بیر اور مٹر

غریبوں کا سیب (بیر(Jujube) اور اس کے فوائد)

بیر ایک شیریں اور غِذائیت کے لحاظ سے عمدہ پھل ہے، کچا بیر نقصان دہ ہے، طبّی اعتبار سےپکا ہوا میٹھا بیر تاثیر میں کسی طرح بھی سیب سے کم  نہیں، اسی لئے گاجر کی طرح اسے بھی ”غریبوں کا سیب“ کہا جاتا ہے۔بیر کے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں:

بیر مِعدے کی کئی خرابیوں مثلاً جلن و تیزابیت میں مُفید ہے۔ ٭انتڑیوں کو تَقوِیَت دیتا، بینائی تیز کرتا، تھکن و بھوک کی کمی کو دُور کرتا ہے۔ ٭بیر کے سَتّو آنتوں کے اَلسر میں بہت مُفید ہیں۔ ٭ٹوٹی ہوئی ہڈی پر بیر کی گٹھلی کے قِوام (یعنی گاڑھے شیرے) کا لِیپ کرنا ہڈی کے جوڑنے اور دَرْد دُور کرنے میں مُفید ہے۔ ٭اِس قِوام کو بچوں کے تلوؤں پر لیپ کرنے سے وہ جلدی چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ٭بیر کا رَس دل کو تسکین دیتا، بے چینی و گھبراہٹ کو دُور کرتا ہے۔ ٭بیر کا جوس تِل کے تیل میں مِلا کر جوڑوں پر مالش کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ٭بیر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مَرجاتے ہیں۔ ٭بیر اَمراضِ جگر، گُردوں کی خرابی، جِسمانی کمزوری، ہاضمے کی خرابی دُور کرنے میں بھی مفید ہے۔(پھولوں، پھلوں اور سبزیوں سے علاج، ص 198، مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ)

بیری کے پتوں کے فوائد

بیری کے پتوں کے بھی کثیر فوائد ہیں، اِن کا استعمال ناسور(وہ زخم جو ختم نہ ہوتا ہو)، پھوڑے پھُنسی، کھانسی، دَمَہ، نکسیر، بالوں کا گرنا، کینسر، شوگر، TB، دِل، گُردے  کے اَمراض میں مفید ہے،  بیری کے پتوں کو پانی میں جوش دے کر  نہانا جادو سے حفاظت  میں بھی مؤثر ہے، تفصیل کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ”نیکی کی دعوت“ ص 306 اور ”آقا کا مہینا“ ص 20 (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے۔

”مٹر“ (Green Peas) اور اُس کے فوائد

مٹر ایک خوش رنگ، ذائقہ دار، عوام و خواص میں مقبول اور موسَمِ سرما میں پائی جانے والی سبزی ہے، جسے مختلف چیزوں کے ساتھ مختلف انداز میں پکایا جاتا ہے۔ اِس کی تاثیرگرم خُشْک ہے، مٹر کے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں:

٭مٹر خون پیدا کرتا ہے۔ ٭جسم پر گوشت بڑھاتا ہے۔ ٭قبض کُشا ہے۔ ٭وَرم کو دُور کرتا ہے۔ ٭بلغم کو دُور کرتا ہے۔ ٭مٹر میں آئرن (Iron) اور مختلف وِٹامنز (Vitamins) ہوتے ہیں جو جسم کو تر و تازہ رکھتے، مضبوط بناتے اور بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ٭مٹر میں کیلوریز (Calories) کم اور فائبر (Fiber) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو وزن گھٹانے میں بہت مُعاوِن ہے۔ ٭اُبلے اور پِسے ہوئے مٹروں کا پیسٹ چہرے پر لگانے سے جُھریاں، داغ دَھبّے اور دانے، پھنسیاں (Pimples) ختم ہوجاتے ہیں۔ ٭مٹر میں پائے جانے والے اجزاء کولیسٹرول (Cholesterol) کو کم کرتے اور اُس سے پیدا ہونے والی بیماریوں (جیسے ہارٹ اٹیک وغیرہ) کے خلاف لڑتے ہیں، نیز شوگر (Diabetes) کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ ٭چوٹ والے یا جلے ہوئے زخم پر پِسے ہوئے مٹروں کا پیسٹ لگانا جلن میں کمی لاتا ہے۔ ٭مٹر کا اِستعمال پیٹ اور آنتوں کے کینسر سے بچاتا ہے۔ ٭مٹر میں Folic Acid ہوتا ہے جو زمانۂ حمل میں زچّہ و بچّہ دونوں کے لئے بہت مفید ہے۔ ٭اگر کسی کو بُھولنے کی بیماری ہو تو اُسے مٹر اِستعمال کرنے چاہئیں کہ مٹر نہ صرف دماغ کو مضبوط کرتے بلکہ یاد داشت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ ٭کچے مٹر نہ کھائیں کہ ان سے بعض لوگوں کو پیٹ درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔(مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ)

نوٹ: تمام دوائیں اپنے طبیب (ڈاکٹر) کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

Share

Articles

Comments


Security Code