کا بڑھتا ہوا احساس اس کی زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! اگر آپ خود پر غور کریں گے تو کئی مزید اسبابِ تھکاوٹ پالیں گے۔ عبادت کی قوّت ، رزقِ حلال کمانے کی کاوِش کے لئے اگر اچّھی نیّت سے اپنی تھکاوٹ کی کثرت کا حَل نکالیں گے توراحتِ زندگی کے ساتھ ساتھ ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*چیف ایڈیٹر ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

 

Share

Articles

Comments


Security Code