کامیابی کے نسخے

نوجوان ہو یا بوڑھا،مرد ہویا عورت ! کامیابی کی خواہش کس کو نہیں ہوتی ، لیکن ضروری نہیں کہ ہرشخص کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے ۔البتہ کچھ صِفات ایسی ہیں جنہیں اپنا کر ہم  کامیابی کی راہ پر چل سکتے ہیں ، مثلاً

(1)وقت کی قدر کرنا:وقت مال سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے ، مال ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ کمایا جاسکتا ہے لیکن گیا وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آتا۔بعض لوگ کسی کو پائی پیسہ دینے کو تیار نہیں ہوتے لیکن اپناقیمتی وقت فُضول قسم کے لوگوں کی بیٹھکوں میں خوشی خوشی لُٹادیتے ہیں۔(فرضی مثال)’’ایک سینیئر کو جب دفتر میں کسی جونیئر سے کام ہوتا تو خود اُٹھ کر اس کی ٹیبل پر جاتا اورکام ہوتے ہی واپَس اپنی جگہ لَوٹ آتا،کسی نے اس کا سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ اگر میں انہیں اپنے کمرے میں بُلاؤں گا تو وہ آئیں گے میرے کہنے پر لیکن جائیں گے اپنی مرضی سے ،یوں میرا وقت ضائع ہوگا، اس لئے میں اپنا وقت بچانے کے لئے خود ان کے پاس چلا جاتا ہوں اور کام ہوتے ہی واپس آجاتا ہوں۔‘‘میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وقت کی قدر وقیمت پہچانئے ، اپنے شب وروز کا جَدْوَل(Shedule) بنائیے، جس میں صِرف دُنیاوی کام ہی نہ ہوں بلکہ اوّلاًنمازیں ہوں،تلاوتِ قراٰن بھی ہو، دینی کتابوں کا مُطالَعہ بھی ہو اور یاد رہے کہ گناہ کا کوئی کام ہمارے جَدْوَل میں نہیں ہونا چاہئے۔پھر اس جَدْوَل کے مطابق عمل کیجئے ، کم وقت میں بہت سے کام نِپَٹ جائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ

(2)اپنا رویّہ مُثْبَت رکھیں : کیسے ہی مایوس کُن حالات ہوں کبھی بھی مَنْفِی قدم نہ اُٹھائیں کہ کامیابی کا چشمہ ناکامی کے پہاڑوں سے بھی پُھوٹ سکتا ہے ۔ مُثْبَت رویّے کو اس مثال سےسمجھیں کہ انڈے ،آلواور چائے کی پتّی کو الگ الگ پانیوں میں اُبالا جائے تو انڈا اپنی نرمی چھوڑ کر سخت ہوجائے گا،آلو اپنی سختی چھوڑ کر نرم ہوجائے گاجبکہ پتّی پانی میں اپنا رنگ گھول کر اسے اپنے رنگ میں رنگ لے گی ، تو مُثْبَت رویّے کی مثال چائے کی پتّی کی سی ہے جو سختی کرنے پر اپنے اِردگرد کے ماحول کو بھی خوشبودار کر دیتی ہے، سوچئے! آپ کونسا رویّہ اختیار کرناچاہتے ہیں؟

(3)خود اِحتسابی :ہر شخص خُوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی میں خوبیاں زیادہ ہوتی ہیں تو کسی میں خامیاں، چنانچہ کچھ نہ کچھ خامیاں آپ میں بھی موجود ہوں گی، انہیں جاننے کے لئے تھوڑا وقت نکالئے اور تنہائی میں  خود کو ”ضمیر کی عدالت“ میں پیش کردیں ، جہاں سائل ،وکیل اورجج ایک ہی شخص ہوگا اور وہ ہوں گے آپ!اب ضمیر کی عدالت سے جن خامیوں کی نشاندہی ہو،ان کی لِسٹ بنالیں مثلاً میں جلدی غصے میں آجاتا ہوں، دوسروں سے ہمدردی نہیں رکھتا، کسی کی غمی خوشی میں شریک نہیں ہوتا، کسی کی بات کاٹ کر اپنی بات شُروع کردیتا ہوں، مجھے بولنا پسند ہے، کسی کی بات سُننے کا حوصلہ نہیں رکھتا وغیرہ وغیرہ۔ اب غور کیجئے کہ آپ ان خامیوں سے کس طرح چُھٹکارا پا سکتے ہیں ؟پھر عملی کوشش شروع کردیجئے اور مُناسب مدّت مثلاً ایک ہفتے بعد اس لِسٹ کو چیک کیجئے کہ آپ نے کتنی خامیوں پر کس قدر قابو پایا !

(4) اِصلاح قبول کرنا: کوئی آپ کی اِصلاح کرے تو اَڑی نہ کیجئے، اَنا کا مسئلہ نہ بنائیے بلکہ اپنی اِصلاح کرلیجئے۔

فرضی حکایت:ایک شخص آرے سے درخت کا ’’تنا ‘‘کاٹ رہا تھا مگر اس کی دَھار تیز نہیں تھی ، ایک تَجْرِبہ کار لکّڑہارا اس کے قریب سے گزرا تو اُسے سمجھایا کہ تیز دَھار والا آرا استعمال کروورنہ اس تنے کو کاٹنے میں بہت وقت لگے گا، اس شخص نے سُنی اَن سُنی کردی ،جب بہت وقت گزر گیااور رات سر پر آگئی  تو اسے اِحساس ہوا کہ وہ لکّڑہارا دُرُست کہہ رہا تھا ، اب اس نے پہلے اپنے آرے کی دَھار تیز کی پھر تنا کاٹا تو جلدی اپنے کام سے فارِغ ہوگیا ۔ اگر وہ اسی وقت لکّڑہارے کی بات مان لیتا تو وقت ضائع نہ ہوتا۔غور کیجئے! کہیں ہمارا مِزاج بھی ایسا تو نہیں کہ اِصلاح کی بات فوراً نہ مانتے ہوں مگر بعد میں سمجھ آجاتی ہو، جب اِصلاح کرنی ہی ہے تو اسی وقت کیوں نہ کرلی جائے۔

(5)سُکون اور ٹھہراؤ: بعض لوگ ہربات میں جلدبازی کا مُظاہَرہ کرتے ہیں اور اکثر کام بِگاڑ دیتے ہیں،جبکہ بعض لوگ اِطمینان اور سُکون سے کام کرتے ہیں ،ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ ہوتا ہے چنانچہ ان کی کامیابیاں ناکامیوں سے زیادہ ہوتی ہیں ۔مثلاً ٹریفک جام میں جو ڈرائیور لین کی پابندی نہیں کرتے ،جانے کے راستے سے آنا شروع کردیتے ہیں ،وہ خود بھی پھنستے ہیں اور دوسروں کی پریشانی بھی بڑھا دیتے ہیں جبکہ جو ڈرائیور لین کی پابندی کرتے ہیں، غلط جگہ گاڑی نہیں پھنساتے وہ خود بھی ٹریفک جام سے نکل جاتے ہیں اور دوسروں کے لئے پریشانی کا سبب بھی نہیں بنتے ۔یاد رکھئے ! پانی کا تالاب بھی تھوڑا تھوڑا کرکے بھرتا ہے،ہر کام چُٹکی بجاتے ہی ہو جائے، اس کی خواہش تو کی جاسکتی ہے مگر عملاً ایسا ممکن نہیں ہے۔(مزید پڑھنے کے لئے’’ماہنامہ فیضانِ مدینہ ‘‘کے آئندہ شُمارے کا اِنتظار کیجئے )

 

Share

Articles

Comments


Security Code