سایۂ مصطفےٰ مایۂ اصطفےٰ/عزّ و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے مشہورِ زمانہ سلام ”مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ سے تین اَشعار مع شرح پیشِ خدمت ہیں:

(1)

سایۂ مصطَفٰے مایۂ اِصطَفٰے

عِزّ و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش،ص311)

بعض الفاظ کے معانی: مایہ: سرمایہ۔ اِصطَفٰے: چُنا ہوا۔ عزّ: عزت۔ ناز: فخر۔

معنیٰ و مفہوم: حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے سائے کی طرح ہیں (کہ ظاہری زندگی میں بھی ساتھ رہے اور مزار میں بھی قریب ہیں)، آپ پسندیدہ لوگوں کا سرمایہ ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس انداز میں خِلافت فرمائی کہ خود خِلافت کو آپ سے عزت حاصل ہوئی اور وہ آپ پر فخْر کرتی ہے، آپ پر لاکھوں سلام ہوں۔

(2)

یعنی اس اَفْضَلُ الْخَلۡق بَعْدَ الرُّسُل

ثَانِیَ اثْنَیْنِ ہجرت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش،ص312)

بعض الفاظ کے معانی: اَفْضَلُ الْخَلْق بَعْدَ الرُّسُل: رسولوں کے بعد تمام مخلوق سے افضل۔ ثَانِیَ اثْنَیْنِ: دو میں سے دوسرا۔

معنیٰ و مفہوم: حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  انبیا و مُرسَلین عَلَیْھِمُ السَّلَام  کے بعد ساری مخلوق سے افضل ہیں اور آپ سفرِ ہجرت میں مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے رفیق (یعنی ساتھی) تھے، آپ پر لاکھوں سلام ہوں۔ 

مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِ ی فر ماتے ہیں: بعدِ اَنبیا و مُرسَلین، تمام مخلوقاتِ الٰہی اِنس و جن و مَلَک (یعنی انسانوں ، جِنّوں اور فرشتوں) سے افضل صِدِّیقِ اکبر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) ہیں۔(بہارِ شریعت،ج1، ص240)

ثَانِیَ اثْنَیْنِ: اس شعر میں ثَانِیَ اثْنَیْنِ کا لفظ اس آیتِ مبارکہ سے ماخوذ ہے: ﴿ ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غارمیں تھے۔ (پ 10، التوبہ: 40)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(3)

اَصْدَقُ الصَّادِقِیْں سَیِّدُ الْمُتَّقِیْں

چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش،ص312)

بعض الفاظ کے معانی: اَصْدَقُ الصَّادِقِیں: تمام سچوں سے زیادہ سچے۔ سَیِّدُالْمُتَّقِیْں: پرہیزگاروں کے سردار۔ چشم: آنکھ۔ گوش: کان۔ وزارت: نائب ہونا۔

معنیٰ و مفہوم:حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ”صِدِّیْق“ یعنی انتہائی سچے اور پرہیزگارو ں کے امام ہیں۔ آپ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے وزیر اور آپ کے لئے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں،آپ پر لاکھوں سلام ہوں۔

آپ کو صِدِّیْق کا لقب بارگاہِ خداوندی سے عطا ہوا جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ہے: یَااَبَابَکْر!اِنَّ اللہَ قَدْ سَمَّاکَ الصِّدِّیْق یعنی اے ابوبکر! بے شک اللہ تَعَالٰی نے تمہارا نام صِدِّیْق رکھا ہے۔(الاصابۃ،ج8، ص332)

آپ کا ”اَتْقٰی“ یعنی سب سے بڑا پرہیزگار ہونا اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷)ترجمۂ کنز الایمان: اور بہت جلد اس (دوزخ) سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار (ہے)۔(پ 30، اللیل: 17)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) مُفسِّرین کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں ”اَتْقٰی یعنی سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ذاتِ گرامی ہے۔(تفسیرِ کبیر،ج11، ص187)

حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا وزیر اور اُن کے نزدیک کان اور آنکھ کی طرح اہم ہونا اِن دوفرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم میں بیان کیا گیا ہے:(1)اَبُوْ بَکْرٍ وَّعُمَرُ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّاسِ۔ یعنی ابوبکر و عمر کی حیثیت میرے نزدیک ایسی ہے جیسی سر میں کان اور آنکھ کی۔(کنزالعمال،ج6، ص257، جزء: 11، حدیث: 32652) (2)ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل و میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام جبکہ زمین والوں میں سے ابوبکر و عمر ہیں(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)۔( ترمذی،ج5، ص382، حدیث: 3700)

Share

Articles

Comments


Security Code