سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

امیرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دُعائے مصطفےٰ کا ثمرہ اور مُرادِ مصطفےٰ ہیں،(ابن ماجہ،ص31، حدیث: 105) آپ کو دیکھ کر شیطان اپنا راستہ بدل لیتا، (بخاری، ص 840، حدیث: 3294) آپ کے اِنقلابی کارناموں کو چند سطور میں بیان کرنا مشکل ہے، بہرحال آپ کے چند انقلابی کارنامے یہ ہیں:

٭ہجری تاریخ کا آغاز کیا (تہذیب الاسماء،ج1،20) ٭خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو جمعِ قراٰن کا مشورہ دیا (بخاری،ص 1291، حدیث: 4986)٭مُعاشرتی جرائم کی  روک تھام کیلئے مُـخْتَلِف شعبہ جات قائم کرکے اسلامی سزاؤں کا نَفاذ کیا (فیضانِ فاروق اعظم،ج2، ص395 ماخوذاً،تفسیر بغوی،ج1، ص669،تہذیب الاسماء،ج2، ص332 ملخصاً)  ٭کسی کوحاکم مُقَرَّر کرتےتو اُس کے اَثاثہ جات کی تفصیل لکھ لیتے(طبقات ابن سعد،ج3، ص233)اور حکمرانوں کی باز پُرس بھی فرمایا کرتے (الزہد لھنّاد، ص415)٭اَہْلِ عِلْم اور اَہْلِ رائے پر مُشْتَمِل ایک مجلسِ شوریٰ بنائی جس میں تمام ملکی و قومی مسائل زیرِ بحث لائے جاتے اور اتفاقِ رائے سے فیصلے کئے جاتے (فیضانِ فاروق اعظم،ج2، ص194ماخوذاً) ٭عدالتی نِظام کو اِسْتِحکام بخشا اور مُـخْتَلِف علاقوں میں جج مُقَرَّر فرمائے(المرجع السابق) ٭باقاعدہ تراویح کی جَمَاعَت قائم کروائی (بخاری، ص525،حدیث: 2010) ٭آپ کی کوشش سے نَمازِ جَنازہ کی 4 تکبیرات پر اِجماع ہوا(مصنف ابن ابی شیبہ،ج3، ص186، حدیث:30) ٭تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مُقَرَّر فرمائی(الاوائل للعسکری،ص177) ٭ائمّہ ومُؤَذِّنِین، مُعَلِّمِیْن ومُدَرِّسِیْن کے مشاہرے مقرر فرمائے(تاریخ بغداد،ج2، ص79، الرقم: 460) ٭متفرق لوگوں حتی کہ پیدا ہونے والے بچوں کے وَظائف بھی مُقَرَّر فرمائے (طبقات ابن سعد،ج3، ص214، البدایۃ والنہایہ، ج4، ص145) ٭باقاعدہ بَیت المال جس میں مال جمع کر کے حساب کتاب بھی رکھا گیا، وہ آپ کے عہدِ خلافت میں ہی قائم ہوا(فیضان فاروق اعظم،ج2، ص784ماخوذاً) ٭آپ کےعہدِ خلافت میں 1036 شہر مع مضافات فتح ہوئے، 4000 مساجد کی تعمیر ہوئی،900 منبر تیار ہوئے(فتاویٰ رضویہ،ج5،ص 560) ٭ویران اوربے آباد زمینوں کی آباد کاری کے لئے نئے احکام جاری کئے(فیضانِ فاروق اعظم،ج2، ص807ماخوذاً)٭کئی نئے شہر بسائے، مثلاً علم و فن کا مرکز رہنے والا شہر  کوفہ بھی آپ کے دور ِخلافت میں بسایا گیا(تلقیح فہومِ اہلِ الاَثر،ص337، فیضان فاروق اعظم،ج2، ص794)٭مَردَم شُماری کروائی (تاریخ طبری،ج 2، ص570) ٭یتیم بچوں کی پرورش کا اِنْتِظام کیا (موطا امام مالک، ص260، حدیث:1482) ٭ راستوں میں مُسافر خانے اور غلے کے گودام بنوائے جن سے مسافروں کی مدد کی جاتی(طبقات  کبری،ج3، ص214) ٭مُـخْتَلِف شہروں میں بھی مہمان ومسافر خانےبنوائے(فتوح البلدان، ص391)٭خبر رسانی کا نِظام پختہ کیا(تاریخ طبری،ج2، ص491) ٭عُمَّال (گورنرز) کیلئے حکومتی اقدامات مُتَعَیَّن فرمائے(ازالۃ الخلفاء،ج3، ص231)٭اِحتساب مکتب بنایا (فیضان فاروق اعظم،ج1، ص744) ٭خراج کی وصولی کیلئے جنگلوں اور پہاڑوں کی پیمائش کروائی(طبقات کبریٰ،ج3، ص214) ٭اِسلامی سِکّے رائج فرمائے(النقود الاسلامیہ للمقریزی، ص4) ٭حربی تاجروں کو بشرطِ عُشر دارالاسلام میں مسلمانوں کے ساتھ تجارت کی اِجازَت عطا فرمائی(کتاب الخراج لابی یوسف، ص135) ٭اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کیلئے چھ رُکنی مجلسِ شوریٰ قائم فرمائی۔ (مسلم، ص 207، حدیث: 567)

Share

Articles

Comments


Security Code