حضرت  سیّدنا حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ

ایک صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں صبح کرتا اور دروازے پر کسی حاجت مند کو دیکھتا تو یقین کرتا ہوں کہ یہ مجھ پر اللہ پاک کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے ، اور جب صبح کرتا اور دروازے پر کوئی حاجت مند نہیں پاتا تو (صبر کرکے) یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ ان مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے جن پر میں نے اللہ پاک سے ثواب مانگا تھا۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو! ثواب کی طلب اور خیر خواہی کے جذبے سے لبریز یہ مبارک فرمان ، صحابیِ رسول حضرت سیّدنا حَکیم بن حِزام رضی اللہ عنہ کا ہے۔ حلیہ و پیدائش: آپ رضی اللہ عنہ واقعۂ فیل سے 12 یا 13 سال پہلے پیدا ہوئے آپ کی رنگت گہری گندمی جبکہ داڑھی چِھدری (کم گھنی) تھی۔ ([2]) قبولِ اسلام اور اعزازات: آپ رضی اللہ عنہ سِن 8 ہجری میں فتحِ مکّہ کے موقع پر اسلام لائے اور بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے یہ اعزاز پایا : جو حَکیم بن حِزام کے گھر میں داخل ہوگا اسے امان ہے ، اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی تھیں جبکہ حضرت زُبیر بن عوام رضی اللہ عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے ، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے (حالات ناسازگار ہونے کی وجہ سے) رات کے وقت حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین کی۔ ([3]) آپ رضی اللہ عنہ کے 4 بیٹے تھے سب نے صحابی ہونے کا شرف و اعزاز پایا۔ ([4]) بیعت: آپ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے اس بات پر بَیعت کی کہ اسلام پر ثابت قدم رہتے ہوئے اس دنیا سے جاؤں گا۔ ([5]) اَوصاف:آپ رضی اللہ عنہ علم و فضل ، عزت و شرافت ، سخاوت ، تقویٰ و پرہیز گاری اور سرداری جیسے عُمدہ اوصاف سے مالا مال ہونے کے ساتھ نہایت سمجھدار اور بڑی شان والے تھے۔ دورِ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں قریش کے مُعزّز  لوگوں میں آپ کا شمار ہوا۔ ([6]) ذہانت: دارُالنَّدْوَہ جہاں اہلِ مکّہ جمع ہوکر کسی معاملے میں مَشورہ کیا کرتے تھے وہاں 40 سال سے کم عمر افراد کو داخلے کی اجازت نہ تھی مگر آپ اپنی ذہانت اور سمجھداری کی وجہ سے 15 سال کی عمر میں مشورے میں شریک ہوئے۔ ([7]) حاضر جوابی: ایک مرتبہ آپ بڑھاپے میں اپنی لاٹھی (Stick) کے سہارے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے ، ان نوجوانوں کو شرارت سوجھی ، ایک نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : حافظہ چلے جانے کے بعد آپ کو اب کچھ یاد بھی ہے؟ آپ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کا ارادہ سمجھ گئے لہٰذا فرمایا : تم فلاں کے بیٹے ہو ، اس نے کہا ، جی ہاں! آپ نے فرمایا : حافظہ چلے جانے کے بعد بھی مجھے یاد ہے کہ جوانی میں تمہارا باپ مکّے میں لوہا کُوٹا کرتا تھا۔ ([8]) کیوں شرماؤں؟ آپ (عمر رسیدہ ہونے کے باوجود) حضرت سیّدنا مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو قراٰن سنایا کرتے تھے ، کسی نے کہا : آپ اس لڑکے کو قراٰن سناتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہمیں تکبر نے ہی برباد کیا ہے۔ ([9]) عاجزی: آپ رضی اللہ عنہ گھریلو سامان ، اوزار اور راشن خریدتے ، پھر سامان اٹھانے والا کوئی نہ ملتا تو اس سامان کو خود ہی اٹھالیتے۔ ([10]) تجارت میں بَرَکت: آپ رضی اللہ عنہ زندگی بھر تجارت کرتے رہے مگر کبھی بھی اور کہیں بھی اورکسی سودے میں بھی کوئی نقصان اور گھاٹا نہیں ہوا بلکہ اگر مٹی بھی خریدتے تو اس میں نفع ہی نفع ہوتا کیونکہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کے لئے یہ دعا کی تھی : اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْ صَفْقَۃِ یدِہٖ یعنی اے اللہ! اس کے بیوپار میں برکت عطافرما۔ ([11]) سخاوت:آپ رضی اللہ عنہ بڑے سخی تھے ، آپ نے 100 غلام آزاد کئے اور 100 آدمیوں کو سواری دے کر حج کرائے اور جب خود حج کیا تو 100 غلام ، 100اونٹ ، 100 گائے ، 100بکریاں ساتھ تھیں ، رضائے الٰہی کے لئے غلام آزاد کردئیے اور جانوروں کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دار الندوہ نامی گھر حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضیَ اللہ عنہ کو ایک لاکھ درہم یا چالیس ہزار دینار میں فروخت کرکے ساری رقم راہِ خدا میں دے دی۔ ([12]) غریبوں کی مدد:حضرت سیّدُنا حَکیم بن حِزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں زمانۂ جاہلیت میں کپڑےکی تجارت کرتا تھا ، یمن اور شام کی طرف سفر کرتا اور اس میں بہت نفع کماتا تھا ، پھر اپنے خاندان کے غریب لوگوں کے پاس آتا (اورمال تقسیم کردیتا) میرا مقصد یہ ہوتا تھا کہ خاندان والوں کے ساتھ محبت میں اضافہ ہو اور وہ بھی مال دار ہو جائیں۔ ([13]) بنو ہاشم کی مدد:اعلانِ نبوّت کے ساتویں سال کُفّارِ قریش نے ایک مُعاہَدہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم محمد (صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم )کو ان کے حوالے نہیں کردیتے تب تک بنو ہاشم سے (میل جول ، بات چیت ، خرید و فروخت ، رشتے ناطے سب ختم یعنی مکمل ) بائیکاٹ ہے پھر بنو ہاشم کو مکّے سے باہر ایک گھاٹی میں محصور ہونے پر مجبور کردیا گیا ، ملکِ شام سے حضرت حَکیم بن حِزام کا قافلہ آتا تو آپ گندم سے بھرا ہوا اونٹ گھاٹی کے قریب لاکر اسے ہنکادیتے تھے ، یوں اونٹ گھاٹی میں داخل ہوجاتا اور بنو ہاشم اس گندم کو لے لیتے۔ ([14]) یتیم پر شفقت: آپ رضی اللہ عنہ اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے ، جب کھانا لایا جاتا تو آپ اندازہ لگاتے کہ اس کھانے کو دو یا تین یا مزید کتنے افراد کھاسکتے ہیں ، پھر اسی حساب سے قریش کے یتیموں کو بلوالیتے۔ ([15]) جنّت میں جانے کا شوق: ایک مرتبہ آپ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال کیا : کیا چیز (مجھے) جنّت میں داخل کرے گی؟ارشاد فرمایا : تم کسی سے کوئی چیز مت مانگنا ، پھر حضرت حَکیم بن حِزام رضی اللہ عنہ (نے اس بات کو اپنی گرہ میں ایسا باندھا کہ ) اپنے خادم کو یہ بھی نہ کہتے کہ مجھے پانی سے سیراب کرو اور نہ اس سے وضو کے لئے کچھ (پانی ، برتن وغیرہ ) لیتے۔ ([16])  اپنا حق بھی نہ لیتے: ایک مرتبہ موسمِ حج میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو آپ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیجی تاکہ وہ اس کے دودھ سے سیراب ہوجائیں ، سیراب ہونے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : آپ کون سی غذا کھاتے ہیں ، فرمایا : گوشت کا ٹکڑا ، جو میرے پاس نہیں ہے ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کچھ عطیہ بھیجا ، مگر آپ رضی اللہ عنہ نے اسے لینے سے انکار کردیا اور کہا : نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بعد میں نے کبھی کسی سے کوئی چیز نہیں لی حالانکہ حضرت سیّدنا ابو بکر و سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے میرا حق دینا چاہا تھا لیکن میں نے اسے بھی لینے سے انکار کردیا۔ ([17]) مُجاہِدانہ زندگی: 8ہجری میں مسلمانوں کی طرف سے غزوۂ حُنین و طائف میں حصہ لیا۔ ([18])  انتقال:آپ رضی اللہ عنہ نے 120سال کی طویل عمر پائی یہاں تک کہ بینائی بھی چلی گئی تھی ، انتقال سے پہلے مسلسل یہ الفاظ کہتے رہے : لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اُحِبُّکَ وَ اَخْشَاکَ یعنی (اے اللہ!) تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے مَحبت کرتا ہوں اور تجھ سے خوف رکھتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا وصالِ باکمال سِن 54 یا 58 ہجری کومدینے میں ہوا۔ ([19])  کُتبِ احادیث میں آپ رضی اللہ عنہ سے تقریباً 40 حدیثیں روایت ہیں جن میں سے4 اَحادیث بخاری اور مسلم میں ہیں۔ ([20])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*مُدَرِّس مرکزی جامعۃ المدینہ ، عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 



([1] )    تاریخ ابن عساکر ، 15 / 125

([2] )    تاریخ ابن عساکر ، 15 / 100

([3] )    سیر اعلام النبلاء ، 4 / 233 تا 237 ملتقطاً

([4] )    استیعاب ، 1 / 417

([5] )    معجم کبیر ، 3 / 195 ، حدیث : 3106

([6] )    استیعاب ، 1 / 417 ، سیر اعلام النبلاء ، 4 / 238

([7] )   سیر اعلام النبلاء ، 4 / 237

([8] )    تاریخ ابن عساکر ، 15 / 127

([9] )    کشف المشکل لابن الجوزی ، ص63

([10] )   تاریخ ابن عساکر ، 15 / 103

([11] )    معجم کبیر ، 3 / 205 ، حدیث : 3136 ، کراماتِ صحابہ ، ص254 ملخصاً

([12] )    الوافی بالوفیات ، 13 / 81 ، مراٰۃ المناجیح ، 4 / 247ملخصاً

([13] )    تھذیب الکمال ، 3 / 77

([14] )    سیرت حلبیہ ، 1 / 475 ، تھذیب الکمال ، 3 / 78

([15] )    تاریخ ابن عساکر ، 15 / 122

([16] )    الوافی بالوفیات ، 13 / 81

([17] تاریخ ابن عساکر ، 15 / 103

([18] )    سیر اعلام النبلاء ، 4 / 238

([19] )    تاریخ ابن عساکر ، 15 / 128

([20] )    سیر اعلام النبلاء ، 4 / 238

Share

Articles

Comments


Security Code