درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کے بارے میں حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ میرا بھائی درزیوں  کا کام کرتا ہے،گاہَک سوٹ کے حساب سے کپڑا دے کر جاتے ہیں ،اوروہ  اپنی کاریگری سے کاٹ کر اس میں سے کچھ نہ کچھ کپڑا بچا لیتا ہے،اور بعض اوقات ایک ہی گھر کے  کئی جوڑے ایک ہی تھان سے ہوتے ہیں ،اگر ان کو احتیاط سے کاٹا جائے توان سے زیادہ کپڑا بچ جا تا ہے جو بآسانی استعمال میں لایا جا سکتا ہےیعنی اس سے چھوٹے بچوں کا ایک آدھ سوٹ بن جاتا ہے، کیا یہ بچا ہوا کپڑا ہم اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں ،برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟سائل:اکبر علی لودھینیو بہگام ،گوجر خان ضلع راولپنڈی)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ

 اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

 صورتِ مسئولہ میں آپ کا بھائی اجیرِ مشترک([1])(اس کی وضاحت حاشیے میں  پڑھئے)  ہے ،اور اجیرِ مشترک کے ہاتھ میں لوگوں کی چیز امانت ہوتی ہے،لہذا سوٹ سینے کے بعد جو قابلِ اِنتفاع (جس سے فائدہ اٹھایا جاسکے)کپڑا بچ جائے ،تو وہ بھی آپ کے  بھائی کے ہاتھ میں امانت ہے،اسکا حکم یہ ہے کہ مالک کو واپس کر دیا جائے ،مالک کی اجازت کے بغیر  اپنے استعمال میں لانا ناجائز و حرام ہے ،ہاں !اگر مالک اسکے استعمال کی اجازت دیدےیا وہ قابلِ انتفاع نہیں بلکہ بالکل معمولی مقدا ر میں ہے جیسے کترن،تو اسکے استعمال میں حرج نہیں  لیکن کَترَن سے مراد بہت باریک کترن ہے ، یہ نہیں کہ آدھے گز کو کَترَن کا نام لے رکھ لیا جائے۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم القادری

22محرم   الحرام1438ھ/24اکتوبر 2016ء

شرکتِ عمل میں کیا برابر کا وقت دینا ضروری ہے؟

کیا فرماتےہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہم چار اسلامی بھائیوں نے پراپرٹی ڈیلنگ کا  کاروبار شروع کیا ہے سب نے دفتر میں برابر مال لگایا ہے اور ماہانہ دفتری اخراجات بھی برابری کی بنیاد پر ہوں گےاور کمیشن بھی برابر تقسیم ہو گا مگر ہمیں وقت کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے کہ کیا کام کے لئے  چاروں کا برابر وقت دینا ضروری ہے یا کوئی کمی بیشی کی جا سکتی ہے ؟     

 سائل:محمد خرم عطاری(محلہ یوسف آباد، وہاڑی)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ

اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دریافت کی گئی صورت شرکتِ عمل([2]) (اس کی وضاحت حاشیے میں  پڑھئے) کی ہے اور شرکتِ عمل میں  کام میں برابری شرط نہیں تو وقت،جس میں کام کا وقوع ہو گا، اس میں بھی برابری لازم نہیں ہو گی لہٰذاآپ اگر بعض  کے  لیے کم وقت اور بعض کے لیے  زیادہ وقت  دینا طے کرلیں تو اس میں حرج  نہیں۔ وَاللہُ  اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

  محمد  ہاشم خان العطاری المدنی

  17محرم الحرام1438 ھ/19اکتوبر6 201 ء

-------------------------------------------



(1)اجیرِ مشترک:جس کے لئے کسی وقت خاص میں ایک ہی شخص کا کام کرنا ضروری نہ ہو،اُس وقت میں دوسرے کا بھی کام کرسکتا ہو، جیسے دھوبی، خیاط(درزی)۔(بہارِشریعت،ج3، ص155)

(2)شرکت بالعمل یہ ہے کہ دو کاریگر لوگوں کے یہاں سے کام لائیں اور شرکت میں کام کریں اور جو کچھ مزدوری ملے، آپس میں بانٹ لیں۔(بہارشریعت،ج2، ص505)

Share

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم

نفع کتنا لینا جائز ہے؟:شرعاً نفع (Profit) کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، فریقین کی باہمی رضا مندی سے بغیر کسی قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ کے جو بھی طے پا جائے اس کا لینا جائز ہے، البتہ بعض اوقات گورنمنٹ کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بعض چیزوں کے ریٹ مقرر کر دئیے جاتے ہیں جن کی خلاف ورزی پر نہ صرف عزتِ نفس مجروح ہوتی بلکہ چوروں اور لٹیروں جیسے بُرے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے لہٰذا ایسی چیزوں کو مقررہ نرخ (بھاؤ) سے زائد ہرگز نہ بیچا جائے۔

تجارت کرنے والا شخص اگر حُصولِ نفع کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی اور حاجت روائی کی نیّت بھی رکھے تو اس کی یہ تجارت عبادت بن جائے گی۔ تجارت میں خیرخواہی کی صورتوں میں سےایک یہ بھی ہے کہ  سَستی اور معیاری چیز دی جائے۔ گاہک اگر سودے کی قیمت کم کرائے تو جس قدر ممکن ہو اسے رعایت دی جائے اور خالی لوٹانے کے بجائے تھوڑے نفع پر چیز فروخت کردی جائے۔

حکایت:حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ 1000 اُونٹنیاں بیچیں اور نفع میں صرف ان کی رسیاں رکھیں جنہیں آپ نے 1000 درہم میں بیچا  نیز 1000 درہم اونٹنیوں کےاس دن کے خرچے (یعنی چارے وغیرہ) کے پیسوں کی بھی بچت کی۔(احیاء العلوم،ج2، ص103)

٭حضرت بکْر بن خُنَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: خریدو اور بیچو اگرچہ قیمتِ خرید ہی پر کیونکہ یہ مال بھی ایسے ہی بڑھتا ہے جیسے کھیتی بڑھتی ہے۔(حلیۃ الاولیا،ج8، ص408،رقم:12704)

٭حضرتِ سَیِّدُنا علیّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اے گروہِ تُجّار! اپنا حق لو اور دوسروں  کا حق دو، سلامتی میں رہو گے اور تھوڑے نفع کو نہٹُھکراؤ، ورنہ زیادہ نفع سے بھی محروم ہوجاؤ گے۔(احیاء العلوم،ج2، ص103)٭حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:آپ مالدار کیسے بنے؟ فرمایا:تین وجہ سے (1)میں نے نفع کو کبھی نہیں ٹھکرایا (اگرچہ تھوڑاہی کیوں نہ ہو) (2)جب مجھ سے کسی جانور کا مطالبہ ہوتا ہے تو میں اسے بیچنے میں دیر نہیں کرتا اور (3)میں اُدھار نہیں بیچتا۔(احیاء العلوم،ج2، ص103)

نفع کم رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے بِکری(Sale) میں اضافہ ہوتا ہے اور آدمی مصروف رہتا ہے، جو لوگ زیادہ تر کام میں مصروف رہتے ہیں وہ بہت کم پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں  کیونکہ ان کے پاس سوچنے کا وقْت ہی نہیں ہوتا کہ وہ پریشان ہوں۔ جبکہ نفع زیادہ رکھنے میں عام طور پر سیل  کم اور ”بیٹھا بیٹھی“ زیادہ ہوتی ہے اور دن کا وقْت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذہن میں دباؤ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے کہ آج بِکری (Sale) نہیں ہو رہی یا کم ہو رہی ہے۔ بعض تاجر جلد اَز جلد مالدار بننے کے چکّر میں زیادہ نفع پر تجارت کرتے ہیں، ایک ہی چیز دیگر جگہ سَستی بِکتی ہے اور ان کے ہاں مہنگی، نفع کے حُصول میں بازار کے عُرف کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ نفع حاصل کرنے کا ایک اُصول یہ بھی ہے کہ عام چیزوں (Regular Items) میں نفع کم لیا جائے جبکہ نادِر و نایاب چیزوں (Monopoly Items) میں نفع کی مقدار کو بڑھایا جاسکتا ہے لیکن خیر خواہی یہ ہے کہ اس میں بھی نفع کم رکھا جائے۔ جن چیزوں کی فروخت میں بھاؤ تاؤ ہوتا ہے ان میں بعض دکاندار بہت زیادہ نفع رکھ کر قیمت بتاتے ہیں پھر جب گاہک اس کے مہنگے ہونے کی وجہ پوچھتا ہے تو بارہا اس کی صفائی میں ”سیلز مینی  کے جوہر“دِکھاتے ہوئے اپنی چیز کی خوبی (Quality) بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور جھوٹ، دھوکا دہی وغیرہ برائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

بھروسا کرنے والوں سے زیادہ نفع لینا؟:امامغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:”لوگ تھوڑے نفع پر قناعت نہیں کرتے اور زیادہ  نفع بغیر دھوکا دئیے حاصل نہیں ہوسکتا۔“ نیز سادہ لَوح لوگوں سے زیادہ نفع لینے کے متعلق فرماتے ہیں: سادہ لَوح اعتماد کرنے والے لوگوں سے زیادہ نفع لینا ظلم ہے(مزیدفرماتے ہیں:) زیادہ منافع عام طور پر دھوکے اور موجودہ بھاؤ کو چھپانے کے ذریعے ہی لیا جاتا ہے۔(احیاء العلوم،ج2، ص99،102، ملتقطاً)

Share

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم

مختصرتعارُف: شیخُ الاسلام حضرت حمّاد بن سَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اَولیا کے طبقے اَبدال میں سے تھے اورمُستَجابُ الدَّعْوات تھے (یعنی آپ کی دعا ئیں قبول ہوتی تھیں)۔حدیث اورعَرَبی لُغت کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ(یعنی مفتی) بھی تھے۔آپ کا وِصال مسجد میں نَماز کی حالت میں ہوا۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں: اگر میں یہ کہوں کہ میں نےحضرت حمّاد بن سَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تومیں ضرور اِس بات میں سچّا ہوں گا۔ آپ حدیث بیان کرنے،قراٰن پڑھنے یا تسبیح کرنے یا پھر نَماز ادا کرنے میں مشغول رہا کرتے تھے۔آپ کا دن انہیں  کاموں پر تقسیم تھا۔اگر آپ سے یہ کہا جاتا کہ کل آپ کا انتقال ہوجائے گا تو آپ اپنے عمل میں اضافہ کرنے پر قادرنہ تھے (کیونکہ آپ پہلے ہی اتنا عمل کرتے تھے)۔(سیر اعلام النبلاء،ج7، ص 338تا 341)

حکایت:ایک شخْص کا بیان ہے: میں نے حضرت حمّاد بن سَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ارشادفرمایا: مجھے بخْش دیا،مجھ پر رَحْم فرمایا اور جنّت الفِردَوس میں مجھے جگہ عطا فرمائی۔میں نے کہا:کس سبب سے؟ارشادفرمایا:یہ کلِمات  کہنے کے سبب:يَاذَاالطَّوْلِ،يَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ،يَاكَرِيمُ اَسْكِنِّي الْفِرْدَوْسَ (اے بڑے اِنعام والے ،اے عظمت وبزُرگی والے، اے کریم، مجھے جنّت الفِردوس میں جگہ عطا فرما) پس اُس نے مجھے جنّت الفِردَوس میں جگہ عطا فرمائی۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج3، ص157)

آپ کاپیشہ:آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبزّاز(یعنی کپڑے بیچنے کا کام کرتے)تھے۔(سیر اعلام النبلاء،ج7، ص336)ایک بزرگ کا بیان ہے کہ  میں بازار میں حضرت حمّاد بنسَلَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آتا تھا،آپ جب کپڑے پر ایک یا  دو رَتّی(مقدار)نفع کما لیتے تو اپنی ٹوکری باندھ لیتے اور پھر کچھ نہ بیچتے، میرے خیال میں  آپ کی ضرورت اتنی ہی ہو گی کیونکہ جب آپ اپنی ضرورت کے مطابق حاصل کر لیتے تھے تو اس پربالکل بھی اضافہ نہیں کرتے تھے۔(حلیۃ الاولیاء،ج6، ص270، رقم:8567)اور اتنا سا کمانے کے بعد اگر آپ کو دو دینار کی بھی پیشکش کی جاتی تواس کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے۔(حلیۃ الاولیاء،ج6، ص270،رقم:8568)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کردہ سیرت  سےمعلوم ہوا کہ بزرگانِ دین نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے تجارت کو اپنی ضرورت سمجھا،اسے اپنامقصد نہیں بنایااور اس میں مشغول ہوکراپنی آخرت سے غافل نہیں ہوئےکیونکہ انہیں معلوم تھا کہ  دنیا کے نفع کے مقابلے میں آخرت کا نفع زیادہ بہتر ہےلیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیا کو آخرت پر ترجیح دے دیتے ہیں اور کسبِ معاش میں مشغولیت کے باعث نماز پڑھنے وغیرہ اَحکامِ شریعت پر عمل میں سُستی و کوتاہی کرتے ہیں۔ امام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالی فرماتے ہیں: دنیا میں لوگوں کی تین اقسام ہیں:(1)وہ  شخص جسے حُصولِ رزق نے آخرت سے غافل رکھا،ایسا شخص ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔ (2)وہ جسے آخرت نے طلبِ رزق سے غافل کردیا،ایسا شخص کامیاب لوگوں میں سے ہے(3)وہ جو رزق کے حُصول  میں اپنی آخرت کی خاطر مشغول ہوتا ہے۔ایسا شخص اعتدال و مِیانہ روی اختیار کرنے والوں میں سے ہے اور اِعتِدال کا مرتبہ وہی شخص پاسکتا ہے جو روزی کی طلب میں دُرست راہ پر چلے اور دنیا کو وہی شخص آخرت کے لیے وسیلہ اور ذریعہ  بناسکتا ہے جو اس کی طلب میں  آدابِِ شریعت کا خیال رکھے۔(احیاء العلوم،ج2 ، ص78)

Share

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم

جہاں تاجر اور تجارت ہوتی ہےوہیں ان کے کچھ نہ کچھ ملازمین بھی ہوتے ہیں،اسلام ”انسانی  حقوق“  کا محافظ ہے چنانچہ وہ تاجر وملازم دونوں کے حقوق اورذمہ داریاں بھی بیان کرتا ہے۔ ملازمین سے احسان و بھلائی کے بارے میں اسلامی تعلیمات مُلاحظہ کیجئے:

 (1)مُعاہَدے کی پاسداری :نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکام پورا لے کر مزدور کو اُجرت ادا نہ کرنے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک بڑا گناہ قرار دیا ہے۔(مستدرک ،ج2، ص538، حدیث: 2797 ، ملتقطاً) لہٰذاجب کوئی مُلازم رکھاجائےتو پہلے ہی کام،وقتِ اِجارہ اور مُشاہَرہ (تنخواہ)  وغیرہ طے کرلیجئےاورمقررہ وقت سے زائد بغیر اُجرت کے کام نہ لیجئے، اگر کبھی باہمی رضا مندی سے اضافی  وقت کام کروائیں تواس کی اُجرت بھی لازمی ادا کیجئے۔

(2)مُشاہَرہ(Salary) کی بَروقت ادائیگی:ملازمین کا مشاہرہ (Salary) بَروَقت ادا کیجئے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے: مزدورکا پسینہخشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری اَداکرو۔(ابن ماجہ،ج3، ص162،حدیث: 2443)

 (3)دل جوئی کیجئے:ملازمین  کی اچھی کارکردگی  پران کی حوصلہ اَفزائی  کیجئے کہ اس سے کام میں بہتری  آئے گی  اوراِدارہ ترقی کرے گا،ممکن ہوتو ان کادل خوش کرنےکی نِیَّت سے تحفہ بھی  دیجئےکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک فرائض کے بعدسب سے افضل عمل مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے۔(معجم کبیر،ج11، ص59،رقم:11079)

(4)عفْو ودرگزر:ملازمین سے  کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو سب کے سامنے جھاڑ پلانے ،ڈرانے دھمکانے کے بجائے  عفوودرگزر سے کام لیجئے،حکایت:حضرتِ سَیّدُناعلیُّ المُرتضیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاایک غُلام تین بار بُلانے پر بھی(جان بوجھ کر) نہ آیا تو آپ اس کے پاس گئے اوراسے لیٹا ہوادیکھ کرفرمایا :کیا تم نے میری آواز نہیں سُنی؟ اس نے کہا:سُنی تھی ،مگر آپ کی طرف سے سَزا سے بے خوف تھا، اس لیے جواب نہ دیا ۔یہ سُن کرآپ نے(معاف کرتے ہوئے) اُسے آزاد  کردیا۔ (احیاء العلوم،ج3، ص88)

(5)شرعی مسائل سے آگاہی: اِدارے کے قوانین  کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اِجارے کے شرعی مسائل سے بھی آگاہ رکھئے تاکہ ان کا لقمۂ حرام کی وعیدوں  سے بچتے ہوئے حلال کمانے   کا ذہن  بھی بنا رہے ۔([1])

(6) ملازمین کی تیمارداری:ملازمین میں سے کوئی بیمار ہوجائے تو ان کی عیادت اورممکن ہوتو خیرخواہی کی نِیَّت سے  مناسب علاج  کی سہولت فراہم کیجئے۔

(7)ملازمین کو کمتر نہ سمجھیں:سیٹھ اپنے ملازمین کوحقیر وکمتر نہ سمجھے بلکہ بحیثیتِ مسلمان  اپنا بھائی جانے تا کہ انہیں کمتری کا احساس نہ ہو۔

حکایت :امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر ہفتے مدینَۂ مُنوَّرہ کے اَطراف میں باغوں اور کھیتوں میں جاتے اور وہاں کام کرنے والے کسی غلام کو  وزن وغیرہ اٹھانے میں  مشقت ہوتی توآپ اس کی مُعاوَنَت فرماتے۔(اتحاف السادۃ المتقین، ج7، ص303)

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں اپنے مُلازمین کے ساتھ حُسنِ سُلُوک سے پیش آنے اور مشکل وقت میں ان کی مددکرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  



[1] حرام وحلال کے بارے میں معلومات کے لئے امیر اہلسنّت کے رسالے ’’حلال طریقے سے کمانے کے 50مدنی پھول ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے۔

Share

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم

جہاں تاجر کو اپنے ملازِمِین کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے وہیں ملازمین کو بھی تاجروں کے حُقوق پورے کرنے کی تلقین ہے۔ دِیگر پیشوں کی طرح  ملازَمَت کے پیشے میں  بھی جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں وہاں  بُرے بھی ہوتے ہیں ۔اچھا مُلازِم وہ ہے جو اِحساسِ ذِمَّہ داری کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے اپنے کام کو عُمدَگی کے  ساتھ بجا لائے۔ اچھے  مُلازِم کی ایک خُصُوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کام  کو نہایت تیزی یا پھر کم اَزْکم مُعْتَدِل(درمیانی) حالت میں کرنے کی کوشش کرے کیونکہ سُستی کے ساتھ کام کرنے والا گنہگار ہے۔ (ماخوذ ازفتاویٰ رضویہ،ج19، ص407)

مُلازِم کو چاہیے کہ دَورانِ ڈیوٹی چاق چَوبند رہے ،رات دیر سے سونے یا نفل روزہ رکھنے وغیرہ  کے باعث اگر کام میں کوتاہی  ہوتی ہو تو اِن اَفعال سے خود کو بچائے۔

حکایت: منقول ہے  کہ حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  اُجرت پر گارے کی دیوار بناتے تھے اور اس کے بدلے میں آپ کو ایک روٹی اُجرت میں ملتی تھی کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا پسند فرماتےتھے۔ ایک مرتبہ کچھ لوگ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اُس وقت آپ عَلَیْہِ السَّلَام کھانا تناول فرما رہے تھے،آپ نے اُنہیں کھانے کی دعوت نہ دی تو ان لوگوں کوتعجب ہوا کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی سخاوت  اور  زُہد بہت مشہور تھا۔ اِسْتِفْسَار کرنے پر اِرشاد فرمایا: میں ایک قوم کے ہاں اُجرت پر کام کرتا ہوں اور وہ مجھے ایک روٹی دیتے ہیں تاکہ مجھے یہ کام  کرنے میں طاقت مُہَیّا ہو سکے، اگر میں تمہیں اپنے حصّے کی روٹی میں سے کچھ کھلاتا تو یقیناً نہ تمہیں کفایت کرتی اور نہ مجھے قوّت حاصل ہوتی، اَلبتہ اس وجہ سے میرے کام  میں کمزور ی آجاتی۔(احیاءُ العلوم ،ج5، ص100)

اچھے مُلازِم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مالک کے  کام کو اپنا کام سمجھتا  ہے اور مالک کی غیرِ موجودگی میں بھی  اس کے کام  میں کسی قسم کی  کوتاہی واقع نہیں ہونے دیتا ۔ گویا اُس کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اگرچہ میرا مالک مجھے نہیں دیکھ رہا مگر اللہ تو دیکھ رہا ہے،اِس ضِمَن میں ایک دِلچسپ حکایت ملاحظہ کیجئے:

حکایت:حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن دینار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ  میں ایک مرتبہ اَمیرُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہمراہ مَکۂ مکرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی طرف جا رہا تھا کہ ایک جگہ ہم تھوڑی دیر آرام کے لئے رُک گئے۔ اتنے میں ایک چرواہا بکریاں لئے ہوئے پاس سے  گزرا۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس سے کہا: ایک بکری میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ اُس نے عرض کی: یہ بکریاں میری ذاتی مِلک نہیں ہیں(میں ان کا مالِک نہیں ہوں)  بلکہ میں تو کسی کا غُلام ہوں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (بطورِ آزمائش ) فرمایا:مالک سے کہہ دینا کہ ایک بکری کو بھیڑیا (Wolf) لے گیا ہے، اُسے کیا پتا چلے گا؟ چرواہے نے جواب دیا: اگر اسے نہ بھی معلوم ہو تو کیا اللہتَعَالٰی  کو بھی خبر نہیں ہے؟یہ سُن کر حضرتِ سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ زارو قطار رونے لگے اور اس چرواہے کے مالِک کو بُلوا کر اس کی قیمت ادا کی اور اُسے آزاد کرتے ہوئے فرمایا:اس بات نے جس طرح دُنیا میں تجھے غلامی سے نجات بخشی ہے اسی طرح آخرت میں بھی اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اس بات کے سبب تو نجات پا جائے گا۔(کیمیائے سعادت،ج2، ص886)

Share

Articles

Comments


Security Code